Pakistan is under great existential threat from courrupt Army Generals!
By using Spy Agency ISI, generals are controlling 5th Worlds largest Population!
@Kasim_Khan_1999 None other than three persons are involved regarding dangers to Imran Khans Life
⛔️ Army Chief Asim Munir
⛔️ DG ISI Asim Malik
⛔️ ISI Internal Wing head; Major General Faisal Naseer!
Only ONE INSTITUTE Responsible Khans life
That is
🚨"PAKISTAN ARMY"
spokeperson @OfficialDGISPR
@enkidureborn کچھ ہو نہ ہو ریال پالیٹکس کے according فی الوقت عاصم خنزیر اور محسن نقوی کا ستارہ عروج پر ہے کوئی شک نہیں کے آگے صرف زوال ہے لیکن فی الحال حالات کو ان دونوں کھسروں نے مینج کر لیا ہے، بس بات یہ ہے کہ نیچے والے بھی سارے چوتیا نکلے ان دونوں کو اوتار بنوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی
کیا پاکستان اور سعودی عرب ابھی امریکی اثر سے آزاد ہوسکتے ہیں؟
نہیں
کیا امریکہ ایران کو خطے میں طاقتور ہونے دے گا؟
نہیں
کیا عاصم منیر پاکستان کے مفادات کا نمائندہ ہے؟
نہیں
کیا عاصم منیر کوئی مدبر ، پر مغز یا دور اندیش انسان ہے؟
نہیں
کیا امریکہ پاکستان ایران ترکی سعودی عرب کو مل بیٹھنے دے گا؟
نہیں
اب کیا ہوگا ؟
کچھ بھی تو نہیں
قیامت سے یہ لوگ ڈرتے نہیں
واہ کمال ہے کمال
آشفتہ کو فالو کرتے جائے دنیا کو دکھائیے عمران خان کے دیوانے کیسے عمران خان کے نام لیواوں پر جانثار ہوتے ہیں
@AshuftaaSar
cc;
@enkidureborn
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
عمران خان پر جیل میں جسمانی تشدد کی تصدیق اپوزیشن لیڈر کررہا ہے۔ اگر اس سب کے باوجود تحریک انصاف اسمبلیوں میں بیٹھی رہتی ہے تو پھر بیرسٹر گوہر ، سلمان اکرم راجہ ، محمود اچکزئی سمیت اسمبلیوں میں بیٹھے تین سو لوگ عمران خان کے قتل کے سہولتکار ہوں گے۔
اللہ نہ کرے کسی دن ایسا ہو لیکن تحریک انصاف کے کسی نا کسی رہنما یا رکن اسمبلی کو کسی دن کوئی جذباتی کارکن دو چار چپیڑیں کروا دے گا پھر انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ کس آگ سے کھیل رہے ہیں۔
ماضی کی کارکردگی کو دیکھ کر اب یہی ہوسکتا ہے کہ سلمان اکرم راجہ صاحب کو چھ دن بعد پریس کانفرنس کرنا یاد آئے یا بیرسٹر گوہر کو ہفتے بعد عمران خان پر تشدد کی خبروں کا ذکر کرنا۔
پاکستان میں امن کے لیے افغانستان کیساتھ مذاکرات کرنا شرک ، گناہ اور ملک دشمنی ہے لیکن سعودی عرب اور امریکہ کے لیے ایران کیساتھ بیٹھنا اور مذاکرات کا نمائندہ بننا حلال ہے؟
رجیم چینج کی متعدد وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی ، شاید سب سے بڑی وجہ ۔ عمران خان کا حکومت اور فیصلہ سازی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنا۔
آرمی چیف اور اس کا سالا اب کٹھ پتلی وزیر اعظم ، کٹھ پتلی وزیرخارجہ کو نمائش کے لیے بھی ساتھ نہیں لے جاتے ساتھ نہیں بٹھاتے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
جن کو اس طرح کی طاقت کا نشہ لگ جائے وہ سولی پر بھی چڑھا دئیے جائے تو بھی اپنی انا نہیں توڑتے بارہا کہا عاصم خنزیر اور محسن نقوی فوج کو چلا رہے ہیں عاصم ملک یا اسحاق ڈار کی جگہ محسن نقوی بیٹھا ہے
عمران خان کا باہر نکلنا معجزے سے کم نہیں
@enkidureborn
🇵🇰 Imran Khan’s 3 sisters have already spent OVER A MONTH behind bars, and Pakistan just found a way to keep them there until at least November 26.
Punjab’s government has EXTENDED the detention of Aleema Khan, Uzma Khan and Noreen Niazi by ANOTHER 30 days, under a public order law normally aimed at people seen as threats to public peace.
Their family asked a court to free them, but the judge threw the case out over a paperwork issue.
Meanwhile, a terrorism court has pushed back its verdict against Aleema yet again, to November 26, the same day her detention ends.
Whether that timing is a coincidence is anyone’s guess, but there are fears Aleema could be arrested again in the terrorism case as soon as her detention ends.
3 sisters with no political roles, held under one law until another can take over. Is this how justice works in Pakistan now?
Sources: @WaqasAwan666, @writetofahim / Writer: Julie
بہت بڑی خبر۔ l 🇸🇦 🇹🇷 🇵🇰 🚨🚨
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے سیکورٹی چیف آج ایمرجنسی میں تہران پہنچ رہے ہیں۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف آج تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔
ایران اور ان تینوں ممالک کے درمیان یہ اپنی نوعیت کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس ہو گا۔
یہ جنگ ٹالنے کی آخری desperate کاوشیں ہیں۔⏰️Clock is ticking
میرے پاس ایک پڑیا ہے جو آپ کے کئی مسائل حل کرسکتی ہے۔ اگر آپ دو گلاس پانی پی کر لمبے لمبے سانس لیکر اس پڑیا کو کھول کر پڑھیں گے تو آپ کے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ جی نہیں یہ پڑیا بادی و خونی بواسیر ، دائمی قبض ، خاندانی شوگر ، بڑھے ہوئے پیٹ یا گنجے پن کا علاج ہرگز نہیں ہے۔ البتہ یہ پڑیا آپ کی مایوسی ، دل شکستگی اور ناکامی کے احساس کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ تو پھر کھولیں پڑیا اور پڑھیں۔
آپکی جس فوج سے لڑائی ہے
وہ کشمیر حاصل کرنے میں ناکام
مشرقی پاکستان میں ناکام
کارگل میں ناکام
سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے میں ناکام
بلوچستان میں ناکام
پختونخواہ میں ناکام
ایس آئی ایف سی میں ناکام
سرمایہ کاری لانےمیں ناکام
کیا ناکام ناکام کی گردان کرنی اب پڑیا کی سائیڈ کو پلٹیں وہاں بھی کچھ لکھا ہے۔
یہ آپ سے الیکشن ہارے
یہ آپ کو کنٹرول کرنے میں ہارے
یہ آپ کے سامنے بیانیہ بنانے میں ہارے
یہ آپ پر ریڈ لائن لگانے میں ہارے
یہ آپکے لیڈر کو توڑنے میں ہارے
یہ آپ کو بہکانے میں ہارے
یہ آپ کے سامنے اپنی عزت ہارے
وقتی مایوسی ہے ، بہت ہے ، ہوتی ہے ، ہم سب کو ہے ۔ عمران خان کی قید تنہائی ، بہنوں کی نظر بندی ، پارٹی کی کمزوری ، گروپنگ و لڑائی یہ ہمیں اندر ہی اندر توڑ رہی ہے۔ ماننے میں کیا ہرج ہے۔ مان لیتے ہیں۔ ہم کوئی عمران خان تھوڑی ہیں؟ جو مانیں نہیں۔ نہ معافی کا مطالبہ مانیں ، نہ خاموشی کا مطالبہ مانیں ، نہ ہی جلاوطنی کا۔ عمران خان نہیں مان رہا ؟ اگر وہ مشکل میں ، قید میں ، اذیت میں نہیں مان رہا تو ہم کیسے مان جائیں؟
تھوڑا حوصلہ ہوا ؟ مزید ہوگا ، رکھ تقویٰ رکھ محبوباں والا ، آج شام تک ، کل شام تک پرسوں شام تک ، ہفتے تک پاک فوج کسی مزید گہرےگڑھے میں پھنسی ہوگی ، اسکے ٹاوٹ چیخ رہے ہوں گے ، آپ کے جذبے جوان ہوں گے ، یہاں ایکس پر پاؤں رکھنے کی جگہ نہ ہوگی۔ یہی ہوتا ہے۔ ہر مایوسی کے بعد ، ہر ناکامی کے بعد نئی امید ایک اور امید ، اب بھی یہی ہوگا۔
رکھ تقویٰ رکھ محبوباں والا
عادی مجرم کہہ رہے ہیں تحریک انصاف کے پختونخواہ کے اراکین اسلام آباد میں ہیں ۔ ان میں سے ایک نابغہ وہ ہے جو مُصر رہا کہ عمران خان کا شفاء ہسپتال کے خفیہ وارڈ میں علاج ہورہا ہے۔
فوج خود اتنی زچ ہے کہ مہینے میں ایک دفعہ سیاست سے لاتعلقی کا جھوٹ بولتی ہے ایسے میں فوج سے تعلق کی لعنت کوئی غیرت مند نہیں سمیٹے گا۔
میری 21 اکتوبر کی ٹویٹ پر معزرت کا مطالبہ ٹویٹ کے متن کو نہ سمجھنے یا جان بوجھ کر اسکو غلط رنگ دینے پر مبنی ہے۔ اس ٹویٹ میں خیبر پختونخواہ اسمبلی یا خیبر پختونخواہ کی پارٹی تنظیم پر ہرگز کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے ممبران اور تنظیمی عہدیداران عمران خان کے وفادار ہیں۔ میری ٹویٹ ایک ممکنہ بیرونی سازش کے تناظر میں کی گئی تھی۔ کسی قسم کی معزرت کی ہر گز ضرورت نہیں۔ پارٹی کے اندرونی نظم پر حملے ابھی ختم نہیں ہوئے۔