ان مجالس میں ذکرِ حسینؑ تجارت کے لئے نہیں ہے، کاروبار کے لئے نہیں ہے، ذکرِ حسینؑ فروخت کرنے کے لئے نہیں ہے، چادرِ زینبؑ بیچنے کے لئے نہیں ہے، علی اصغرؑ کے گلے کا خون بیچنے کے لئے نہیں ہے، علی اکبرؑ کی جوانی و شہادت فروخت کرنے کے لئے نہیں ہے،
#hussain
3)
ذکرِ حسینؑ کرنے سے ہوگا کیا؟
رسولؐ ﷲ فرماتے ہیں ”إنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ حَرَارَةٌ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لَنْ تَبْرُدَ أَبَداً“ ذکرِ حسینؑ کا اثر رسولؐ فرماتے ہیں کہ اثر یہ ہے اس کا کہ مومن کے دل کو تڑپا دیتا ہے، مومن کے اندر حرارت پیدا کر دیتا ہے۔
دو چیزوں کی وجہ سے تم اتنے کمزور ہو جاؤ گے کہ دشمن تمہارے اوپر ٹوٹ پڑیں گے۔
ایک؛ موت کا خوف تمہارے اندر پیدا ہو جائے گا، موت سے ڈر جاؤ گے، بزدل ہو جاؤ گے۔ اور
دوسرا؛ حبِ دنیا، حرام خوری تمہارے اندر اتنی بڑھ جائے گی، تمہارے پیٹ میں لقمہِ حرام آئے گا،
آپ ہمارے امام، آپ ہمارے خلیفہ، آپ امیر المومنین ہو!
“عزیزان! اگر ناصر وجود میں آ جائیں، مزاحمت کیلئے تیار ہوں، امام کی قیادت عملی قبول کرنے کیلئے تیار ہوں اور امامت کو نظام مانتے ہوں ایسے معاشرے کی طرف امام رخ کرتے ہیں۔”
#imam#Ali#khilafat#imamat
“شبِ عاشور”
“ایک ایک صحابی نے اٹھ کر امام حسین علیہ السلام سے اپنے عہد کی تجدید کی اور کہا، اے حسینؑ! یہ تو ایک جان ہے، اگر ہزار بار ہمیں کاٹا جائے، ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے پھر زندگی دی جائے، ہم پھر بھی آپ کے قدموں میں نثار ہونگے۔”
اور انہوں نے جو کہا وہ سچ کر دیکھایا۔
#ashura
3/3
کیوں ساتھ چھوڑا امام کا؟ خاذلین! اس لیے کہ امام ہر چیز پر، مکہ پر، حج پر، عبادت پر، مستحب نوافل پر، ہر چیز پر قیام کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن خاذل ہر چیز کو قیام پر ترجیح دیتا ہے۔
ہم صرف اسرائیل، امریکہ، اور انکو لعنت کر رہے ہیں جو قاتل ہیں وہاں پر۔ خاذل کون ہیں؟ یہ آلِ سعود خاذل ہیں، یہ عرب حکمران خاذل ہیں، یہ امارات کےحکمران خاذل ہیں، یہ قطر اور بحرین کےحکمران خاذل ہیں، یہ دبئی اور کویت کےحکمران خاذل ہیں، اور انکی دُم سے بندھےہوئے پاکستانی حکمران
#gaza
2/+
یہ خاذل ہیں۔ اور ترکی حکمران، یہ خاذل ہیں۔ ملائیشیا، انڈونیشیا یہ خاذل ہیں۔ انہوں نے فلسطین قاتلوں کو دے دیا ہے، انہوں نے غزہ قاتلوں کے حوالے کر دیا ہے۔ خذل کیوں کیا؟
3/3
وہ فرقہ کیوں بناتے ہیں! کیوں اتحاد کے ساتھ نہیں رہتے، باقی مسالک کے ساتھ اتحاد کیوں نہیں کرتے؟ کیونکہ باقی مسالک کے ساتھ اتحاد کریں گے تو میری دکان بند ہو جائے گی۔
