کل کہتے تھے کہ لال مسجد میں جو ظلم ہوا ہے، یہ مولانا فضل الرحمٰن دیکھو، یہ جمعیت علماء دیکھو ! (حالانکہ) جب لال مسجد کا واقعہ ہوا تو جمعیت علماء تو نہیں تھی، مولانا صاحب تو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن چلے گئے تھے۔ اس دور کے آپ ان کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں، ان کا میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں، صبح شام جو انہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب اور جمعیت علمائے اسلام کے خلاف باتیں کی ہیں وہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔ آج وہی سر پر چادر رکھ کر کہتے ہیں کہ جی لال مسجد میں تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا، میں نے تو تحقیق کی ہے وہاں تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ تو آپ کو تحقیق کرنے میں بیس سال لگ گئے؟ تو سیدھی طرح کہو نا کہ 2005-06 میں جمعیت علمائے اسلام کے خلاف یہ سب کچھ کرنا بھی آپ کو ڈیوٹی کے طور پر سونپا گیا تھا اور آج بھی یہ کہنا تمہیں ڈیوٹی کے طور پر سونپا گیا ہے۔
آج تکرار ہو جائے گی، لیکن تابش نے ان کے لیے بڑا خوبصورت ش��ر کہا ہے اور بالکل ان پر فٹ ہے۔ اپنے آپ کو اہل مدرسہ کہتے ہیں نا، لیکن ڈیوٹی کس کی کرتے ہیں؟ اسٹیبلشمنٹ کی۔ دفاع کس کا کرتے ہیں؟ اسٹیبلشمنٹ کا۔ تو اسی پر تابش نے کہا تھا نا :
منسوب چراغوں سے، طرفدار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو، منافق بھی بلا کے !
اپنے کردار کو تو دیکھو ذرا! کہتے ہیں جمعیت علمائے اسلام تو کوئی اور تھی، جمعیت علمائے ہند تو کچھ اور تھی۔ سوات کے لوگو! آپ مجھے بتاؤ، دو بھائیوں کے بیچ میں، اگر جس طرح کل مولانا صاحب نے کہا کہ جائیداد کی تقسیم ہو جائے، اور کوئی ڈیرہ اسماعیل خان سے اٹھ کر آپ کے پاس آ کر کہے کہ جی تم دونوں تو سرے سے بھائی ہی نہیں تھے، تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ کیا کام؟ اس کو جوتے مارو گے کہ نہیں مارو گے؟ مارو گے نا !
اب جس کا جمعیت علمائے اسلام سے نہ کوئی تعلق ہے، نہ اس کا جمعیت علمائے ہند سے کوئی تعلق ہے، وہ بھی کہتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند کوئی اور تھی، جمعیت علمائے اسلام کوئی اور ہے۔ یہ وہ مذہبی لبادے میں کھڑے منافق ہیں، یہ آپ کا مقابلہ کریں گے؟ ان کا کردار تو دیکھو ذرا !
اب جمہوریت کی اس جنگ میں بھی، آپ کے کردار کا مقابلہ کوئی بہت بڑا جمہوریت پسند نہیں کر سکتا۔ آئین کی سربلندی کی جنگ میں بھی کوئی بہت بڑا آئین کا علمبردار آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر اسلام، شعائر اسلام، مذہبی ادارے، ہمارے عقیدے، ہمارے نظریے کے تحفظ کی جنگ میں بھی کوئی ��پ کے کردار کا مقابلہ نہیں کر سکتا... تو جمعیت علمائے اسلام کے کارکنو! پھر یہ بتاؤ، پھر آپ کو سوشل میڈیا کے میدان پہ کوئی کیسے شکست دے گا؟ بتاؤ تو سہی ! @ziaurrehman76
#مولانا_سے_معافی_مانگو #حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے
#مولانا_شان_پاکستان
سُنی مولوی سپریم کورٹ کے جج کی توہین کردے تو 33 سال قید۔۔شیعہ ذاکرین اللہ پاک کی توہین کریں اور کھلے عام کریں تو بھی انکے لئے سبیلیں۔
ہم اگر نشاندہی کریں تو یزیدی۔۔۔حاکموں تم سے اللہ کی گستاخی برداشت ہوجاتی ہے اپنی نہیں۔۔😔😔
یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے
* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* س��کشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بن��ی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی ��جہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -
ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، ش��م 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -
سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -
زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھ�� اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*
پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، ل��کن ہم ان سے لاعلم ہیں۔
*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔*
"اگر تم مجھے یہ ثابت کر دو کہ خنزیر (Pig) حرام کیوں ہے... تو میں اسی وقت تم سب کے سامنے کلمہ پڑھ لوں گی!"
