اٹھ بال بنا ایسی اداسی بھی نہیں ہے
اور ایسی اداسی تجھے جچتی بھی نہیں ہے
اے ترک تعلق پہ تلے شخص خبردار
تیری تو کسی اور سے بنتی بھی نہیں ہے
مت بانٹ محبت کہ تیرے پاس تو جتنی
مجھ ایک کو درکار ہے اتنی بھی نہیں ہے۔
وہ بھی دن تھے کہ دمِ صبح چلے آتے تھے دوست
یہ بھی دن ہے کہ سرِ شام نہیں ہے کوئی
رات کے شہر میں اک چاند کا گھر ہے روشن
دکھ تو یہ ہے کہ لبِ بام نہیں ہے کوئی
ختم ہو جائے ذرا چائے تو پھر چلتے ہیں
اس ملاقات کا انجام نہیں ہے کوئی
دکھ نہیں سکھ نہیں آرام نہیں ہے کوئی
وا ئے وحشت کہ مجھے کام نہیں ہے کوئی
ایک مدت سے پکارا نہیں تم نے مجھ کو
ایسا لگتا ہے مرا نام نہیں ہے کوئی
بس اسی بات پہ اکتایا ہوا پھرتا ہوں
تم ہو مصروف مجھے کام نہیں ہے کوئی
انسان پریشانیوں کی گنتی کا ماہر ہے،
لیکن نعمتوں کا حساب رکھنا بھول جاتا ہے...
ہم ہر تکلیف کو یاد رکھتے ہیں،
مگر ہر چھوٹی بڑی نعمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اگر انسان شکوہ کم اور شکر زیادہ کرنا سیکھ لے،
تو زندگی خود بخود آسان ہو جاتی ہے۔
تیرے عتاب سے کتنی نباہ کی ہم نے
نہ کوئی اشک بہایا نہ آہ کی ہم نے
تجھے بھی ہم سے شکایت ہے اے دلِ ناداں
تیرے لیے تو جوانی تباہ کی ہم نے
عدم! ہماری جوانی ہماری دولت تھی
بڑی فراخ دلی سے تباہ کی ہم نے
راہیں دھوئیں سے بھر گئیں میں منتظر رہا
قرنوں کے رخ جھلس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے
تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
مجید امجد
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم
اک لمحہ آ کے ہنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ
ہر سو شرر برس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں
دن دلدلوں میں دھنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا