رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس شخص کے پاس ذ بح کرنے کے لئے کوئی ذبیحہ ہوتو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے ، وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ، یہاں تک کہ قربانی کرلے ( پھر بال اور ناخن کاٹے )۔
(صحیح مسلم،قربانی کے احکام۔ ۵۱۲۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ جو کچھ ہم ( انبیاء ) چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
(صحیح بخاری، ۳۰۹۴)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے ۔
(سنن نسائی ،۷۲۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رَحم ( خونی رشتوں کا سارا سلسلہ ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے : جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے گا اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے گا ۔
(مسلم،کتاب حسن سلوک،۶۵۱۹)
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
(بخاری،۲۰۷۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہرنماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔
(ابوداؤد،۱۵۲۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جھوٹا وہ نہیں ہے جو لوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کسی اچھی بات کی چغلی کھائے یا اسی سلسلہ کی اور کوئی اچھی بات کہہ دے۔
(صحیح بخاری، ۲۶۹۲)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نےفرمایا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے،برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ۔
(ترمذی،۲۰۱۶)