یہودیوں کے ایک بڑے اور طاقتور قبیلے کی خوبصورت اور مغرور شہزادی جب اندلس کے اسلامی دربار میں داخ�� ہوئی تو اس کے اس کھلے چیلنج نے پورے دربار میں سناٹا بچھا دیا۔ بڑے بڑے علماء کے ماتھے پر پسینہ آ گیا، کیونکہ وہ کوئی عام عورت نہیں تھی، وہ منطق اور بحث میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔
اس نے تکبر سے دربار کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر کہا: "تمہارا اسلام کہتا ہے خنزیر حرام ہے۔ کیوں؟ یہ طاقتور ہے، ذائقہ دار ہے، اور ہمارا پسندیدہ گوشت ہے۔ مجھے کوئی پرانی کتابی کہانی نہیں، بلکہ کوئی ایسی منطقی اور ٹھوس وجہ بتاؤ جسے میرا دماغ ماننے پر مجبور ہو جائے!"
دربار میں موجود ایک بزرگ اور انتہائی دانا عالمِ دین اپنی جگہ سے اٹھے۔ انہوں نے کوئی غصہ نہیں کیا، بلکہ ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ شہزادی کی ��رف دیکھا اور ایک ایسا لرزہ خیز سوال کیا جس نے وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں روک دیں:
"شہزادی! کیا تم جانتی ہو کہ دنیا کا ہر جانور اپنی مادہ (Female) کے لیے غیرت کھاتا ہے؟ اگر ایک کتے یا بیل کے سامنے کوئی دوسرا اس کی مادہ کے قریب جائے تو وہ اس کی جان لے لیتا ہے۔ لیکن کیا تم نے کبھی خنزیر کو غور سے دیکھا ہے؟"
شہزادی نے الجھن سے سر ہلایا، "نہیں... کیا مطلب؟"
عالمِ دین کی آواز پورے دربار میں گونجی: "خنزیر دنیا کا واحد جانور ہے جس میں 'غیرت' نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی! وہ خود دوسرے خنزیروں کو بلا کر لاتا ہے تاکہ وہ اس کی مادہ (بیوی) کے ساتھ جسمانی تعلق بنائیں۔ اس میں اپنی مادہ کو شیئر کرنے پر کوئی غصہ، کوئی غیرت نہیں جاگتی! وہ دنیا کا بے شرم ترین اور غلیظ ترین جانور ہے جو اپنا ہی فضلہ (گندگی) کھاتا ہے۔"
دربار میں پن ڈراپ (Pin-drop) خاموشی تھی۔ عالم نے اپنی بات جاری رکھی:
"ہمارے نبی ﷺ اور سائنس کا یہ اٹل اصول ہے کہ تم جو کھاتے ہو، اس کے اثرات تمہارے جسم اور روح میں منتقل ہوتے ہیں۔ جو قومیں خنزیر کھاتی ہیں، ان میں سے 'غیرت' رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی عورتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے (Wife-swapping) میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتیں... اور آج تم اپنے مغربی معاشرے کو دیکھ لو، کیا وہاں سے غیرت کا جنازہ نہیں نکل چکا؟"
یہ سننا تھا کہ اس مغرور یہودی شہزادی کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اس کا تکبر پاش پاش ہو چکا تھا۔ اس کے پاس اس کڑوے اور سائنسی سچ کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے ہاتھ سے اس کا رومال گر گیا، آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور اس نے دربار کے بیچوں بیچ کانپتی ہوئی آواز میں کہا:
"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ..."
آج دنیا کی ماڈرن میڈیکل سائنس بھی مانتی ہے کہ خنزیر کے گوشت میں 70 سے زائد مہلک بیماریاں ہیں، مگر 1400 سال پہلے اسلام نے اسے حرام کر کے مسلمانوں کو جسمانی اور روحانی غلاظت سے بچا لیا!
پورے پاکستان بلکہ پوری دُنیا میں آپکو ایک بھی سُنی عالم تو دور کی بات ہم جیسا عام طالبعلم بندہ بھی نہیں ملے گا جو سیدنا علیؓ کے قاتل کو ڈیفنڈ کرتا ہو یا اُسے اچھا سمجھتا ہو یا اُس قاتل کے بارے میں اگر مگر کرتا ہو کہ یہ نہیں تھا فلاں فلاں۔
یہ کالی زبان والا مجوسی پاکستان میں مجوسیوں کا سب سے بڑا امام مانا جاتا ہے جو مطمعن بے غیرت بن کے ڈھٹائی کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ سیدنا عُمرؓ کا قاتل کون،کون ابو لولو فیروز میں نہیں جانتا۔
مجوسی صاحب آو ہم بتاتے ہیں کون ابو لولو تھا آپ سے اُسکا کیا رشتہ تھا
بتاتے بھی آپکی کُتب سے ہیں اپنی سے نہیں تاکہ یا شرم سے ڈوب مرنا یا اپنی کتابوں کا آگ لگا دینا۔
پہلا حوالہ
تیرے مذہب کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والی کتاب "الارشاد" شیخ مفید کی جو کل کا مصنف نہیں چوتھی صدی ہجری کا مصنف تھا وہ الارشاد میں باب باندھتا ہے شہادت عمر بن خطاب پہ اور لکھتا ہے کہ( كان أبو لؤلؤة فيروز فارسيًّا وهو الذي ضرب عمر بن الخطاب)
ترجمہ: ابو لؤلؤ فیروز فارسی تھا، اور اسی نے عمر بن خطاب پر وار کیا تھا
دوسرا حوالہ
ابن یعقوب کی کتاب "تاریخ یعقوبی" تیسری صدی کا مصنف اپنی تاریخ یعقوبی میں لکھتا ہے کہ(وطعن عمر بن الخطاب أبو لؤلؤة الفارسي)
ترجمہ: اور عمر بن خطاب پر ابو لؤلؤ فارسی نے وار کیا
تیسرا حوالہ
تمہارا پانچویں صدی ہجری کا مصنف بن جریر الطبری اپنی کتاب "دلائل الامامه" میں لکھتا ہے کہ (أن أبا لؤلؤة الفارسي هو الذي طعن عمر بن الخطاب)
ترجمہ: بے شک ابو لؤلؤ فارسی ہی وہ شخص تھا جس نے عمر بن خطاب پر وار کیا تھا
چوتھا حوالہ
ملا باقر مجلسی اپنی کتاب "بحار الانوار" میں لکھتا ہے کہ (لا شك أن الذي طعن عمر بن الخطاب هو أبو لؤلؤة فيروز)
ترجمہ: کوئی شک نہیں کہ عمر بن خطاب پر وار کرنے والا ابو لؤلؤ فیروز تھا
پانچواں حوالہ
شیخ عباس قمی اپنی کتاب "منتھی الاعمال" میں باب باندھتا ہے خلافت عمر و شہادت اور اس میں لکھتا ہے کہ (أبو لؤلؤة فيروز طعن عمر بن الخطاب)
ترجمہ: ابو لؤلؤ فیروز نے عمر بن خطاب پر حملہ کیا۔
یہ پانج حوالے تیرے مذہب کی معتبر کتب سے دئیے ہیں پانچوں کتب میں حوالے نا ہوں تو میں مجرم ہماری نا مان ہماری کسی کتاب کی نا مان اپنے بابوں کی مان لے۔
اب یا اپنے دعوے (کہ میں نہیں جانتا کون ابو لولو) کو سچ ثابت کر ان کتابوں کا انکار کر کے۔
اور اگر کتابوں کا انکار نہیں تو پھر مان تیرے بڑے سارے لکھ گئے ہیں کہ قاتل ابو لولو فیروز تھا۔
اور تم نے بھی اپنی مجوسیت اور غلاظت ظاہر کی ہے لاعلمی کا کہہ کر ورنہ یہ کتابیں تیرے گھر میں موجود ہیں تم نے پڑھ بھی رکھی ہونگی۔
اور مجوسیت نکلنی ہی تھی کیونکہ قاتل بھی مجوسی ایرانی تھا آج بھی اسکا علامتی مزار بنایا ہوا ہے مجوسیوں نے۔
بزنس کے تین بڑے اصول.
