#حسینی_خان_بمقابلہ_یزیدی_نظام
کچھ بھی کر لیں ، عمران خان اور عوام کے آگے نہیں جیت سکتے ظالم۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، جتنا ظلم کر دیا ہے، اس کے بعد قوم سے اور اللہ سے معافی مانگنا ہی بیسٹ آپشن ہے باجوہ، عاصم منیر اور ان کی ٹیم کے لیے۔ عمران خان اور عوام غلامی کو رد کر چکے ہیں!
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
پی ٹی آئی کے لیے نیا ترانہ محمد رضوان الحق کی جانب سے
اس خوف کے بت کو توڑیں گے
ہم پوری قوم کو جوڑیں گے
زندان میں ڈالنے والے سن
ہم حق لے کر ہی چھوڑیں گے
#ReleaseImranKhan
“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
گلگت بلتستان کے غیور عوام کا تہہ دل سے شکریہ! 🔥🔥
کڑے حالات اور عمران خان کی قید کے باوجود آپ نے قیدی نمبر 804 کے نظریے کو ووٹ دے کر تاریخ رقم کر دی۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھے آپ کے قائد تک آپ کی یہ محبت اور وفا پہنچ چکی ہے۔ پہاڑوں جیسے مضبوط عزم کو سلام!
گلگت بلتستان الیکشن میں ووٹ دینے سے لے کر ووٹ کا پہرہ دینے کا مکمل طریقہ اس ویڈیو میں ہے۔
لازمی طور پر اسکو پھیلائیں،خاص طور پر ٹک ٹاک اور فیس بک پر۔
Vc:@Kaptaan_squad
دنیا کے اسٹیج پر اس وقت دو ہی فاشسٹ موجود ہیں: ایک ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرا عاصم منیر۔ دونوں ایک دوسرے کی دن رات تعریف و توصیف میں مگن ہیں۔
آج سکردو کی فلائٹ پر جاتے ہوئے اسد ��یصر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ایئرپورٹ کی ٹریفک کئی گھنٹوں تک صرف اس لیے بند رکھی گئی کہ ایک سیاسی جماعت کا رہنما انتخابی مہم کے لیے نہ جا سکے۔ جنید اکبر کو بھی انتخابی مہم کے علاقے سے نکال دیا گیا۔
عاصم منیر، تم ایک فاشسٹ ہو۔ اور فاشسٹ، چاہے وہ مسولینی ہو، رومانیہ کا چاؤشیسکو ہو یا ہٹلر، ان سب کا انجام تاریخ میں درج ہے۔
جب اپنی ہی عوام اور اپنی ہی فوج کسی کے خلاف ہو جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟
اوورسیز پاکستانی کی یہ ویڈیو وائرل کیوں نہیں ؟
کمال میدان سجایا ہے, دلیر پاکستانی نے!!🔥
یہ ایک اورسیز پاکستانی, اِس وقت پی ٹی آئی آفیشل سجاد برکی اور پوری ٹیم پر بھاری ہے!🔥
IK is the man who cares about his entire Nation!
The let down by Army Chiefs & the people who provide them support is simply that they are letting the tyrant dictators punish a noble man simply cuz he puts Pakistan’s interests first. They all will never feel their heads raised!
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقات�� ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا ��طالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ��ب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں م��ں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گ��رتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم ��ے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — released in full by Drop Site.
The classified document, known as a cypher, shows that State Department diplomats had threatened in 2022 that Pakistan would suffer greatly if Khan remained in office, but that “all would be forgiven” if he were removed in a no-confidence vote.
The Biden administration was infuriated over Khan’s refusal to grant rights for U.S. drone bases in Pakistan, as well as his neutral stance on the Russia-Ukraine war.
@MazMHussain | @ryangrim | @worqas
🔗 Read the full story at Drop Site News
Goosebumps!
The man, the legend, the leader, the warrior, the statesman, Imran Khan!
He is vindicated yet again! Congrats to all Pakistanis standing behind him, you all are on the right side of history.
#سائفر_ایک_حقیقت#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا