روسی Su-57 میں چار اضافی ہارڈ پوائنٹس نصب کیے گئے ہیں جو R-77 سیریز کے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگرچہ Su-57 کی اسٹیلتھ کارکردگی بلاشبہ تشویش کا باعث ہے لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کو بیرونی ہارڈ پوائنٹس سے لیس کرنا مختلف ممالک میں ایک عام عمل ہے، کیونکہ اس سے ہتھیاروں کی گنجائش (پے لوڈ) یا آپریشنل رینج میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اسلام آباد:
آوارہ کتے پر فائرنگ کے دوران مبینہ طور پر دو بچے گولی لگنے سے متاثر، ایک جاں بحق، ایک زخمی
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترامڑی چوک، ایچ بی ایس ہسپتال کے عقب میں واقع گلی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک آوارہ کتا مبینہ طور پر بچوں پر حملہ آور تھا، جس پر محلے کے ایک شخص نے کتے کو مارنے کی غرض سے پستول سے فائر کیا۔
ذرائع کے مطابق فائر غلطی سے دو بچوں کو جا لگا، جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔
اطلاع ملنے پر تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی۔ پولیس نے جاں بحق بچے کی لاش اور زخمی بچے کو قانونی کارروائی اور طبی امداد کے لیے پمز/پولی کلینک ہسپتال منتقل کر دیا۔
روسی افواج نے کوریلیوکا کے شمال مغربی رہائشی علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اور پورا گاؤں اب روس کے قبضے میں ہے۔
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں روسی فوجی بغیر کسی مزاحمت کے علا��ے میں اپنے جھنڈے لہراتے نظر آ رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق روس نے چین کی فوج کو خفیہ فوجی تربیت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال چین نے بھی روسی فوج کو خفیہ تربیت دی تھی، جس کی منظوری روسی وزیرِ دفاع نے دی تھی اور اس میں دونوں ملکوں کے کئی اعلیٰ فوجی افسر شریک تھے۔ یوکرین جنگ سے روس کو کافی جنگی تجربہ ملا ہے، جبکہ چین نے کئی دہائیوں سے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی۔ یورپی حکام چین اور روس کے بڑھتے دفاعی تعلقات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ایک نئی صف بندی ہوتی ��ظر آ رہی ہے اور یہ صف بندی انتہائی خون خرابے کا پیش خیمہ ہو گی٬ جس کا اختتام شاید گریٹر اسرائیل جیسے منصوبے پر ہی ختم ہو گا۔
اسرائیل اور لبنان میں حال ہی میں معاہدہ ہوا ہے٬ جس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔
اسی طرح شام پر زور ��یا جا رہا ہے کہ وہ حزب اللہ سے جنگ کرے٬ جلد یا بدیر جولانی ضرور حکم بجا لائے گا٬ عین ممکن ہے کہ وہ فی الحال اپنی قیمت بڑھا رہاہو۔
دوسری طرف عراق میں کرپشن کے نام پر ایرانی حمایت یافتہ سیاستدانوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ مسلح ملیشیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ تین ماہ میں غیر مسلح ہو جائیں۔
یمن میں سنی قبائل کو اکٹھا کیا جا رہا ہے اور وہ ایک لشکر تشکیل دے رہے ہیں٬ جس کے بعد وہ حوثی ملیشیا پر متحد ہو کر حملہ کریں گے یعنی کہ ایک کھچڑی پک رہی ہے۔
میں اگر کہوں کہ امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل اور ایک مخصوص فرقہ کا اتحاد پا گیا ہے اور وہ دونوں مل کر ہر اس ملک میں خانہ جنگی شروع کروانے جا رہے ہیں٬ جس سے اسرائیل کو کوئی خطرہ ہے۔
اسرائیل کو احساس ہو چکا ہے کہ وہ اکیلے ان تنظیموں کو ختم نہیں کر سکتا اور نا ہی کمزور کر سکتا ہے لہذا اب وہ اتحاد بنا رہا ہے۔
یہ صورت حال انتہائی خطرناک نظر آ رہی ہے٬ ظاہر ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں تباہی ہو گی اور فائدہ صرف اسرائیل کو ہو گا ٬ بالکل ایسے ہی جیسے شام میں خانہ جنگی کا آغاز کروایا گیا اور اس کے بعد اپنے ایجنٹ کو اقتدار دے کر٬ ایک سرحد محفوظ کر لی گئی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاملات حل کرنے کے لیے نرمی اور سختی، دونوں طریقے اپنا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں ایران نے کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا، اس لیے آبنائے ہرمز سے تیل کی آمدورفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے جہازوں پر حملہ کیا تو امریکہ جواب میں کار��وائی کرے گا۔
عراقی عدالت نے ٹیکس اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر ج��رل اور ان کی اہلیہ کو منی لانڈرنگ کے جرم میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت کے مطابق دونوں نے غیر قانونی طریقے سے دولت حاصل کی اور اسے جائیدادیں خریدنے میں استعمال کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایرانی پ��سدارانِ انقلاب نے قطری ثالثوں کو پیغام دیا ہے کہ اگر ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل اختیار کی ضمانت نہ ملی، اور امریکہ سمیت دوسرے ممالک نے عمان کے جنوبی سمندری راستے سے آمدورفت بند نہ کی، تو ایران دوبارہ آبنائے ہرمز بند کر دے گا۔
روس کا دعوی' ہے کہ چار روز پہلے انکے سخوئی 35 طیارے نے آر 37 ایم دور مار میزائل کا استعمال کرتے ہوۓ 200 کلومیٹر دور سے یوکرائنی مگ 29 مار گرایا تھا۔
آر 37 ایم انتہائ دوری تک فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے، اسکی رینج چار سو کلومیٹر بتائ جاتی ہے۔
یہ میزائل امریکی AIM-174 اور چائنی پی ایل 17\15 کی کلاس سے تعلق رکھتا ہے
شہید سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں 25 ہزار رضاکار، 358 ایمبولینسیں، 280 امدادی گاڑیاں، 4 ہیلی کاپٹر اور 3 ہزار سے زیادہ امدادی موٹرسائیکلیں تعینات کی جائیں گی۔