ہسپتال اور سکول بیچ کر سرکاری ملازمین ��ا استحصال کر کے ، غریبوں کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا کر ، بیوروکریسی کیلئے خزانوں کے منہ کھول کر اخے آؤٹ اسٹینڈنگ کارکردگی ۔
سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔۔
" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔
لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔
ان بچوں میں (مستقبل کے) موسیقار بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خوداعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجئے گا۔
اگر وہ اچھے مارکس نہ لا سکیں تو انھیں حوصلہ دیجئے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
منقول
سیلاب کو قدرتی آفات کہنے والے صرف ایک سوال کا جواب دے دیں؟؟؟
قدرتی آفات کیا صرف غریب کے لئے ہے؟؟
کبھی سنا ہے کوئ PM ya CM ہاوس، ڈوب گیا؟
❌نہیں نا تو اس لیے یہ قدرتی آفت نہیں نا اہلیاں ہیں اقتدار کی۔
قدرتی آفات ہوتی تو امیر غریب سب کے لئے برابر ہوتی💔
#نااہل