پاکستان کی تاریخ کا سب سے خوفناک باب۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے سب سے خطرناک چہرہ ملک اسحاق جسکا کا نام سن کر پولیس کانپتی تھی۔۔
یہ وہ راز ہیں جو تیس سال سے دفن تھے آج ایک ریٹائرڈ پولیس افسر عزیز اللہ خان کی زبان سے باہر آئے۔ ملک اسحاق سے ذاتی ملاقاتیں جو اس سب کا چشم دید گواہ تھا ۔ وہ یہ انکشافات پہلی بار منظر عام پر لیکر اۓ ہیں۔
80 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں دو زہر ایک ساتھ پھیلے۔ ایک ہیروئن کلچر اور دوسرا فرقہ وارانہ نفرت۔ ایران سے مذہبی مواد آنا شروع ہوا۔ اس کے نقابلے میں سپاہ صحابہ بنی۔
پھر اس کی کوکھ سے لشکر جھنگوی نکلی۔ اور لشکر جھنگوی کے جواب میں شیعہ برادری نے سپاہ محمد بنائی۔ یہ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں اور پنجاب کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں۔
ملک اسحاق۔ جنوبی پنجاب کا بادشاہ کیسے بنا
ملک اسحاق ترنڈہ سواخان رحیم یار خان کا رہنے والا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 18 سال کی عمر میں سگریٹ بیچتا تھا۔
نہ کسی مدرسے میں پڑھا نہ کوئی بڑا علمی پس منظر تھا۔ لیکن حق نواز جھنگوی کی فکر نے اسے متاثر کیا اور وہ لشکر جھنگوی میں شامل ہو گیا۔ آہستہ آہستہ پورے جنوبی پنجاب میں اس کا خوف پھیل گیا۔ صادق اباد میں اس کی ریلی ہوتی تھی تو کارکن کفن پہن کر موٹرسائیکلوں پر گھومتے تھے اور پولیس خاموش کھڑی دیکھتی رہتی تھی کیونکہ ہاتھ لگانے کی جرات نہیں تھی۔
102 قتل کے مقدمات اس کے نام پر درج ہوئے۔ رحیم یار خان میں اس نے اعلان کر رکھا تھا کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا اور واقعی رحیم یار خان میں اس کے دور میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔
ملک اسحاق کی گرفتاری کیسے ہوئی؟
نئے نئے موبائل فون آئے تھے۔ ملک اسحاق انہی فونوں سے آئی جی اور ڈی آئی جی کو دھمکیاں دیتا تھا۔ پولیس نے نمبر ٹریس کر لیا۔ پھر ایک چال چلی گئی۔ بل بڑھنے دیا گیا۔ فون بند ہو گیا۔
ملک اسحاق کو یقین نہیں تھا کہ بل جمع کرانے والے کو بھی پکڑا جا سکتا ہے۔ وہ خود فرنچائز پر بل جمع کرانے پہنچا۔ وہاں جال بچھا ہوا تھا۔ پاکستان کا سب سے خوفناک آدمی ایک فون بل کی وجہ سے گرفتار ہو گیا
جیل میں بھی تنظیم چلتی رہی۔
غلام رسول شاہ جو لشکر جھنگوی کا پہلا گرفتار ہونے والا بڑا نام تھا اس نے جیل میں بیٹھ کر قانون کی تعلیم حاصل کی اور اندر سے پوری تنظیم چلاتا رہا۔ یہ لوگ پکڑے جانے پر نہ گالی برداشت کرتے تھے نہ تشدد۔ لیکن جو پوچھا جاتا تھا بتا دیتے تھے۔ جو نہیں پوچھا جاتا تھا وہ چھپا لیتے تھے۔
2011 میں ملک اسحاق رہا ہوا۔ 2011 میں رہائی کے بعد ملک اسحاق کے بیٹوں کے بیرونی عناصر سے روابط بننے کی اطلاعات تھیں اور یہی وہ نقطہ تھا جس کے بعد ادارے حرکت میں آئے اور 2015 میں پولیس مقابلہ ہوا۔
یہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ خانہ فرنگ ایران پر حملے کے بعد پولیس نے اس مکان پر چھاپہ مارا جہاں ملک اسحاق کے ساتھی رہتے تھے۔ وہ تو بھاگ گئے لیکن وہاں سے ملک اسحاق کی ایک ذاتی ڈائری ملی۔
اس ڈائری میں 50 سے 60 افراد کے نمبر درج تھے۔ ان میں مدرسوں کے لوگ تھے عام شہری تھے اور کچھ پولیس والے بھی تھے۔ عزیز اللہ خان کو ایس ایس پی مشتاق سکھیرا نے یہ ٹاسک دیا کہ ڈائری میں موجود ہر نمبر کو ٹریس کرو اور ہر بندے سے پوچھ گچھ کرو۔ یہ
انٹیروگیشن رپورٹ بعد میں ایس ایس پی کو جمع کرائی گئی۔
اس کے بعد لشکر جھنگوی کبھی اس سطح پر سامنے نہ آئی۔ تنظیم بظاہر ختم ہو گئی لیکن ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ تنظیمیں ختم نہیں ہوتیں۔ کسی اور نام سے زیر زمین چلتی رہتی ہیں۔
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
مچھلی کی جلد جلنے کے زخم ختم کر دیتی ہے!
برازیلی سائنسدانوں نے دریافت کیا: مچھلی کا کولیجن + زیادہ نمی کی وجہ سے زخم بغیر درد، بغیر نشان کے جلدی بھر جاتے ہیں۔
سائنس واقعی معجزہ ہے!
اپریل 2022 میں جب PTI کی حکومت گئی ملک کا ٹوٹل قرض 44 ہزار ارب روپے تھا، آج ملک کا قرض 81 ہزار ارب روپے ہے، PTI کے 4 سال میں 19 ہزار ارب روپے قرض بڑھا، موجودہ حکومت کے 4 سال میں 37 ہزار ارب روپے قرض بڑھا۔ محمد زبیر
انسان ایڈز جیسی بیماری نہیں مرتا بلکہ سماج کے رویے مار دیتے ہیں، شادی کے ایک ماہ بعد پتہ چلا کہ میں ایچ آئی وی ایڈز میں متبلا ہوں، 22 سال سے اس مرض سے لڑ رہی ہوں، دو بچوں کی ماں ہوں، پشاور کی بہادر نئیر بی بی کی کہانی سنیں۔ آفرین ہے اس خاتون پر۔
@nitinnnn045 HORMONE Profiles May Got Scope To IMPROVE.
Use Derma Roller and
5:2:1:1 Ratio Of Coconut Oil, Olive Oil, Rosemary Oil, Castor Oil.
Also Minoxidil Can Be Used.
Reduce Stress If Any.
