عمران خان کی بہن نورین نیازی صاحبہ کی ہسپتال منتقلی اور خاندان کے افراد کو رسائی نہ دینا انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خود ایک خاتون ہیں ان سے توقع ہے کہ وہ اس میں اپنا کردار ادا کریں گی
عظمیٰ آپا کے خاوند ، نورین آپا کی بیٹی کے ساتھ ہم ICU وارڈ کے باہر انتظار کر رہے ہیں!! حالات یہ ہیں کے وارڈ کے اندر باہر صرف پولیس والے ہیں! فیملی کی رسائی کروائیں ! یہ بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانا بند کریں؛؛
بیرسٹر خدیجہ صدیقی کا ٹویٹ
عمران خان کی بہن نورین نیازی کی طبیعت خراب، کوٹ لکھپت جیل سے پی آئی سی منتقلی:
""جیو نیوز کے مطابق، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو دل میں تکلیف کے باعث فوری طور پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے ابتدائی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ نورین نیازی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نظربند ہیں۔""
عمران خان کی بہن نورین نیازی طبیعت بگڑنے پر کوٹ لکھپت جیل سے ہنگامی طور پر دل کے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ دو دن سے ان کی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں گردش کر رہی تھیں۔ ایک اطلاع دل کی تکلیف کی ہے، جبکہ دوسری کے مطابق ان کا بلڈ پریشر چند دنوں سے مسلسل بلند تھا۔
کوٹ لکھپت جیل میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران چار قیدیوں کی پُراسرار اموات کی اطلاعات کے پس منظر میں یہ خبر اہلِ خانہ کے لیے مزید اضطراب کا باعث ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق، وہاں نظربند عمران خان کی تینوں بہنوں، نورین نیازی، علیمہ خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو اب تک کسی فیملی ممبر یا وکیل سے نہیں ملوایا گیا۔ ظلم کی انتہا، اس حالت میں بھی نورین نیازی کو اسی جیل میں قید اپنے اکلوتے بیٹے، حسان خان نیازی، سے نہیں ملوایا گیا ، نہ ہی بیٹے کو ماں کی طبیعت بگڑنے اور ہسپتال منتقلی کی اطلاع دی گئی، نہ ان کی دونوں بیٹیوں کو آگاہ کیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ لاہور کی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری نے پی آئی سی کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایک گھریلو خاتون، وہ بھی بیمار حالت میں ،سے ایسا خوف کہ ہسپتال کے سینکڑوں کی تعداد میں ہسپتال اندر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں! شنید ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور بھی بنفسِ نفیس ہسپتال میں موجود ،کیا دل کے عارضے میں مبتلا نظربند خاتون کے فرار کا اندیشہ ہے؟
یہی مملکت:
بنوں جیل: 15 اپریل 2012، علی الصبح 384 قیدی فرار ہوئے۔😂
ڈیرہ اسماعیل خان جیل: 29 اور 30 جولائی 2013 کی درمیانی رات 253 قیدی فرار ہوئے۔😂
احسان اللہ احسان: 11 جنوری 2020 کو فوجی حصار کو توڑ کر فرار ہوگیا😂
مگر ایک بیمار خاتون کے لیے اس قدر مستعدی، اتنے پہرے اور ایسا حصارکہ دودھ کی جلی ریاست۔
عمران خان کا سیاسی خوف ریاست کے اعصاب پر اس حد تک سوار ہے کہ اسکی بہن کی علالت بھی ��ہلِ خانہ کو اطلاع دینے اور ملاقات کرانے کے بجائے پہرے بڑھانے پر توجہ مرکوز کہ ریادت خوفزدہ ہے۔
کوٹ لکھپت جیل جس میں پچھلے چند ہفتوں دوران چار قیدیوں کی پُراسرار موت کی خبریں آ چکی ہوں، وہاں کسی عزیزہ کی بیماری کی اطلاع اہلِ خانہ میں سے کسی کو نہ دینا اور میڈیا کے ذریعہ معلوم ہونا ، گھر والوں پر کیا قیامت ڈھاتا ہے، اس کا اندازہ بالم نہیں کر سکتا؟ اقتدار کی لالچ اعر نشہ وقتی تسکین کے سامنےآئین ، اقدار، جان، رشتے اور بنیادی حقوق سب بے وقعت ہیں؟
اے سہل اقتدار! اپنا انجام دیوار پر لکھا دیکھو پڑھو۔ آج شاید دکھائی نہ دے تو بھی تاریخ کا حساب مٹ نہیں جاتا۔ اللہ مجھے اتنی زندگی دے کہ ظلم کرنے والوں کو اپنے کیے کا حساب دیتے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔ پہلوں کا ہم سب دن دھاڑے دیکھ چکا ہوں، ماضی میں بُرے انجام کو پہنچنے والوں کے نام نہیں لیتا کہ پھر بات ذاتیات تک جا پہنچے گی۔
جب مشرف کے خلاف نعرہ بلند ہوا، مکیا تیرا شو، تب جنرل مشرف کے تب وہم وگمان میں نہ ہو گا کہ 2008 اور وفات تک اُن پر کیا بیتنے وسلی تھی۔
باقی رہے نام اللہ کا۔۔
اتنی سخت سیکیورٹی اور ICU کو تالے کیوں لگائے ہیں؟ کیا ان کو ڈر ہے کہ نورین نیازی جن کو یہ زندگی اور م��ت کی کشمکش میں ڈال کر ہسپتال لائے ہیں وہ یہاں سے بھاگ جائیں گی ؟؟؟
بے غیرتی اور ظلم کی تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں
جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفی دے دیا ہے، جسٹس کیانی نے 26 ویں ترمیم کے خلاف اور عدلیہ میں مداخلت کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا، پارلیمنٹ کے کردار پر بھی سخت موقف اپنایا تھا
جس کے بعد جسٹس کیانی کو IHC سے لاہور ہائیکورٹ بیجھ دیا گیا ، آج جسٹس کیانی نے استعفی دے دیا ہے،
خیبر پختونخوا میں گورنر راج دہشتگردی ختم کرنے کے لیے لگایا تھا یا اسے غزہ بنانے کے لیے ؟ جو عمارتیں انگریز کے زمانے سے موجود ہیں وہ بھی گرائی جارہی ہیں۔
پنجابی جرنیل خیبر پختونخواہ سے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں ؟!
خیبر پختونخوا پولیس کا بہادر ایس ایچ او ہم کہیں نہیں جائیں گے یہی پر انکا مقابلہ کریں گے، یہ بزدل لوگ ہیں اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمیں ڈرا نہیں سکتے، شہید ڈی ایس پی CTD عمران الدین کے الفاظ
پاکستانی قوم اپنے اس بہادر آفیسر پر فخر کرتی ہے اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل ��فریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