جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔
تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔
#رہبر_ورہنما_مولانا #سروس_یا_پروپیگنڈا
#پٹرولیم_لیوی_نامنظور #کشمیر_کو_امن_دو
#ادارے_بدنام_ناکرو
اگر فارم 47 کے ممبران اسمبلی پہچاننے ہوں تو مولانا کے قصور جلسے میں قصورواروں کے خلاف بیان کے بعد آنے والے مذمتی بیانات چیک کر لیں۔
جو تڑپ کر سامنے آئیں، سمجھ لیں وہی فارم 47 کی پیداوار ہیں۔
#معافی_مائی_فٹ#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ#لشکر_نہیں_خود_لڑو#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
آصف زرداری نے مختلف الزامات میں 8 سال جیل میں گزارے۔ 15 سال ان کو عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا، ان پر مختلف مقدمات تھے۔ آج وہ یکدم اس منصب پر فائز ہونے کے بعد ایسا معصوم انسان ہونے کا روپ دھار گیا کہ اب تاحیات اس پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکے گا
مولانا فضل الرحمان صاحب
جیسور بنگلہ دیش: جامعہ امدادیہ مدنی نگر میں
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن حفظہ اللہ علما و معززین کے اجتماع سے خطاب کر رہے ہیں۔۔۔
#MaulanaInBangladesh
ایک مضبوط اسلامی بلاک ہماری جماعت کے نظریہ اور منشور کا حصہ ہے،فی الوقت یہ بلاک او آئی سی کی شکل میں علامتی طور موجود تو ہے مگر ہم اس کو عملی طور مضبوط بنانا چاہتے ہیں جس میں فلسطین اور کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل حل ہوسکیں،ہمیں اسلامی دنیا میں تقسیم کی وجوہات اور اس کے ممکنہ حل کی طرف بھی سوچنا چاہئے،اختلافات کو کم کر کے معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے ریاض معاہدہ خوش آئند ہے،سعودیہ اور پاکستان اسلامی دنیا کو لیڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،دنیا بدل رہی ہے،200 سال بعد پھر سے معیشت ایشیا کی طرف لوٹ رہی ہے،چین امریکہ کی معاشی برتری کو چیلنج کر رہا ہے اور چین کے پاس ایشیا میں وحدت پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے،ہمارے پاس بھی سارک اور آسیان جیسے علامتی فورمز کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ایشیا میں داخلی تنازعات کی بڑی وجہ مودی جیسے حکمران ہیں،لیکن امن پسند قیادت ان اختلافات کو اصولی بنیادوں پر ختم کرسکتے ہیں،بین الاقوامی ثالثی بھی ہم قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔
اس وقت عالمی تغیرات کو سمجھ کر ان کے مطابق فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسلامی بلاک بنانے کی پہلی سیڑھی ہے ، جمعیت نے ہمیشہ کہا کہ سعودیہ اور پاکستان دنیا کے امت مسلمہ کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،ہم امن کیلئے میدان میں ہے اور ہر محاذ پر جے یو آئی عوام کی نمائندگی کرے گی، چاروں صوبوں میں اس طرح کے امن مارچ ہوں گے ،عوام کی سوچ اور الیکشن کا نتیجہ کچھ اور اب مزید نہیں چلے گا، ریاست کے اندر ریاست کے ہم قائل نہیں، میں صمود فوٹیلا قافلے کی بھرپور حمایت کرتا ہوں ، وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی چورنگی پر سندھ امن مارچ کے اختتام پر ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے ، وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی چورنگی پر مارچ کے اختتامی بڑے عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے ۔ سندھ امن مارچ 14 ستمبر کو کشمور کندھ کوٹ سے شروع ہوا تھا جو مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا جمعرات کو کراچی پہنچا۔ شہر قائد میں ایئرپورٹ سے مولانا فضل الرحمٰن نے مارچ کی قیادت سنبھالی اور ان کی قیادت میں مارچ کے ہزاروں شرکاء سندھ اسمبلی چورنگی پر جلسہ گاہ میں پہنچے ۔
#JUISindhPeaceMarch