دنیا میں ایک بہت بڑے تاجر گزرے ہیں
حضرت عبدالرحمان بن عوف
انہوں نے اپنا کارو بار صرف دو کلو پنیر سے شروع کیا تھا-لیکن جب اس دنیا سے رخصت ھوے تو ان کے موٹے موٹے جو اثاثے تھے-
صرف سونا جو تھا لاکھوں تولے سونا تھا جسے تقسیم کرنے کیلے جب کاٹا گیا تو لوہے کے ارے ٹوٹ گے کاٹ کاٹ کر
اور ایسی ہی ہزاروں جاگیریں ہزاروں بھیڑ بکریاں اور ہزاروں اونٹ اور گھوڑے اور غلام تھے-
وہ ہماری طرح جمع بھی نہیں کرتے تھے-
ادھر سے مال آیا ��و ادھر بانٹ دیا اور ادھر سے آیا تو ادھر بانٹ دیا-
یہ وہ مال تھا جو بانٹتے بانٹتے بچ گیا تھا-
جب ان سے کارو بار کی ترقی کا راز پوچھا گیا تو انہوں فرمایا
میں تین کام کرتا ھوں
نمبر 1
میں مال ادھار نہیں خریدتا*
نمبر2
میں مال ادھار نہیں بیچتا*
نمبر3
کل کی امید پہ مال نہیں روکتا کہ مہنگا ھو گا تو بیچوں گا اگر آج مجھے ایک روپے نفع مل رھا ھے اور یہ پکی امید ھو کہ کل بیچوں گا تو مجھے دس روپے نفع ملے گا تو میں آج ہی بیچوں گا کل کا انتظار نہیں کروں گا*
سب سے بڑی بات اس کے باوجود دنیا میں ہی جنت کا ٹکٹ لے گںے اور وہ بھی آپﷺ کی زبان مبارک سے اور قیامت تک کے تاجروں کو ایک راستہ دے گئے کہ تجارت میں مال کے ساتھ ساتھ جنت کیسے حاصل کرنی ھے
روئے زمین پر کتنے ہی انسان ناجائز تعلقات سے پیدا ہوئے لیکن قران کریم نے صرف اور صرف ایک فرد کو صراحت سے زنا کی پیداوار کہا۔
عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِـيْمٍ (سورہ القلم 13)
یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں اتری جو سید عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دل آزاری کرتا تھا۔
تو اللہ کریم اگر کسی کی بدکاری کھول دے تو یقینا وہ شخص سخت سرکش اور بدکردار ہے۔
سیدہ زینب بنت علیؓ نے کوفہ کے بازار سے گزرتے ہوئے تاریخی کلمات کہے تھے کہ
يا أهل الكوفة يا أهل الختل والغدر أتبكون ؟ فلا رقأت الدمعة ولا هدأت الرنة
بے وفا کوفیو تم اب روتے ہو اللہ کرے تمہارے آنسو نا تھمیں تمہارا رونا نا ختم ہو
موسم آگیا ہے انکے پیٹنے کا بدعا جو ہے انکو سیدہ کی
پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے ہمیں 40 نہیں 60 نہیں پورا 100 یا 150 روپے سستا پٹرول ڈیزل چاہیے پرانے ریٹوں والا
پٹرولیم کے ریٹوں میں کمی کی باقاعدہ مہم چلانی ھوگی ورنہ انکو کوئی اثر نہیں ھوگا
امیروں کو ریلیف نہ منظور
جس بیت المقدس کو 56 اسلامی ممالک دنیا ��ا سب سے زیادہ تیل اور پیسہ رکھنے کے باوجود ایٹم بمب رکھنے کے باوجود فوجیں رکھنے کے باوجود آزاد نہیں کروا پا رہے۔۔اُس بیت المقدس کی چابیاں محمد عربیﷺ کا غُلام عمرؓ اپنے خادم کے ساتھ جا کے بغیر جنگ کے لے آیا تھا😊❤️
یوم شہادت امیر المومنین۔
نکاح رزق میں اضافہ کرتا ہے، یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ ہے
شرعی نصوص (قرآن و حدیث) اور صحابہ کرام کے اقوال اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نکاح رزق اور تونگری ) کے حصول کا ایک سبب ہے۔
1۔۔۔۔۔ قرآن پاک سے دلیل
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
(وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ) [النور: 32]
ترجمہ: "اور تم میں سے جو لوگ مجرد (بن بیاہے) ہوں ان کا نکاح کر دو، اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ فقیر (تنگ دست) ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی (مالدار) کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔"
امام سُعدی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر می�� فرماتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ کا فرمان: (إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ) یعنی 'اگر وہ فقیر ہوں' سے مراد میاں بیوی اور شادی کرنے والے ہیں۔ (يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ) یعنی 'اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا'۔
