کرونا ویکسین کینسر اور ایڈز سے زیادہ خطرناک ہے
ڈاکٹر پیٹر
آدھے سے زیادہ دنیا کو ویکسین لگا کر اب گورے ڈاکٹر حقیقت بتا رہے ہیں، اس کا مطلب پاکستانی دیہاتی لوگ سچے تھے جب وہ اس قسم کی باتیں کرتے تھے تو پڑھا لکھا طبقہ انہیں جاہل کہتا تھا
آپ ٹویٹر سے پیسے کیسے کما سکتے ہیں اگر آپ کو کمانا چاہتے ہیں۔۔
میری اس ویڈیو کو آپ دیکھیں اور اس ویڈیو میں الف سے لے کر ی تک تمام مکمل معلومات اس ویڈیو میں موجود ہے ۔۔۔!
اور اگر آپ کو ویڈیو اچھی لگتی ہے تو اس کے نیچے کمنٹس کرنا ہے اور اس پوسٹ کو ری پوسٹ کرنا ہے تاکہ یہ پوسٹ ہر ان انسان تک چلی جائے جو انسان یہاں سے پیسے کمانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔
#پبلک_آگاہی_میسیج
دہلی کا یہ ڈاکٹر دکھا رہاھے کہ کس طرح اس نےگھٹنوں
کےجوڑوں کےدرد میں مبتلا ہزاروں مریضوں کو ٹھیک کیا
اور بچایا
اسکی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے
گھٹنوں کےہزاروں مریض اس کلپ کو تلاش کررھےہیں
یہ کلپ دیکھیں اور تیاری دیکھیں، پھر آزمائیں یا ان لوگوں کو تجویز کریں
👇1/2
گھاٹے کے سوداگر
ایک سچی کہانی جو آپکو جھنجھوڑ کے رکھ دے گی۔۔۔!
ہنری کا تعلق امریکہ کے شہر سیاٹل سے تھا وہ مائیکرو سافٹ میں ایگزیکٹو منیجر تھا۔ اس نے 1980ء میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا اور اس کے بعد مختلف کمپنیوں سے ہوتا ہوا مائیکرو سافٹ پہنچ گیا.
مائیکرو سافٹ اس کے کیرئیر میں ’’ ہیلی پیڈ ‘‘ ثابت ہوئی اور وہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا ، وہ 1995ء میں کمپنی میں بھاری معاوضہ لینے والے لوگوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا تھا جب تک ہنری کسی سافٹ وئیر کو مسکرا کر نہ دیکھ لے مائیکرو سافٹ اس وقت تک اسے مارکیٹ نہیں کرتی ، ہنری نے کمپنی میں یہ پوزیشن بڑی محنت اور جدوجہد سے حاصل کی تھی وہ دفتر میں روزانہ 16 گھنٹے کام کرتا تھا ، وہ صبح 8 بجے دفتر آتا تھا اور رات بارہ بجے گھر جاتا تھا.
ہنری کا ایک ہی بیٹا تھا ، ہنری دفتری مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا تھا ، وہ جب صبح اٹھتا تھا تو اس کا بیٹا سکول جا چکا ہوتا تھا اور وہ جب دفتر سے لوٹتا تھا تو بیٹا سو رہا ہوتا تھا ، چھٹی کے دن اس کا بیٹا کھیلنے کے لیئے نکل جاتا تھا جبکہ ہنری سارا دن سوتا رہتا تھا.
1998ء میں سیاٹل کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے ہنری کا انٹرویو نشر کیا ، اس انٹرویو میں ٹیلی ویژن کے میزبان نے اعلان کیا کہ ’’ آج ہمارے ساتھ سیاٹل میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی شخصیت بیٹھی ہے‘‘ کیمرہ میزبان سے ہنری پر گیا اور ہنری نے فخر سے مسکرا کر دیکھا ، اس کے بعد انٹرویو شروع ہو گیا ، اس انٹرویو میں ہنری نے انکشاف کیا وہ مائیکرو سافٹ سے 500 ڈالر فی گھنٹہ لیتا ہے.
یہ انٹرویو ہنری کا بیٹا اور بیوی بھی دیکھ رہے تھے انٹرویو ختم ہوا تو ہنری کا بیٹا اٹھا ، اس نے اپنا ’’ منی باکس‘‘ کھولا ، اس میں سے تمام نوٹ اور سکے نکالے اور گننا شروع کر دیئے ، یہ ساڑھے چار سو ڈالر تھے ، ہنری کے بیٹے نے یہ رقم جیب میں ڈال لی ، اس رات جب ہنری گھر واپس آیا تو اس کا بیٹا جاگ رہا تھا ، بیٹے نے آگے بڑھ کر باپ کا بیگ اٹھایا ، ہنری نے جھک کر بیٹے کو پیار کیا ، بیٹے نے باپ کو صوفے پر بٹھایا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا ؛
’’ ڈیڈی کیا آپ مجھے پچاس ڈالر ادھار دے سکتے ہیں ‘‘
باپ مسکرایا اور جیب سے پچاس ڈالر نکال کر بولا ’’ کیوں نہیں میں اپنے بیٹے کو ساری دولت دے سکتا ہوں ‘‘
بیٹے نے پچاس ڈالر کا نوٹ پکڑا ، جیب سے ریزگاری اور نوٹ نکالے ، پچاس کا نوٹ ان کے اوپر رکھا اور یہ ساری رقم باپ کے ہاتھ پر رکھ دی ، ہنری حیرت سے بیٹے کو دیکھنے لگا ، بیٹے نے باپ کی آنکھ میں آنکھ ڈالی اور مسکرا کر بولا ’’ یہ پانچ سو ڈالر ہیں ، میں ان پانچ سو ڈالروں سے سیاٹل کے سب سے امیر ورکر سے ایک گھنٹہ خریدنا چاہتا ہوں ‘‘ ہنری خاموشی سے بیٹے کی طرف دیکھتا رہا ، بیٹا بولا ’’ میں اپنے باپ سے صرف ایک گھنٹہ چاہتا ہوں ، میں اسے جی بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں ، میں اسے چھونا چاہتا ہوں ، میں اسے پیار کرنا چاہتا ہوں ، میں اس کی آواز سننا چاہتا ہوں ، میں اس کے ساتھ ہنسنا ، کھیلنا اوربولنا چاہتا ہوں ،
"ڈیڈی کیا آپ مجھے ایک گھنٹہ دے دیں گے ، میں آپ کو اس کا پورا معاوضہ دے رہا ہوں.
ہنری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، اس نے بیٹے کو گلے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ۔ ہنری نے 1999ء میں
’’ فیملی لائف ‘‘ کے نام سے ایک آرٹیکل لکھا ، مجھے یہ مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا ، اس مضمون میں اس نے انکشاف کیا دنیا میں سب سے قیمتی چیز خاندان ہوتا ہے ، دنیا میں سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑا اطمینان ہماری بیوی اور بچے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ انہیں سب سے کم وقت دیتے ہیں ، ہنری کا کہنا تھا دنیا میں سب سے بڑی بے وفا چیز ہماری نوکری ، ہماراپیشہ اور ہمارا کاروبار ہوتا ہے ، ہم آج بیمار ہو جائیں ، آج ہمارا ایکسیڈنٹ ہو جائے تو ہمارا ادارہ شام سے پہلے ہماری کرسی کسی دوسرے کے حوالے کر دے گا ، ہم آج اپنی دکان بند کر دیں ہمارے گاہک کل کسی دوسرے سٹور سے خریداری کر لیں گے ، آج ہمارا انتقال ہو جائے تو کل ہمارا شعبہ ، ہمارا پیشہ ہمیں فراموش کر دے گا لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ دنیا کی سب سے بڑی بےوفا چیز کو زندگی کا سب سے قیمتی وقت دے دیتے ہیں ، ہم اپنی بہترین توانائیاں اس بے وفا دنیا میں صرف کر دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ہمارے دکھ درد کے ساتھی ہیں جن سے ہماری ساری خوشیاں اور ہماری ساری مسرتیں وابستہ ہیں اور جو ہمارے ساتھ انتہائی وفادار ہوتے ہیں ہم انہیں فراموش کر دیتے ہیں ، ہم انہیں اپنی زندگی کا انتہائی کم وقت دیتے ہیں۔‘‘
Copied
#موناسکندر