پنجاب پولیس کوبتایا بھی گیا یہ صحافی ہے اسکو مت مارو لیکن انہوں نے ایک نہ سنی سرعام ایک صحافی کے ساتھ مارپیٹ کر کے قیدیوں کی وین میں صحافی کو بند کر دیا یہ ایک پیغام تھا جو سب صحافیوں کو دینا تھا پیغام دینے کے بعد اس صحافی کو چھوڑ دیا اب سب صحافی انتظار کریں اگلی باری کس کی ہے؟
یہ دھکتا لاوا جہنم کی آگ کا 0.1 فیصد بھی نہیں ہو گا، پھر بھی پتہ نہیں کیوں لوگ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرتے ہوئے، ایک دوسرے کا حق چھینتے ہوئے ایک دفعہ بھی نہیں سوچتے۔