لہٰذا تمہارا یہ وہم کہ 'اگر اس نے شادی کر لی تو بڑے خاندان (اہل و عیال کی کثرت) کی وجہ سے فقیر ہو جائے گا'، تمہیں شادی سے نہ روکے۔ اس آیت میں شادی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور شادی کرنے والے سے فقر کے بعد غنی (مالدار) ہونے کا وعدہ کیا گیا ہے۔"
2۔۔۔۔۔۔احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ سے دلائل
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ : الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ) [رواہ الترمذي: 1655]
ترجمہ: "تین شخص ایسے ہیں جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے حق ہے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، وہ مکاتب غلام جو (آزادی کی رقم) ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اور وہ نکاح کرنے والا جو (شادی کے ذریعے) پاکدامنی کا ارادہ رکھتا ہو۔"
حضرت عبداللہ بن مسعود ��ضی اللہ عنہ نے فرمایا:
(التمسوا الغنى في النكاح) [رواہ ابن جرير الطبري]
ترجمہ: "تم نکاح کے ذریعے غنی (مالداری) تلاش کرو۔"
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
(أطيعوا الله فيما أمركم به من النكاح ، ينجز لكم ما وعدكم من الغنى) [رواہ ابن أبي حاتم]
ترجمہ: "اللہ نے تمہیں نکاح کا جو حکم دیا ہے اس میں اس کی اطاعت کرو، وہ تم سے غنی (مالدار) کرنے کا جو وعدہ فرما چکا ہے اسے پورا کرے گا۔"
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
(عجبت لرجل لا يطلب الغنى بالباءة ، والله تعالى يقول في كتابه : إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ)
ترجمہ: "مجھے اس شخص پر تع��ب ہوتا ہے جو نکاح کے ذریعے غنی (مالداری) تلاش نہیں کرتا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: 'اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا'۔
"الٰہی! جتنے بھی لڑکے اور لڑکیاں پاکیزہ رشتوں کے منتظر ہیں، ان پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرما۔ ان کے عیبوں کی پردہ پوشی فرما کر انہیں بہترین، صالح اور خوبصورت جیون ساتھی عطا کر۔ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما اور ان کے نصیب بلند کر۔ آمین یا رب العزت!
بہت سے لوگوں کے لیے “نہ” اور “نا” کا فرق سمجھنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے اور وہ اکثر ایک کو دوسرے کی جگہ استعمال کر لیتے ہیں۔
“نہ” نفی کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی “نہیں” جیسے “ ایسا نہ کرو”، “ وہاں نہ جاؤ”، “شور نہ مچاؤ”۔
اور “نا” ایک طرح تاکید یا بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے
“ہے نا؟” ، “میں نے کہا نا!”
دانش عزیز کی یہ خوبصورت غزل “نہ” اور “نا” کا فرق سمجھنے کے لیے بہت مددگار ہے،
کہا تھا تم سے نہ پیار کرنا وہی کیا نا
نہ لفظ بننا نہ شعر کہنا وہی کیا نا
یہ تیرا خوں تک نچوڑ لیں گے کہا تھا تجھ سے
نہ سرخ پھولوں کے پاس جانا وہی کیا نا
کہا تھا تحفے خطوط سارے چھپا کے رکھنا
کہا تھا سب کو نہ یہ دکھانا وہی کیا نا
کہا تھا چاہت سے دور رہنا یہ مار دے گی
کہا تھا دل کی نہ ایک سننا وہی کیا نا
پرند تم پر ہنسا کریں گے کہا تھا تم سے
نہ تم درختوں پہ نام لکھنا وہی کیا نا
یہ ٹوٹ جائیں تو سانس لینا محال ٹھہرے
کہا تھا تم سے نہ خواب بننا وہی کیا نا
کہا تھا باتوں میں تیز ہے وہ سنبھل کے رہنا
نہ اس کا ہرگز یقین کرنا وہی کیا نا
ذہین تو ہو مگر زمانہ شناس کم ہو
تمہیں کہا تھا نہ عشق کرنا وہی کیا نا
لٹا پٹا ہے فریب دے گا خیال کرنا
کبھی نہ دانشؔ کی بات سننا وہی کیا نا