کہتے ہیں عورت اگر ٹھنڈی ہو جذبات سے خالی، لمس سے دور ، لفظوں میں کٹی پھٹی
تو وہ مرد کو روز تھوڑا تھوڑا مارتی ہے
نہ خنجر سے، نہ زہر سے بس خاموشی سے
ایسا مرد رات کو دیر سے گھر آتا ہے
کیوں؟
کیونکہ اسے معلوم ہے کہ دروازہ کھولنے والا کوئی ایسا چہرہ نہیں
جس کی آنکھوں میں سوال ہو
"تم ٹھیک ہو؟"
وہ ٹی وی آن کرتا ہے
شور ہو جائے تو اندر کی چپ کچھ دیر کے لیے دَب جائے
جس مرد کے بھاگے میں ٹھنڈی عورت ہو
اسے جسم تو ملتا ہے،
لیکن دل کی گرمی نہیں،
نہ وہ انگلیاں جو پیشانی پر پھیر کر کہیں:
" میں ہوں نا "
نہ وہ گود جہاں وہ اپنا سر رکھ کر چند لمحے "مرد" نہیں، صرف "انسان" بن جائے
پھر وہ مرد آہستہ آہستہ بدلنے لگتا ہے
وہ قہقہے جو دوستوں کے بیچ لگتے تھے، اب خاموش مسکراہٹ بن جاتے ہیں
وہ محبت جو کبھی آنکھوں سے چھلکتی تھی،
اب صرف موبائل کی اسکرین پہ Scroll کرتی ہے
وہ مرد جو کبھی مکمل تھا اب بس کماؤ مشین بن کر رہ جاتا ہے
وہ کہتا کچھ نہیں
مگر اندر اندر پگھلتا رہتا ہے
اک لاوا سا ہے، جو نہ پھٹتا ہے، نہ ٹھنڈا ہوتا
مرد کا وجود صرف نسل نہیں بڑھانا ہے
اگر اسے وقت پر لمس، لفظ، اور تسلی نہ دی جائے
تو اندر کی خاموشی زہر بن کر مرد کے اندر گھلتی ہے،
اور وہ مرد جیتے جی مر جاتا ہے
اور پھر اک دن ایسا مرد کُھو جاتا ہے
ایسا کھو جاتا ہے کہ عورت لاکھ چیخے،
"بدل گئے ہو تم!"
مگر حقیقت یہ ہے کہ
"وہ باقی ہی نہیں رہا، جسے آپ نے ٹھنڈے سلوک میں دفن کر دیا تھا"