سردار اختر جان مینگل کی وفد کے ہمراہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت ۔ترجمان جےیوآئی
ملاقات میں بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر غوروخوض اور انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا۔اسلم غوری
امن وامان کی موجودہ صورتحال کسی بھی صورت ملک اور قوم کے مستقبل کے لئے امید افزاء نہیں ۔رہنماؤں کا اتفاق ۔ترجمان جےیوآئی
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کی وجہ سے معیشت اور امن وامان کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔اسلم غوری
ملاقات میں اسلم غوری ،سنیٹر کامران مرتضی ،مولانا صلاح الدین ایوبی، مولانا عبیدالرحمان بھی موجود تھے۔ترجمان جےیوآئی
جاریکردہ ۔مرکزی میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
بلوچستان میں امن وامان کی موجودہ دگرگوں صورتحال تشویشناک ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوام کے جان ومال کا تحفظ بنیادی حق ہے ۔اسلم غوری
بدامنی کی اس لہر کو سنجیدہ نہ لینا اور ریاستی سطح پر موثر اقدمات کا نہ ہونا مزید تشویش کا باعث ہے ۔اسلم غوری
حکمرانوں کی لاپرواہی ،غفلت اور نااہلی سے کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے کی بو آرہی ہے ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام آہستہ آہستہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوامی امنگوں کے برعکس دھاندلی زدہ مسلط حکومتیں عوام کو امن دینے کی اہلیت سے عاری ہیں ۔اسلم غوری
اسمبلی فلور پر مسلسل ہماری قیادت اس جانب توجہ مبذول کراتی رہی ،لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔اسلم غوری
بدامنی کی بدترین صورتحال بلوچستان اسی سالہ محرومیوں کا نتیجہ ہے ۔اسلم غوری
عوامی محرومیاں ،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بدامنی کے بنیادی اسباب ہیں ۔ترجمان جے یو آئی
بلوچستان ،صوبہ خیبر پختونخواہ اور کشمیر کے حالات پر قومی قیادت کو سر جوڑ کر متفقہ لائحہ عمل دینا وقت کی ضرورت ہے ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کا کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گھرنے سے 14بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے غم و اندوہ کا اظہار
جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمن
اللہ تعالی زخموں بچوں کو جلد از جلد صحت یاب فرمائے۔ مولانا فضل الرحمن
انصار الاسلام کے رضاکار اور جمعیۃ علماء اسلام کے کارکن خون کی فراہمی و دیگر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ مولانا فضل الرحمن
لاہور۔حکومت زخمیوں کو معیاری علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے۔ مولانا فضل الرحمن
لاہور جیسے شہر میں غیر معیاری عمارتوں سے حادثات حکومت و انتظامیہ کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہیں۔ مولانا فضل الرحمن
انتظامیہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کےلئے ضروری اقدامات یقینی بنائے۔ مولانا فضل الرحمن
مسئلہ کشمیر نہایت حساس اور قومی اہمیت کا معاملہ ہے، جسے جذبات کے بجائے عقل، دانش اور سیاسی بصیرت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیری قیادت کی درخواست پر میں نے ثالثی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم اور خون خرابے سے بچتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی واضح پوزیشن سامنے لائے تاکہ افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر کی موجودہ صورتحال قومی تشویش کا باعث ہے، اس لیے طاقت کے بجائے مشاورت، تحمل اور نیک نیتی سے آگے بڑھنا ہی پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی میڈیا سے گفتگو
JUI Chief Maulana Fazlur Rehman and Jamaat-e-Islami Ameer Hafiz Naeem ur Rehman addressed a joint press conference after their meeting.
They stressed the importance of dialogue, wisdom, and peaceful solutions regarding the current situation in Azad Kashmir, calling on all stakeholders to avoid violence and work together for stability and justice.
