پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں ھونے والا دفاعی معاہدہ پوری مسلم دنیا کے لئے نہایت خوشی کی خبر ھے تینوں حکومتیں اس تاریخ ساز معاھدے پر جو بیت اللہ کے بالکل قریب ھوا مبارکباد کی مستحق ہیں اللہ تعالی اسکو امت مسلمہ کے اتحاد کا ذریعہ بنائیں آمین
اس سے بھی بات کو سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ باقی یہ سلسلہ احباب کو سمجھانے اور مشکلات کو زائل کرنے کیلئے شروع کیا ہے بہت سارے سوالا خود بخود زائل ہوں گے اگر آپ تسلسل سے جڑے رہیں گے ۔ ان شاءاللہ العزیز
قسط نمبر 2
پوسٹ، ری پوسٹ اور Quote Post میں اصل فرق کیا ہے؟
ساتھیو!
X پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے تین الفاظ ہیں:
Post، Repost اور Quote Post
مگر اکثر لوگ تینوں کا فرق واضح طور پر نہیں جانتے۔
1۔ Post
آپ خود کوئی تحریر لکھ کر شائع کرتے ہیں، وہ آپ کی Original Post ہے۔
مثلاً:
بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں سیاسی مکالمے اور سنجیدہ مشاورت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ آپ کی اپنی پوسٹ ہے۔
عام X صارف کے لیے بنیادی پوسٹ کی حد 280 characters ہے۔ Premium یعنی بلیو ٹک والے اکاؤنٹ کے صارفین کو Longer Posts کی سہولت حاصل ہے۔ X کی موجودہ معلومات کے مطابق Premium Longer Posts 25,000 characters تک ہوسکتی ہیں۔
2۔ Repost
کسی دوسرے شخص کی پوسٹ کو اپنے followers تک دوبارہ پہنچانا Repost ہے۔
3۔ Quote Post
کسی کی پوسٹ صرف آگے پہنچانے کے بجائے اس کے ساتھ اپنی رائے، وضاحت یا تبصرہ بھی شامل کرنا Quote Post ہے۔
مثلاً کسی رہنما کی پوسٹ کے ساتھ آپ لکھیں:
یہ بات موجودہ حالات میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے، سیاسی قوتوں کو مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
یہ Quote Post ہے۔
یاد رکھیں: ہر چیز Repost کرنا ضروری نہیں، اور ہر چیز Quote کرنا بھی ضروری نہیں۔ اصل مقصد مناسب جگہ پر مناسب interaction ہے۔
اگلی قسط: ایک پوسٹ میں کتنی تصاویر، ویڈیو اور GIF لگ سکتے ہیں اور اچھی پوسٹ کیسے لکھی جائے۔ ان شاءاللہ العزیز
#سمیع_سواتی
پریس کلب کوئٹہ: امیرِ جمعیت علمائے اسلام صوبہ بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع صاحب، آل پارٹیز کے رہنماؤں کے ہمراہ بلوچستان کی موجودہ مخدوش صورتحال اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
احباب جمعیت کی آگاہی کے لئے
احباب! ساتھیوں کی ٹرینڈز میں مسلسل دلچسپی اور X (ٹوئٹر) کے حوالے سے مختلف سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک خیال ہے کہ X ٹوئٹر کے استعمال، اس کی تکنیکی اصطلاحات، پوسٹنگ، ری پوسٹ، امپریشن، انگیجمنٹ، اینالیٹکس، اکاؤنٹ سکیورٹی، سسپنشن سے بچاؤ، ایک سے زیادہ اکاؤنٹس اور دیگر اہم پہلوؤں پر ایک باقاعدہ آگاہی سلسلہ شروع کیا جائے۔
مقصد کوئی مشکل تکنیکی زبان استعمال کرنا نہیں، بلکہ بالکل عام اور سادہ انداز میں X کو سمجھنا، بہتر طریقے سے استعمال کرنا اور اس کی پالیسیوں سے باخبر رہنا ہے۔
یہ سلسلہ خصوصاً ان ساتھیوں کے لیے مفید ہوگا جو X استعمال تو کرتے ہیں مگر اس کے بہت سے تکنیکی پہلوؤں سے پوری طرح واقف نہیں۔
میری خواہش ہے کہ اسے محض پڑھنے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ سمجھا جائے، عمل میں لایا جائے اور ضرورت مند ساتھیوں تک بھی پہنچایا جائے۔
اگر آپ سب کی دلچسپی ہو اور آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا سلسلہ ساتھیوں کے لیے واقعی مفید ثابت ہوسکتا ہے تو فیس بک اور X ٹوئٹر دونوں پلیٹ فارمز پر باقاعدہ قسط وار آغاز کرنے جارہا ہوں ۔ ان شاءاللہ
آپ کی رائے؟
کیا اس سلسلے کا آغاز کیا جائے؟
اگر جواب ہاں ہے تو اپنی رائے ضرور دیں اور اس پوسٹ کو ان ساتھیوں تک پہنچائیں جو X کو بہتر اور مؤثر انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔
ان شاءاللہ اگلی پوسٹ اسی مناسبت سے پہلی قسط ہوگی ۔
انتہائی افسوس ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوے میری جعلی تصویر اور جعلی آواز بناکر میری ایسی گفتگو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے جسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بعض لوگ اس سے گمراہ ھوسکتے ھیں یہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے سائبرکرائم ایجنسیاں اسکا نوٹس لیں
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا اسماء جتک کے والد کے قتل پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار
اسماء جتک کے والد کا قتل انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے
اسماء جتک نے قرآن مجید کو سینے سے لگا کر حکمرانوں سے اپیل کی تھی کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مخالفین سے شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا انہیں فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔ مگر افسوس کہ تحفظ فراہم کرنے کے بجائے چند ہی گھنٹوں بعد ان کے والد کو قتل کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ضلعی اور صوبائی انتظامیہ کی سنگین ناکامی اور انتہائی شرمناک طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انتظامیہ ایک مظلوم خاندان کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، حتی کہ قرآنِ مجید کا واسطہ دے کر کی گئی اپیل کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس قتل میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، جبکہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے ۔
اپوزیشن رہنماؤں کی زبان بندی کیلئے مقدمات بنانا افسوسناک ہیں
اخونزادہ حسین احمد اور سابق سنیٹر مشتاق احمد خان کیخلاف مقدمات کی مذمت کرتے ہیں
اپوزیشن کے پرامن اور آئینی احتجاج سے حکمران خوفزدہ کیوں ہیں
حکمران ماضی سے سبق سیکھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے
سابق سنیٹر مشتاق احمد خان اور اخونزادہ حسین احمد سمیت اور دیگر کے خلاف مقدمات فوری واپس لئے جائیں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
بلوچستان کے سیاسی افق پر چھائی بے یقینی کے درمیان مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی ایک ایسے سیاسی مکالمے کی امید پیدا کرتی ہے جس میں امن، آئین، عوامی حقوق اور سیاسی استحکام کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
#MaulanaInQuetta#صوبےنہیں_امن_دو#عوامی_قوت_جمعیت#آئین_کےمحافظ_مولانا #نااہل_حکمران_مفلوج_نظام
اسلام آباد
مخدوم سید احمد عالم انور سائیں سابق وفاقی وزیر مملکت ❤️
کی جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ
مولانا فضل الرحمان صاحب سے ملاقات
سائیں نے خیریت دریافت اور دوطرفہ تعلقات دیگر اہم ایشوز پر اظہارِ خیال فرمایا ۔۔۔
مولانا صاحب نے سائیں کا استقبال خود کیا اور چھوڑنے کیلئ