چونکہ تفرقہ پاکستان میں کاروبار ہے! تقسیم کرنا لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر، یہ لوگوں کا بزنیس ہے، یہ دین نہیں ہے! اس کو نام دین کا دیتے ہیں۔ یہ ہے کاروبار ہے ان کا۔ تفرقہ پھیلانے کے پیسے ملتے ہیں، تفرقہ پھیلانے کی ان کو فیس ملتی ہے، تفرقہ پھیلانے سے ان کو قیادت ملتی ہے،
2/+
تفرقہ پھیلانے سے ان کو بزرگی ملتی ہے، تفرقہ پھیلانے سے ان کو رہبری ملتی ہے، تفرقہ پھیلانے سے ان کا جتھہ بنتا ہے، تفرقہ پھیلانے سے ان کو وسائل ملتے ہیں۔ یہ بات آپ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کسی بھی مسلک و مذہب کے اندر جو تفرقہ باز لوگ ہیں، جو تفرقہ پرست لوگ ہیں،
جب تک نماز کایاعبادت کا پورا ڈھانچہ قائم نہ کر لیں اور دین کا ڈھانچہ مکمل ہوتا ہےامامت سے۔ امامت کے بغیر نہ کوئی عبادت لوگوں کو متحد کر سکتی ہے، نہ کوئی روزہ ان کو متحد کر سکتا ہے، نہ کوئی تنظیم ان کو متحد کر سکتی ہے، نہ کوئی بچھڑا، گوسالہ اور عِجل ان کو متحد کر سکتا ہے۔
#imamat
حبل ﷲ کوتھامو،اللّٰه کی رسی وہ دین ہےاور ﷲ کی رسی میں دین نماز بھی ہے،دین حج بھی ہے،دین روزہ بھی ہے۔ روزےکواتحاد کی بنیاد نہیں بنا سکتےآپ کہ آپ روزے پہ متحد ہو سکتے ہیں۔حتیٰ نماز بھی بایں کہ اتحاد کی مشق نماز ہےلیکن پھر بھی آپ فقط نماز کو نظر میں رکھ کر اتحاد قائم نہیں کر سکتے
2/2
اتحاد طاغوت کی پیروی کے لئے،اتحاد اپنی چھتری کے نیچے سب کو لانے کے لئے۔ یہ اتحاد نہیں ہے، اس کو نہیں کہتے اتحاد کہ باقی سارے لوگ ہماری چھتری کے نیچے آ جائیں! نہ، چھتریاں بند کرو سارے۔ سارے اپنے اپنے امبریلے بند کرو اور فقط دین کی چھتری کے نیچے آؤ، حبل ﷲ کے نزدیک اتحاد ہوگا۔
لیکن اتحاد کس بات پر! ایک تو اتحاد ہے جو امت کی بنیاد ہے، اس کے بغیر کوئی امت تشکیل نہیں پا سکتی،توہم ہے اتحاد کے بغیر،وحدت کے بغیر۔
لیکن اتحاد کس بنیاد پر! اتحاد اقتدار کے لئے،اتحاد کاروبار کے لئے،اتحاد کسی فساد کا حصہ بننے کے لئے، اتحاد لوگوں کو ورغلانے کے لئے،#muslim#unity
اور پھر یہ منظر دیکھ کر عمر ابن سعد کے لشکر میں کلبلی مچ گئی۔ وہ دیکھ کر یہ باتیں کرنے لگے کہ اتنا ظلم نہیں ہونا چاہیےکہ سب پانی پی رہے ہیں، جانور پانی پی رہے ہیں، پرندے پانی پی رہے ہیں، انسان پانی پی رہے ہیں، اہلِ رسول پہ اتنا ظلم کہ شِیرخواربھی پانی نہ پیئے!
یہ روایت حمید ابن مسلم ذکر کرتا ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں پر اس لشکر کے سامنے سفید کپڑے میں لپٹا ہوا علی اصغرؑ کو جب اٹھایااور ہاتھ میں اٹھا کر انکے سامنے پیش کیا اور ندا دی لعینوں!اگر ہمیں پانی نہیں دیتے، اس بچے کو دوگھونٹ پانی دے دو۔