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب @MoulanaOfficial اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن صاحب کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس تحریری صورت میں
28 جون 2026
#teamJUIswat
https://t.co/pa9YA979sa
آج قومی اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کے صرف 9 اراکینِ قومی اسمبلی موجود ہیں، جبکہ مخالف جماعتوں کے سینکڑوں اراکین ایوان میں بیٹھے ہیں۔ تاہم جب بات قرآن و سنت کے تحفظ، آئینی و دینی اقدار اور عوامی مسائل کی ہوتی ہے تو جمعیت علماء اسلام کی آواز ہمیشہ نمایاں اور مؤثر نظر آتی ہے۔
سینیٹر مولانا عطاءالحق درویش نے ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام ہر اس معاملے پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتی ہے جو دین، آئین اور عوامی مفادات سے متعلق ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط قیادت اور اصولی سیاست ہی وہ قوت ہے جو بڑے ایوانوں میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ عوامی حقوق، اسلامی اقدار اور آئینی بالادستی کے لیے آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
اس وقت کشمیری احتجاج پر ہیں تو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ وہاں جو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے اُس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر حکومت نگوشیٹ نہ کرسکے، تقریروں میں وہ نوجوان ہیں اگر کسی نے کوئی حد سے آگے بڑھ کر بات کی ہے یا پاکستان کے خلاف کوئی الفاظ تعبیر ہوئے ہیں تو اُس کے حق میں بھی باتیں ہوئی ہیں، اسی اجتماع میں ہوئی ہیں، انہی مقررین نے پاکستان کے حق میں باتیں کی ہیں، اور آج وہ باقاعدہ ایک خط مجھے بھیج رہے ہیں۔
کشمیریوں کی جو اس وقت جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے، انہوں نے باضابطہ طور پر مجھے یہ خط بھیجا ہے اپنے قیادت کے دستخطوں کے ساتھ اور جس میں انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے کہا ہے، یقیناً یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا، نہ میرے بس کی بات ہے لیکن میں نے اس کا مثبت جواب دیا ان کو اور کل 23 تاریخ تھی، یہ آخری تاریخ تھی انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا اور اگلا پروگرام دینا تھا، لیکن انہوں نے نہیں دیا اور ابھی ان کے درمیان میں شائد مشاورت چل رہی ہو، وہ کوئی جواب تیار کر رہے ہوں میرا جو ان کو پیغام ملا ہے اس کے بارے میں، لیکن حکومت حکومت ہوا کرتی ہے، اگر حکومت کا رد عمل مقررین نوجوانوں کی تقریروں اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر حکومت کا رد عمل جذباتی ہو جاتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوا کرتا۔
اچھا ہوا کہ اس وقت جناب وزیراعظم بھی تشریف لے آئے ہیں ہاؤس میں، موجود ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی موجود ہے اور ان کی موجودگی میں، میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ اگر اس وقت احتجاج پر بیٹھے ہوئے عوام کا ایک بڑا ہجوم ہے، ایسا نہیں کہ بلکل وہاں پر کوئی پبلک نہیں ہے ان کے ساتھ، لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں اور ان کی جو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے اس کا باضابطہ طور پر میرے پاس خط آیا اور میں نے اس کے جواب میں ایک بیان ریکارڈ کیا، جب ان کو بھیجا، اس کو پبلش کیا میں نے، کہ میں اس میں جو کردار میرا ادا ہو سکتا ہے میں کرنے کے لئے تیار ہوں اور حکومت کے آفس کو بھی میں نے آگاہ کیا ہے، ابھی تک نہ حکومت کی طرف سے مجھے کوئی جواب ملا ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی طرف سے کوئی رد عمل آیا ہے، سوائے اس کے کہ کل 23 تاریخ تھی اور کل انہوں نے اگلا پروگرام دینا تھا، لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا، جو انہوں نے نہیں کیا اور اس وقت انہوں نے کسی قسم کے اگلے قدم کا اعلان نہیں کیا ہے۔
تو یہ ان کی طرف سے ایک مثبت رد عمل عملی طور پر نظر آ رہا ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جواب کو احترام دیا اور ان شاءاللہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت اور امید افزا گفتگو ہوتی ہے تو یہ مسئلے کو حل کرنے کی طرف لے جائے گی، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ پہ نظر رکھنی چاہیے، مقررین کی تقریروں کو بہانہ بنا کر طاقت کا استعمال یہ کبھی بھی حکومتوں کا رویہ نہیں ہوا کرتا، حکومت جو ہیں وہ ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے اور جب کشمیر کے اندر تشدد ہوگا آپ بتائیں کہ اٹھہتر سال تک کشمیریوں کے کاز کی وکالت کرنا اس کو آپ ایک لمحے میں دفن کردیں گے اور وہ انڈیا جو ہر فورم پر دفاعی پوزیشن میں ہوا کرتا تھا آج وہ جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے، جب ہم ان کے خلاف قراردادیں پیش کرتے تھے بیلجیم میں، انسانی حقوق کے اداروں میں، اقوام متحدہ میں، آج وہ پاکستان کے خلاف قراردادیں لا رہا ہے، پوزیشن بالکل تبدیل کر دی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستان ریاست کے طرف سے جو رد عمل گیا ہے اور جو ان کو لاشیں ملی ہیں اور مزید بھی بالکل تیار کھڑے ہیں کہ کبھی کوئی حرکت ہو تو ہم ایک سخت اقدام کریں، اس سے مسئلہ کشمیر کی پوری نوعیت تبدیل ہو گئی ہے، پاکستان کا موقف بالکل برعکس چلا گیا ہے اور انڈیا کا موقف بھی برعکس چلا گیا ہے۔ ہم جہاں اٹھہتر سال تک کھڑے تھے آج ہندوستان وہاں کھڑے ہونے کی طرف جا رہا ہے اور جہاں ہندوستان اٹھہتر سال تک کھڑا تھا آج ہم پاکستان اسی مقام پر جا رہے ہیں، اس میں کچھ ہمیں حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں ہر چند کہ اگر اس میں قابل اعتراض مواد ہے، ہر چند کہ اس میں اگر کشمیر یا پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی مواد ہے تب بھی وہ خواجہ آصف نہیں ہے یہاں پر، وہ یہاں پر وزیر دفاع ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا رد عمل محتاط ہونا چاہیے تھا۔ میرے خیال میں جب لڑائی والا کام ہو تو آپ لوگ لڑائی والا کام خواجہ آصف کے حوالے کرتے ہیں اور جب مفاہمت والا کام ہو تو وہ پھر اپ اسحاق ڈار کے حوالے کر دیتے ہیں۔
آج ان کو لا تعلق کیوں کیا جا رہا ہے، میرے خیال میں اس کا تعلق صرف داخلہ پالیسی سے نہیں ہے، اس کے اثرات ہمارے خارجہ پالیسی پر پڑ رہے ہیں،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ میں خطاب۔
پی ٹی وی پارلیمنٹ پر نشریات بند، جبکہ نیشنل اسمبلی کی سرکاری لائیو اسٹریم بھی معطل۔ اسمبلی کے اسکرینوں اور اسپیکرز پر بھی آواز بند کر دی گئی۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم بھی شریک
#Parliament#NationalAssembly#PTV#GovtOfPakistan
ایپلیکیشن میں بہت سے نئے فریمز شامل کردیے گئے ہیں
تشہیری مہم میں بھرپور حصہ لے
Created with JUI Frames!
Gift from
#teamJUIswat
Install the app👇
https://t.co/xFuXuASbuP
Website
https://t.co/FAGJVtDkjY
الحمدللہ! 🎉
ٹیم جے یو آئی سوات @teamJUIswat کی جانب سے JUI Gallery App اور JUI Gallery Website باقاعدہ طور پر لانچ کر دی گئی ہیں۔
اس پلیٹ فارم کا مقصد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی سطح کی قیادت اور کارکنان کی تصاویر کو ایک منظم انداز میں محفوظ کرنا ہے۔
📸 گیلری کا نظام:
تمام تصاویر کو باقاعدہ فولڈرز میں ترتیب دیا جائے گا:
📁 صوبہ
↳ 📁 ڈویژن
↳ ↳ 📁 ضلع
ہر ضلع کا الگ فولڈر ہوگا جس میں اس ضلع کی قیادت اور کارکنان کی تصاویر محفوظ کی جائیں گی، تاکہ مطلوبہ شخصیات اور اضلاع کی تصاویر تک آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکے۔
ہم تمام احباب سے گزارش کرتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی کسی بھی سطح کی قیادت یا کارکنان کی ہائی کوالٹی تصاویر موجود ہیں تو براہِ کرم صوبہ، ڈویژن، ضلع اور شخصیت کا مکمل نام درج کرکے درج ذیل واٹس ایپ نمبر پر ارسال کریں۔
واٹس ایپ نمبر:
+923355443323
📲 JUI Gallery App 👇
https://t.co/yLfiU0i1qp
🌐 JUI Gallery Website👇
https://t.co/nirSfBf9pW
آپ کے تعاون سے ان شاء اللہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی قیادت اور کارکنان کی ایک جامع، منظم اور تاریخی ڈیجیٹل گیلری تیار کی جائے گی جو پورے ملک کے لیے ایک اہم ریکارڈ کی حیثیت رکھے گی۔
شکریہ
#teamJUIswat #JUI_Gallery #JUI_Apps
@teamJUIswat is pleased to announce the official launch of the JUI Gallery App and JUI Gallery Website.
The purpose of this platform is to preserve and organize photographs of the leadership and workers of Jamiat Ulema-e-Islam Pakistan at the central, provincial, divisional, district, and local levels.
📸 Gallery Structure:
All images will be organized in a proper folder system:
📁 Province
↳ 📁 Division
↳ ↳ 📁 District
Each district will have its own dedicated folder containing photographs of its leadership and workers, making it easy to access and explore images from specific districts and personalities.
We request all friends and supporters that if you have high-quality photographs of Jamiat Ulema-e-Islam Pakistan leaders or workers from any province or district, please send them along with the Province, Division, District, and Full Name of the Personality to the following WhatsApp number:
📞 WhatsApp:
+923355443323
📲 JUI Gallery App 👇
https://t.co/yLfiU0htAR
🌐 JUI Gallery Website 👇
https://t.co/nirSfBeBAo
With your cooperation, In Sha Allah, a comprehensive, well-organized, and historic digital gallery of Jamiat Ulema-e-Islam Pakistan's leadership and workers will be developed, serving as an important record for the entire country.
Thank you.
#teamJUIswat
#JUI_Gallery
#JUI_Apps