سوال: اگر ایف آئی آر سے ایک ملزم ڈسچارج (بے گناہ) ہوجائے اور اس ایف آئی آر یا ملزم کا ریکارڈ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں تاحال زیر تفتیش لکھا آ رہا ہو تو اس کو کیسے ختم کروایا جا سکتا ہے؟
جواب / قانونی رائے قانونی طور پر ڈسچارج ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہو سکے یا وہ بے گناہ پایا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ اور دیگر اعلیٰ عدالتوں نے یہ اصول طے کیا ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ یا پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ جاری کرتے وقت ایسی ایف آئی آر کا حوالہ نہیں دے سکتی جس میں ملزم بری یا ڈسچارج ہو چکا ہو۔ اگرچہ پولیس اپنے داخلی ریکارڈمیں اسے تاریخی ریکارڈ کے طور پر رکھ سکتی ہے، لیکن عوامی استعمال کے سرٹیفکیٹ میں اس کا ذکر کرنا آئین کے آرٹیکل 14اور 4 یعنی شہری کی عزت نفس مساوی سلوک کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
اگر کوئی ملزم ایف آئی آر سے ڈسچارج ہو چکا ہے اور کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اس کا نام آ رہا ہے، تو درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے متعلقہ عدالت (مجسٹریٹ) سے ڈسچارج آرڈر کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کریں۔
اس کے بعد متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر یا متعلقہ ایس ایس پی کو ایک تحریری درخواست دیں جس میں عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کریں کہ پولیس کے ڈیجیٹل سسٹم میں آپ کا اسٹیٹس ڈسچارج کے طور پر اپڈیٹ کیا جائے اور نیا کریکٹر سرٹیفکیٹ بغیر کسی منفی اندراج کے جاری کیا جائے۔ اگر پولیس حکام آپ کی درخواست پر عمل نہیں کرتے، تو آپ متعلقہ ہائی کورٹ میں آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کر سکتے ہیں۔ عدالتیں عام طور پر ایسے معاملات میں پولیس کو ہدایت جاری کرتی ہیں کہ وہ ایف آئی آر کا حوالہ دیے بغیر صاف کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ اعلی عدلیہ متعدد فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ پولیس داخلی ریکارڈ 60 سال تک محفوظ رکھ سکتی ہے لیکن کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اس کا ذکر نہیں کر سکتی۔
#Police #Law #FIR #Discharge #Court #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates
جدید ترین پشاور جنرل بس ٹرمینل کی مکمل ڈاکومینٹری!
صوبے کی تاریخ کا ایک بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ
عالمی معیار کی سفری سہولیات، منظم ٹرانسپورٹ سسٹم اور جدید سہولتوں سے آراستہ ماحول
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی زبانی دیکھیے ترقی کی جانب بڑھتا ہوا خیبرپختونخوا
#KPDevelopment #PeshawarBusTerminal #ShafiJan
Israel under my leadership will continue to fight Iran’s terror regime and its proxies, unlike Erdogan who accommodates them and massacred his own Kurdish citizens.
اسی ماہ دوسری مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا، ہر روز مہنگائی کی چکی میں پستی عوام پر ایک نئی قیامت ڈھائی جارہی ہے۔ آپ پوچھتے ہیں کہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے؟ اپوزیشن عوام کو آپ کے عذاب سے نجات دلانا چاہتی ہیں۔ کیا ہم گھر بیٹھ کر عوام پر آپ کے مظالم دیکھتے رہیں؟ بالکل نہیں!
ٹھٹھہ میں جہانگیر خان ترین صاحب کی 15 سالہ ریسرچ بالآخر رنگ لے آئی!
ٹھٹھہ میں پہلی مرتبہ گنے پر پھول لگنے لگے، اسکا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ گنے کی علاقے کی مناسبت سے نئی اقسام پیدا کی جاسکتی ہیں جس سے پیداوار میں 10 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے
یہ پاکستان کی اپنی نئی نسل ہے
Google maps gets this info from android phones on the road.
When location is on and maps or google services run in background the phone sends speed and position data back.
If many phones in one stretch start moving slow the system picks it up as jam and shows on map.
No need for cameras there. Just the phones act as sensors.
One guy even tried with bunch of phones in a cart on empty road and maps showed fake traffic there.
Data stays anonymous though google mixes it all together.
Simple idea but works because so many devices report at once.
ایران کی اسمبلی میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا، محمود مولوی
آج ایران، امریکا کی مرضی سے ثالثی کیلئے متحرک ہیں، محمود مولوی
ایران ایک قوم ہے، یہ کبھی جنگ سے نہیں گھبرائی، محمود مولوی
آج امریکا میں احتجاج ہو رہا ہے، وہ لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے، محمود مولوی
پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے آرہے ہیں، یہ بڑی کامیابی ہے، محمود مولوی