Shorting the hell out of $BTC NOW:
- ALL LONGS taken profit, NOW!
- Added 20% position size shorts at 78k, NOW!
- Total shorts equal 50% in position size, NOW!
- Avg. entry, for recent shorts is: 80,500
- Remaining 50% in orders above 82k
On top, the 120k short remains open!
I was bullish all the way from 16k to 120k
Sold everything at 120k and shorted
Said 60k is next when BTC was at 120k
At 60k I said 79-85k is coming next
And this ladies, is the local top (80-85k)
The big crash towards 50k and lower soon
ڈاکٹر سارہ قریشی۔ 1
اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں
*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔
کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔
اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔
تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔
اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ جاری
$BTC: At 60k I have been telling 79-85k is coming
Everyone else was shorting at 60k instead!
I bought spot at 68k and longed 71k instead!
Tell me who was right again and again?
JUST IN: 🇺🇸🇵🇰🇮🇷 Vice President JD Vance heads to Pakistan for peace talks with Iran.
We’re looking forward to the negotiation. I think it’s going to be positive... If the Iranians are willing to negotiate in good faith and extend an open hand. The President gave us clear guidelines.
#Bitcoin is currently in the bottom formation phase, it’s the last sideway phase before the final and golden bear move starts. I’m expecting the capitulation event and bottom to be in the 40s and to be hit in September-October this year
#Gold up 3% today and getting the bounce from support that I have talked about. It is now close to the first big test and first resistance at $4670. As I mentioned yesterday, I think it can get as high as $5000 and then probably rolls over lower. BUT, I will judge this day by day.
$GLD $GLL $GDX
#Silver is currently testing resistance and is expected to rebound.📈
I believe $66-$67 is a good buying range, with a target of $74.5.
If it successfully reaches the target and breaks through, the next target is $79.
You can like and save this post so we can better monitor your progress. 💙
جب آپ کہتے ہیں لا الٰہ الا اللہ تو آپ اللہ سے عہد کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے .. نہ پیسے کی، نہ کسی عہدے کی، اور نہ ہی کسی فرعون کی !!
جنگِ احد ...
جب مسلمان زخمی اور تھکے ہوئے مدینہ واپس پہنچے تو دشمن نے دوبارہ حملے کا منصوبہ بنایا اور شہر میں خوف پھیلانے کی کوشش کی۔
لیکن اللہ پر پختہ یقین رکھنے والوں کا جواب کیا تھا؟
’حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘
(ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے)
یہ پیغام ہے ہر اس شخص کے لیے جو مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا چاہتا ہے۔ جب پوری دنیا آپ کے خلاف ہو، تب بھی اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہوتی ہے!
ایمان
ثابت قدمی
توکل
جنگِ احد
🚨 گریگ چیپل کا cricinfo پر دھماکہ خیز مضمون: دنیا عمران خان کو بھول نہیں سکتی!
"ایک طوفانی رات کی خاموشی میں، لائٹ ہاؤس کا نگہبان صرف لہروں کو نہیں دیکھتا؛ وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ روشنی ایک تھکے ہوئے مسافر کے لیے امید کی ایک مستقل علامت بنی رہے، بڑھتی ہوئی تاریکی کے مقابل ایک واحد نقطۂ روشنی۔ یہ نگہبان جانتے ہیں کہ ان کی پہرہ داری صرف حال کی ذمہ داری نہیں بلکہ نسلوں پر پھیلی حفاظت کی روایت سے وابستگی ہے۔
اسی نگہبانی کے جذبے کے تحت میں خود کو قدم اٹھانے پر مجبور پایا۔ جب مجھے اپنے پرانے دوست اور حریف عمران خان کے گرد موجود سنگین حالات کی خبر ملی تو مجھے احساس ہوا کہ جنگل میں جلتا ایک چراغ کافی نہیں ہوگا۔ کرکٹ کے عظیم ترین ستاروں میں سے ایک کے گرد گہراتے اندھیرے کو چیرنے کے لیے مجھے آوازوں کا ایک قافلہ جمع کرنا تھا — کپتانوں کا ایسا اجتماعی گروہ جس کی مشترکہ تاریخ سیاسی بے حسی کی آندھی میں نظرانداز نہ کی جا سکے۔
میں عمران کو کئی دہائیوں سے جانتا ہوں، اور ہمارا تعلق ہمیشہ باہمی احترام پر مبنی رہا ہے، جو باؤنڈری لائن سے کہیں آگے تک جاتا ہے۔ ہم پہلے حریف تھے، ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں جہاں کردار تیز گیندبازی اور ذہنی مضبوطی کی بھٹی میں ڈھلتا ہے۔ مجھے وہ بے پناہ کشش رکھنے والا اور اس سے بھی زیادہ مضبوط ارادے کا مالک یاد ہے۔ وہ ایسا رہنما تھا جو صرف اپنی ٹیم کی قیادت نہیں کرتا تھا بلکہ ایک قوم کو متاثر کرتا تھا۔ جب اس نے 1992 میں پاکستان کو تاریخی ورلڈ کپ جتوایا تو اس نے ایسی ثابت قدمی دکھائی جو اس کی زندگی کی پہچان بن گئی۔ اس نے وہ ٹرافی اپنی ذات کی نمائش کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے ملک بھر میں گھمائی کہ وہ عظمت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سفر کے دوران کسانوں اور عام لوگوں سے سنی کہانیوں نے اس کے دل کو چھو لیا اور اس کے سیاسی مستقبل کے بیج بو دیے۔
ہماری راہیں کھیل کے دن ختم ہونے کے بعد بھی ملتی رہیں۔ 2004 میں، جب میں لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کوچنگ کر رہا تھا، ہم نے ایک ڈنر اکٹھا کیا جو مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں مانتا ہوں کہ پاکستانی سیاست میں آنے کے اس کے فیصلے پر مجھے حیرت تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ خود کو اتنے غیر یقینی میدان میں کیوں ڈالنا چاہتا ہے۔ اس کا جواب سادہ مگر گہرا تھا: وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک وہ بنے جو بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے زندگی اور سیاست کے سات سالہ چکروں کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ اگر ایک چکر چھوٹ بھی جائے تو وہ اگلے کا انتظار کرے گا، اور اسے یقین تھا کہ تین چکروں میں وہ اپنی جماعت کو اقتدار تک لے آئے گا۔ اس کی پیش بینی حیران کن تھی، کیونکہ تقریباً اسی وقت کے مطابق وہ اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچا۔
اس سے میری آخری ملاقات فروری 2020 میں ہوئی، دنیا بدلنے سے کچھ پہلے۔ وہ اس وقت وزیر اعظم تھا اور میں کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا۔ سر ویوین رچرڈز اور شین واٹسن کے ساتھ ہم اس کے اسلام آباد دفتر گئے۔ ہماری ملاقات صرف 15 منٹ کی طے تھی، مگر عمران نے، اپنی میزبانی کے انداز کے مطابق، اسے 45 منٹ تک بڑھا دیا۔ اس کا چیف آف اسٹاف بار بار کمرے میں آ کر اگلی ملاقاتوں کی یاد دہانی کروا رہا تھا، جو بعد میں معلوم ہوا کہ سینئر امریکی اور سعودی حکام کے ساتھ تھیں۔ عمران مسکرا کر کہتا رہا کہ اسے اس دفتر میں آنے کے بعد اتنا لطف نہیں آیا تھا۔ تب بھی وہ اپنے اوپر پڑنے والے شدید دباؤ اور آنے والی گرمی کی بات کر رہا تھا۔ اس نے اسے اسی ٹھہراؤ سے قبول کیا جیسے نئی گیند کا سامنا سبز وکٹ پر کرتا تھا، ایک اعلیٰ طاقت اور اپنے مقدر پر یقین رکھتے ہوئے۔
آج وہی زندہ دل اور باوقار رہنما ایسی جگہ قید ہے جسے رپورٹس کے مطابق سزائے موت کی کوٹھڑی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ وہ 2023 سے جیل میں ہے، 186 قانونی مقدمات کے طوفان کا سامنا کرتے ہوئے — ایک ایسی سزا جو اس عمر میں عملاً عمر قید کے مترادف ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن اس کی صحت سے متعلق خبریں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی بینائی کمزور ہو رہی ہے اور دائیں آنکھ کی روشنی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اسے تنہائی میں رکھا گیا ہے، جسے عالمی انسانی حقوق تنظیمیں تشدد کے مترادف قرار دیتی ہیں۔ یہ کسی سابق قومی رہنما کے شایان شان سلوک نہیں، نہ ہی اس عالمی کھیل کے آئیکون کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔
اگر ہم اپنے ہی کسی ساتھی کو اس طرح غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ ہم اپنی مشترکہ تاریخ کو ان ہاتھوں میں دے رہے ہیں جو کھیل کی اقدار کو نہیں سمجھتے۔
اسی احساسِ ناانصافی نے مجھے دیگر کپتانوں سے رابطہ کرنے پر مجبور کیا۔ میں جانتا تھا کہ ایک آواز اکثر سمندر میں قطرہ بن کر گم ہو جاتی ہے۔ اثر ڈالنے کے لیے مجھے ان لوگوں کی اجتماعی طاقت درکار تھی جنہوں نے اپنی قوموں کی قیادت کی ہے۔ میں نے تقریباً 20 لوگوں سے رابطہ کیا۔ کچھ نے سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے انکار کیا، مگر 13 نے حیرت انگیز سرعت سے ساتھ دیا۔ چند ہی منٹوں میں ایلن بارڈر، مائیکل ایتھرٹن اور سر کلائیو لائیڈ جیسے نام شامل ہو گئے۔ سنیل گواسکر اور کپل دیو کا ردعمل خاص طور پر قابل ذکر تھا؛ اپنے ملک میں دباؤ کے باوجود انہوں نے ایک لمحہ ضائع نہ کیا۔ انہیں اپنے دوست اور برصغیر کی بے شمار یادیں یاد تھیں، اور انہوں نے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ مضبوط گروہ کسی سیاسی بیان کے لیے اکٹھا نہیں ہوا۔ ہم پالیسی یا حکومت پر بحث نہیں کر رہے۔ ہم انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں — اس کھیل کی اقدار کی بنیاد پر جس نے ہمیں منصفانہ کھیل اور شرافت سکھائی۔ ہم پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران کو فوری طور پر اپنی مرضی کے ماہر ڈاکٹروں سے طبی سہولت دی جائے، انسانی سلوک فراہم کیا جائے، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت ہو، اور شفاف قانونی عمل تک رسائی دی جائے۔ یہ کوئی انتہا پسند مطالبات نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی شرائط ہیں۔
کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان پل رہی ہے — ایک مشترکہ زبان جو سفارتی تناؤ کے باوجود قائم رہتی ہے۔ ہماری اپیل پر موجود ناموں میں ایک ایسی کشش اور وزن ہے جو کھیل کے دنوں کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ ہم ایک ورثے کے نگہبان ہیں، جیسے فن کے ماہرین جنگ کے دوران شاہکاروں کو بچاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ہی کسی کو اس بے حسی سے غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح سے غداری کریں گے۔
مجھے اس اپیل کے ردعمل سے حوصلہ ملا ہے۔ اس نے ایک ایسی صورتحال پر دوبارہ روشنی ڈال دی جسے شاید دنیا معمول سمجھنے لگی تھی۔ اس نے لوگوں کو یاد دلایا کہ عمران خان کون ہے: ایک بہادر انسان، جس نے خطرات جانتے ہوئے سیاست میں قدم رکھا۔ اس نے کبھی کہا تھا کہ اگر اس راستے پر اس کی زندگی مختصر بھی ہو جائے تو یہ خدا کی مرضی ہوگی۔ وہ آخری گیند تک لڑا ہے، جیسے اس نے اپنے کھلاڑیوں کو سکھایا تھا۔
وقت کے ساتھ شاید مخصوص میچوں کی یادیں دھندلی ہو جائیں، مگر ایک دوسرے کے لیے احترام واضح رہتا ہے۔ ہمیں مقابلے، کہانیاں اور دوستی یاد ہیں۔ ہم خاموش نہیں رہ سکتے جب ایک ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک ہو۔ ہم آواز اٹھاتے رہیں گے کیونکہ کرکٹ صرف رنز اور وکٹوں کا نام نہیں۔ یہ کردار کا نام ہے، اور اس احترام کا جو کھیل ختم ہونے کے بعد باقی رہتا ہے۔
ہم طویل روشنی کے نگہبان ہیں، تاکہ انصاف کی کرن بجھنے نہ پائے — ایک ایسے انسان کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔ عمران خان اس منصفانہ کھیل کا مستحق ہے جس کا وہ ہمیشہ داعی رہا۔ ہمیں امید ہے کہ شرافت کی اقدار غالب آئیں گی اور ہماری اجتماعی آواز اسے تنہائی کی تاریکی میں بھلانے نہیں دے گی۔ کھیل کا تقاضا بھی یہی ہے، اور آنے والی نسلیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ہم حق کے لیے کھڑے ہوں۔"