حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین اور آخری نبی ہیں، حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، نہ ظلی نہ بروزی اور نہ ہی کسی اور قسم کا کیونکہ نبوت آپﷺ پر ختم ہو گئی۔ پس جاننا چاہیئے کہ عقیدہ ختم نبوت جزوِ ایمان ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا ( یہ کہا کہ ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے :
“کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔
(صحیح بخاری،۱۱۳۰)
یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ایسے ہی ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے تھے اور ہم نے کھلی کھلی آیتیں نازل کردی ہیں اور کافروں کے لیے ایسا عذاب ہے جو خوار کر کے رکھ دے گا۔
سورہ المجادلۃ آیت نمبر 5
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔
(صحیح بخاری،۲۰۵۹)
کہہ دو کہ : اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔
سورہ التوبۃ آیت نمبر 51
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
(بخاری،۲۰۷۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لوگو!
دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
(بخاری،۲۹۶۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی ( مگر ضرور صدقہ کر کے دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو ) ۔
(صحیح بخاری، ۱۴۱۷)
اور وہ اللہ ہی ہے جس کو آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات سجدہ کرتی ہیں، کچھ خوشی سے، کچھ مجبوری سے، اور ان کے سائے بھی صبح و شام اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
سورہ الرعد آیت نمبر 15
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میں اللہ تعالیٰ کا وہ ��ندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے۔
(مسند احمد، ۱۰۴۵۷)
آج پاکستان میں پردہ کی حمایت کرو تو ایسے مخالفت کرتے ہیں لوگ جیسے آپ کسی اسلام دشمن ملک میں رہتے ہو۔
ان لوگوں کو ذرہ برابر بھی شرم نہیں آتی
#اسلام_ہماری_پہچان