ایگزیکٹلی یہی میرے دماغ میں پوائنٹ آیا کہ منسوخ تو آپ تب کریں ایک چیز آپ نے جاری کی تھی۔ جب آپ جعلی کہتے ہیں مطلب کبھی جاری ہی نہیں کی گئی تو پھر منسوخ کیسے ہو گئی؟
جسٹس طارق محمود جہانگیری۔۔۔۔
فیصلہ ساز سمجھے تھے ڈرائیں گے ڈر جائے گا،تنگ کرینگے دبک جائے گا،بچوں کو ڈھال بنائیں بلیک میل ہوجائے گا،ڈوگر سمیت اپنے وفادار لائیں گے،چپ ہوجائے گا،جعلی ڈگری کا کیس بنائیں گے استعفی دے جائے گا،لیکن وہ تو ڈٹ گیا کھڑا ہوگیا اور خود سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوگیا،دلائل دیئے،سامنے بٹھائے گئے ججز نما وفاداروں کو سمجھ نہیں آئی کیا کریں؟
ایک لمحہ چاہیے ہوتا ہے یا تو آپ جھک جاتے ہیں یا ڈٹ جاتے ہیں،جسٹس جہانگیری اور باقی اسلام آباد ہائیکورٹ کے 4 ججز اس وقت حقیقت میں مزاحمت کی علامت ہیں
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
سابق وزیراعظم عمران خان کا وکلاء کے ذریعے پیغام:
“اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک کسی کو نہیں سونپا۔ ڈیل نہ پہلے کی نہ اب کروں گا۔ ڈیل کا خواہاں ہوتا تو 2 سال قبل ڈیل کر لیتا جس میں میرے خلاف کوئی بھی کاروائی نہ کرنے کے عوض دو سال کی خاموشی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ علی امین گنڈاپور اور اعظم سواتی نے مذاکرات کی خواہش کا اظہار ضرور کیا تھا لیکن میرے نزدیک مذاکرات لایعنی ہیں کیونکہ دوسرے فریق کی نیت مسائل کے حل کی بجائے محض کچھ مزید وقت مستعار لینے کی ہوتی ہے۔ علی امین اور اعظم سواتی اپنے تئیں مذاکرات کرنا چاہتے تھے۔ میں نے پہلے بھی واضح طور پر بتایا ہے کہ بطور سیاسی جماعت مذاکرات میں کوئی قباحت نہیں، نہ کبھی مذاکرات کے دروازے بند کئے ہیں، لیکن مذاکرات کا اصل محور پاکستان، آئین و قانون کی بالادستی اور عوامی مفاد ہو نہ کہ میرے یا میری اہلیہ کے لیے کسی بھی قسم کی ڈیل کی خواہش۔
مائنز اور منرلز بل کے حوالے سے جب تک وزیراعلیٰ علی امین اور خیبرپختونخواہ کی سینئیر سیاسی قیادت تفصیلی بریفنگ نہیں دیتی، یہ عمل آگے نہیں بڑھے گا-
پچھلے سات ماہ سے میرے رفقأء اور ایک ماہ سے میری بہنوں اور وکلأ سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی- نواز شریف کو روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتوں کی اجازت تھی جبکہ میری “دہشت” کا یہ عالم ہے ک�� میری ملاقاتوں میں اعلی عدلیہ کے احکامات کے باوجود متعین کردہ دنوں پر بھی رخنہ ڈالا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میرے بچوں سے کال پر بھی بات نہیں کروائی جاتی، میرے ذاتی معالج کو بھی مجھ تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ میں نے قانونی کمیٹی کو جیل انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔
افغان پناہ گزینوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے مقتدر مافیا کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ افغانستان کے خلاف اپنائی جانے والی موجودہ پالیسی سے نفرت کو مزید ہوا ملے گی اور دہشتگردی میں مزید اضافہ ہو گا۔ پہلے ہی روزانہ کی بنیاد پر ہمارے معصوم شہری اور فورسز کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ اس پالیسی کے خلاف خیبر پختونخواہ اسمبلی میں قرارداد پیش کریں جس میں مہاجرین کی ملک بدری کے وقت میں اضافے کا مطالبہ کیا جائے۔ وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو افغان حکومت سے بات کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ دہشتگردی کی وجہ سے وہ بحیثیت صوبہ بہت متاثر ہورہے ہیں۔ اس آگ کو ہوا دینے کی بجائے معاملہ فہمی سے بجھانے کی کوشش کریں۔
الیکشن ٹربیونلز عملاً بالکل ناکارہ ہیں۔ اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی کے بجائے ان کی بھی پوری توجہ مافیا کو بچانے پر مرکوز ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سے ایک قراداد منظور کی جائے جس میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا جائے کہ الیکشن ٹریبونلز کے ججز کو ہدایت دی جائیں کہ تحریک انصاف کی زیر التواء تمام الیکشن پٹیشنز پہ جلد از جلد فیصلہ کیا جائے۔
پارٹی ممبران کے آپسی اختلافات کا عوامی فورمز اور میڈیا پر اظہار اپنے مخالفین کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ اختلافات کو پبلک کرنے کی بجائے اس امر کو یقینی بنائیں کہ معاملات کو بہتر طریقے سے پارٹی فورم�� پر حل کر سکیں۔
تحریک انصاف پاکستان کی واحد وفاقی جماعت ہے جو اپنے طور پر کسی بھی وقت ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلا سکتی ہے- کوئی بھی جماعت کمزور تب ہوتی ہے اگر عوام اس کے ساتھ نہ ہو۔ اس وقت پورا پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا ہے- لیکن ہماری خواہش ہے کہ متفقہ نکات پر ہم با��ی پارٹیوں کو بھی ساتھ ملا کر چلیں- میں اپنی سیاسی قیادت کو ہدایت کرتا ہوں کہ موجودہ و ممکنہ اتحادیوں سے رابطے کا عمل تیزی سے مکمل کر کے اتحاد کو حتمی شکل دی جائے اور مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے، احتجاج سمیت تمام آپشنز ٹیبل پہ موجود ہیں۔ حکمت عملی کا اعلان جلد کیا جائے گا۔”
انا للہ وانا الیہ راجعون
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْت
پاکستان تحریک انصاف آرمی چیف کی والدہ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہے۔
“I am deeply grateful to Saudi Crown Prince HRH Mohammed bin Salman for responding to my appeal and releasing nearly 7200 poor and deserving Pakistani citizens from Saudi prisons.
I have always strived to use my position and influence to improve the lives of ordinary Pakistanis. This is precisely the reason for me entering in politics, and I will continue to advocate for it as long as I live.” - Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan