وہ انقلاب کی علامت تھی، وہ آجوئی کی پیغمبر تھی، وہ راستے کا چراغ تھی، وہ مزاحمت کا نشان تھی، وہ حق کی علمبردار تھی، وہ سر زمین کی بیٹی تھی، وہ گلزمیں کی وارث تھی، وہ اپنے وطن کی محبوب تھی، وہ ہر بلوچ کی دل کی دھڑکن تھی وہ بانک تھی، وہ گودی تھی، وہ کریمہ تھی
زبیر بولانی