ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑکی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھا��تے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت لینا چاہتی تھی لیکن آ��... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ہی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا کیونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس ��رح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو ��ظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے
ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑ��ی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھارتے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت ل��نا چاہتی تھی لیکن آپ... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ��ی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا ��یونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس طرح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے
ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑکی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھا��تے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت لینا چاہتی تھی لیکن آ��... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ہی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا کیونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس ��رح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو ��ظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے
ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑکی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھا��تے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت لینا چاہتی تھی لیکن آ��... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ہی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا کیونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس ��رح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو ��ظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے
ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑکی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھا��تے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت لینا چاہتی تھی لیکن آ��... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ہی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا کیونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس ��رح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو ��ظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے
ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑکی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھا��تے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت لینا چاہتی تھی لیکن آ��... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ہی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا کیونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس ��رح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو ��ظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے
ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑکی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھا��تے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت لینا چاہتی تھی لیکن آ��... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ہی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا کیونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس ��رح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو ��ظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے
ناول مہرال
قسط نمبر 1
#مہرال#ثانیہ ممتاز
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ہیزل آنکھوں کے گرد مہارت سے کنسیلر لگانے میں مصروف تھی. ایسا نہیں تھا کے وہ میک اپ خوبصورت ہونے کیلئے کرتی تھی, خوبصورت تو وہ بلا کی تھی, میک اپ کا سہارا تو اسے ان نشانات کو چھپانے کیلئے لینا پڑتا تھا جو اسے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود سہنا پڑتے تھے.
اپنی تیاری مکمل کر کے اب وہ خود کو فرصت سے آئینے میں دیکھ رہی تھی. کالے رنگ کی جینز پر مسٹرڈ ٹاپ, جس کے بازوؤں پر کالے ہی رنگ میں ایمبرائیڈری کی ہوئی تھی. گلے میں پرنٹڈ کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس کے دونوں پہلو آگے کر رکھے تھے. بالوں کو سادگی سے ہمیشہ کی طرح کمر پہ گرا رکھا تھا جو اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے. آنکھوں پر صرف مسکارا اور چہرے پر بیس کی ایک لیئر کے ساتھ پیچ لِپ کلر لگا رکھا تھا.
"شاباش جانی, کسی اینگل سے بھی پتا نہیں چل رہا کہ تم نے کل رات ڈِنر کی جگہ مار کھائی ہے. گڈ جاب!" آئینے میں اسکو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی وہ لڑکی نظر آئی جو بالکل اس کے جیسی لگتی تھی. اس کو مسکراہٹ پاس کرتی وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی باہر نکل گئی تھی.
---
ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کسی پر بھی نظر نہیں ڈالی تھی. مگر پھر بھی اسکا لاشعور بتا رہا تھا کے سامنے بیٹھا سمیر اپنی برابر کی نشست پر بیٹھی ہوئی مہک کیساتھ مل کر اسکی ہنسی اڑا رہا ہے. ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا تھا مگر وہ اسکی عادی ہی نہیں ہو پا رہی تھی, ابھی بھی اسے اسکی بے عزتی محسوس ہوتی تھی.
"اہمم! " گلا کھنکھا��تے ہوئے اس نے بات کا آغاز کیا "وہ... مجھے امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ آفر ہو رہی ہے, آج لاسٹ ڈیٹ ہے, میں کافی دنوں سے اجازت لینا چاہتی تھی لیکن آ��... "
"نہیں! " فورک سے آملیٹ منہ میں ڈالتے اسکے "سوتیلے باپ" کی طرف سے آواز آئی تھی.
"سوری؟" وہ ابرو اچکاتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی گویا اسکی سماعت کام نہ کر رہی ہو.
"ایک دفعہ سنائی نہیں دیا؟ اجازت... نہیں... ہے!!! " آخری الفاظ میں وہ غرا کے بولا تھا جنہوں نے اسے گنگ کر دیا تھا. اس نے محض جوس کا گلاس پینے پر اکتفا کیا اور بیگ اٹھا کر یونیورسٹی کیلئے نکل گئی. اپنے آپ کو رونے سے اس نے بمشکل روکا ہوا تھا, کے اگر وہ رو دے گی تو اسکا مسکارا پھیل جائے گا.
"اپ سیٹ ہو؟" وہ کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسکے جیسی دکھنے والی لڑکی پیسنجر سیٹ پر نمودار ہو گئی. اسکا یہ کہنا ہی تھا کے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر لڑھک گیا. "جانتی ہو اس بھیڑیئے نے کیوں کیا ہے ایسا؟ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کے میں اسکے بچوں سے آگے نکل جاؤں یا اسکے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو چھوڑ کر اپنی عزتِ نفس پر جیئوں. " اب آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے تھے. اس سے پہلے کے اسکی ہمدرد کچھ کہتی گاڑی پارکنگ لاٹ میں رک چکی تھی. گاڑی روک کر وہ مِرر میں دیکھ کر اپنا میک اپ سیٹ کرنے لگی تھی جس کو مسکارے نے خراب کر دیا تھا.
آج اسکی پریزنٹیشن تھی اور بد قسمتی سے اسکا گروپ ممبر جبرئیل تھا. ان دونوں میں شروع دن سے ہی انڈیا اور پاکستان والی جنگ چلتی آ رہی تھی. اِسکو وہ اسلئے پسند نہیں تھا کیونکہ یہ بھی اُسکو پسند نہیں تھی.
"مِس مہرال! پی پی ٹی آپ کے لیپ ٹاپ سے چلائی جائے گی, اپنا لیپ ٹاپ ریڈی رکھیں. " اسکے پیچھے سے آتے ہوئے جبرئیل نے اسے پکارا تھا اور 'آپ' کی جمع تعظیم محض اس لئے دی گئی تھی کے اسکے سامنے پروفیسر فہمینہ احمد کھڑی تھیں اور پوری یونیورسٹی میں وہ پروفیسر فیمینسٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں. اور ان سے پنگا لے کر وہ آخری سال میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کروانا چاہتا تھا.
"یہ کس ��رح سے پکار رہے ہیں آپ ایک لیڈی کو مسٹر جبرئیل. آپ یونیورسٹی لیول پر آ کر ابھی تک اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کے کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے ان سے انکی اجازت مانگی جائے؟ ایتھکس کہاں ہیں آپ کے؟" بالوں کو ڈائی کر کے باب کٹ کروا رکھا تھا اور ابرو تو اتنی پتلی تھی گویا پنسل سے لائن کھینچی ہو. پروفیسر کی بے وجہ بے عزتی پر جبرئیل کا شدت سے دل چاہا کے وہ زور سے پھونک مارے اور پروفیسر کے سارے ابرو اُڑ جائیں یا ربڑ لے کر ایک ہی دفعہ وہ ابرو مٹا دے.
"سوری میم! " غصے پر بے تحاشا قابو پاتے ہوئے اس نے سانس خارج کی اور بمشکل سوری بولا. اسے ایسے دیکھ کر مہرال کے دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی اور چہرہ کھِل اٹھا.
"بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم! " کہہ کر وہ چلی گئی. اور مہرال کے خوبصورت تراش والے ہونٹوں کو ایک تپا دینے والی مسکراہٹ نے چھولیا.
"زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے, لیپ ٹاپ ریڈی رکھو, پندرہ منٹ میں ہم پریزینٹ کر رہے ہیں." اسکی خوبصورت آنکھوں کو ��ظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہوا وہ واپس مڑ گیا.
جاری ہے