Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
Our demand has been clear from the beginning: Imran Khan has to be examined and treated by specialist doctors in the presence of his personal doctor (Dr. Asim Yousaf) along with a family member present at Shifa International in Islamabad.
The Govt rejected the specialist recommended by our doctors, so they were provided with alternative names. We had given Dr. Uzma Khan’s name to represent our family. We were told that Imran Khan’s sisters will not be permitted and we must provide an alternative name to represent the family. We then gave them our cousin Dr. Nausherwan Burki’s name to represent the family. We are very disturbed when they rejected his name as well.
This is unacceptable! Our concerns are growing as to WHY are they rejecting our family member to be present? Are both names (Dr. Uzma and Dr. Nausherwan) being rejected because they are highly qualified doctors?
آپ نے نیٹ میٹرنگ پر شور تو ایسے مچایا ہوا ہے جیسے اگلوں نے کوئی بات سُننی ہے یا اُنھیں کوئی احساس ہے۔ کیا کر لیں گے آپ؟ ووٹ نہیں دیں گے؟ اُنھیں ضرورت ہی نہیں۔ فارم ۴۷ پھر مِل جائیں گے۔ جان لیں آپ کی اس نظام میں کوئی حیثیت نہیں۔ آپ کا کام صرف کمر توڑ ٹیکس دینا ہے اور اگلوں کا کام اُس پیسے پر موجیں کرنا ہے۔
Any government that murders its own innocent citizens is illegitimate, and the November killings by Pakistani forces is no exception. No regime should silence its people through violence. I stand with my Pakistani brothers and sisters in calling for justice and freedom.
There are eyewitness reports alleging that a massacre took place in Islamabad on Wednesday, November 25th, and as many as 400 peaceful demonstrators were killed. There must be an independent investigation to determine exactly what happened. Both Pakistanis and those in the international community who support freedom and human rights must insist on it. #Pakistan
شاید اب بلوچستان سے باہر لوگوں کو اس ریاست کے فاشسٹ اور جابر ہونے کی حقیقت سمجھ آنے لگی ہے۔
اسلام آباد میں معروف صحافی مطیع اللہ جان کی جبری گمشدگی، جھوٹے ایف آئی آر میں گرفتاری، اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین پر تشدد اور قتل نے ریاست کے فاشسٹ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک صحافی کو ریاست کے دارالحکومت سے جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے اور اگلے ہی دن ایک جھوٹے ایف آئی آر میں گرفتاری ظاہر کی جاتی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ا��دازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں ( جہاں نے میڈیا ہے اور نہ انٹرنیٹ) میں بلوچ عوام کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہوگا۔ انہیں جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد جعلی مقابلوں میں قتل کر کے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، یا مہینوں بعد جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنان پر جبر اور تشدد کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی موجودگی میں مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں، انہیں قتل اور زخمی کیا گیا، اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس ریاستی جبر کہ ہم مذمت کرتے ہے ،یہ سب ریاست کے ظلم اور جبر کی واضح نشانیاں ہیں۔
اب شاید بلوچستان سے باہر رہنے والوں کو یقین ہونے لگا ہے کہ یہ ریاست کس حد تک فاشسٹ اور جابر ہے۔ اگر اسلام آباد جیسے شہر میں، جہاں ہزاروں کیمرے موجود ہیں، ریاست کھلے عام لوگوں کو قتل کر سکتی ہے، تو بلوچستا�� کے ان علاقوں میں، جہاں میڈیا اور انٹرنیٹ غیر موجود ہو، ریاست کا رویہ کس قدر سفاک ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
پہلے جب ہم کہتے تھے کہ ریاست بلوچستان میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، تو یہی لوگ ریاست کے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہمیں بیرونی ایجنٹ اور دہشت گرد قرار دیتے تھے۔ لیکن اب شاید انہیں یہ سمجھ آ رہا ہے کہ اس ریاست میں کوئی بھی شخص اپنی بنیادی انسانی حقوق، اظہار رائے کی آزادی، نقل و حرکت کی آزادی، یا سیاسی و سماجی حقوق کی بات کرے تو اسے ریاست کی طرف سے جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں قتل کیا جاتا ہے، جعلی مقابلوں میں مارا جاتا ہے، جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا جاتا ہے، اور ان کے خاندان کو اجتماعی سزا دی جاتی ہے۔
ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ اس ریاست کے ظلم و جبر سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ آج جو لوگ ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر ہمارے مظالم کو نظرانداز کر رہے ہیں، کل یہی ریاست ان کے گھروں کو بھی آگ لگا دے گی۔ آج ہماری باتیں حرف بہ حر�� درست ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود، ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جبر اور ظلم کا یہ درد کیا ہوتا ہے۔
جب اسلام آباد میں مظاہرین پر گولیاں چلائی جا رہی تھیں، اسی وقت گوادر میں ہمارے نوجوان بشیر بلوچ کو کئی مہینوں کی جبری گمشدگی کے بعد جھوٹے مقدمے میں گرفتار ظاہر کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اسے جعلی مقابلے میں قتل کر کے دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ گزشتہ روز تربت سے ڈاکٹر ظفر کو ان کے بیٹے اور پانچ مہمانوں سمیت جبری لاپتہ کیا گیا، جبکہ کراچی سے ایک نوجوان بلوچ وکیل اور ایک ایئرپورٹ پولیس اہلکار کو بھی لاپتہ کیا گیا۔ گزشتہ روز تربت میں 16 سالہ اسرار بلوچ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، اور گوادر میں عبدالغفار نامی ماہی گیر کو کوسٹ گارڈ نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ صرف پچھلے مہینے 100 سے زائد بلوچ نوجوان جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں اور متعدد افراد کا قتل کیا گیا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے اوپر ہونے والے مظالم پر آج بھی میڈیا، سیاستدان، اور انسانی حقوق کے علمبردار خاموش ہیں۔
#StopBalochGenocide
#IslamabadMassacre
#ReleaseMatiUllahJan
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج اور مظاہرین پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد کارکنوں کی ہلاکت اور زخمی کیے جانے کے متضاد دعوے کیے گئے، حکومت کہتی ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ بی بی سی نے ان دعووں کی حقیقت جاننے کے لیے ہسپتالوں کا ریکارڈ دیکھا اور لوگوں سے بات کی
I have combined all of the missing and arrested persons lists of KP that have been made public so far. This is a single image and can be easily spread all over. Kindly do your thing; this is the least we can do for our people.
PDF link:
https://t.co/ldndn4Kx3O
پی ٹی آئی کے خلاف گرینڈ آپریشن کے بعد اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بی بی سی کی ٹیم نے کیا دیکھا؟ ’صرف چیخیں تھیں۔ ہر بندہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ وہ قیامت تھی، جیسے جنگ ہو رہی ہو۔ میرے ہاتھوں پر ان (شوہر) کا خون ہی خون تھا۔۔۔‘
مکمل خبر: https://t.co/GQYpnL3PJE