ایک اللہ کے ولی نے فرمایا تھا ان کو پہاڑی کا بتاؤ کہ وہ سامنے والی پہاڑی ہے اس کو سر کرنا ہے، شائد وہ کرلیں لیکن ان سے ملک نہیں چلنا، ان کی ٹرینینگ ہی نہیں ہے۔
پمز ہسپتال اسلام آباد کا آج کا واقعہ بہت ہی افسوسناک دل دہلا دینے والا ہے۔
کب سے بتا رہے ہیں کہ اسلام آباد کا خیال کیجئے یہاں پر تمام انفرا سٹرکچر تباہ ہو چُکا، رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، ہر طرف نا اہلی کا راج ہے۔
پُوری دُنیا کی صُلح کروا رہے ہیں اور اپنے دارالحکومت کا حال شرمناک۔
اتنا لکھنے اور بولنے کا فیصلہ سازوں پر کیا اثر ہوا؟
Previously we were told that students stormed the conference room and forced her to lock herself in her office. Now we're being told the students weren't even letting her enter the campus.
Every few hours Mehurb receives a new revelation causing her to change the story.
I am going to give one of the most controversial opinion, but I firmly believe in it, and time has proven me right. And that is no woman enters the field of showbiz until and unless her state of mind comes down to the level of a Tawaif, and no man enters until and unless he is a Dalaal. Otherwise, you can't do this profession. #HaniaAmir #HaniaAamir #Showbiz #Pakistan #Pakistani #Pakistanishowbiz #TabishHashmi #MehwishHayat #AbeerAsadKhan #Showbiz
“My brother and I have not been able to visit our father for years. For the past six months, we haven’t even spoken to him. What my father is going through is a violation of his human rights.” - Sulaiman Khan, son of Imran Khan, addressing a press conference.
The Supreme Court has ordered that Imran Khan be allowed to speak with his children. Yet the authorities continue to deny him this basic right, in addition to refusing visas that would allow @Kasim_Khan_1999 and Sulaiman Khan to travel to Pakistan to see their father.
#FreeImranKhan
سرحد یونیورسٹی میں خاتون پولیس کا ڈنڈا چھین رہی ہے ایک کلپ میں بیریئر کو لات مار رہی ہے اس خاتون کے بارے میں بھاڑے کے ٹٹو کہہ رہے تھے کہ اسے ہراس کیا گیا۔ راتب خوروں بولو کون کس کو ہراس کر رہا تھا اور کون تکبر رعونت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ شرمناک بھاڑے کے ٹٹو شرمناک
“بادشاہ ننگا ہے، مگر سلطنت کا کوئی بندہ کہنے پر تیار نہیں!” ہنس کرسچن اینڈرسن کی مشہور کہانی “The Emperor’s New Clothes” بچوں کی کہانی سے کہیں بڑھ کر انسانی نفسیات، خوف، خوشامد اور استبداد کی عکاسی ہے۔ ایک متکبر بادشاہ کو دو ٹھگ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ایسا لباس بنائیں گے جو صرف عقلمند، اہل اور وفادار لوگوں کو نظر آئے گا۔ بیوقوف، نااہل اور سلطنت دشمن اسے دیکھ ہی نہیں سکیں گے۔ درباری خالی کھڈیوں کو دیکھ کر بھی لباس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ بادشاہ خود بھی کچھ نہیں دیکھ پاتا، مگر نااہل اور ریاست دشمن کہلانے کے خوف سے واہ واہ کرتا ہے۔ آخرکار بادشاہ ننگا دھڑنگ شاہی جلوس میں نکلتا ہے اور پورا شہر “واہ! کیا شاندار لباس ہے!” کے نعرے لگاتا ہے۔ پھر ایک بچے کی بے خوف آواز گونجتی ہے: “بادشاہ ننگا ہے!” اچانک سب کو وہ سچ نظر آنے لگتا ہے جسے سب پہلے سے جانتے تھے مگر لالچ، ڈر اور خوف کی وجہ سے خاموش تھے۔ خوف، خوشامد اور مصلحت مل کر جھوٹ کو اجتماعی سچ بنا دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بادشاہ ننگا ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جرات کون کرے جو خوشامدیوں میں گھرے بادشاہ کو بتا سکے کہ “بادشاہ ننگا ہے”؟ سچ کو دبانے کے لیے پوری سلطنت درکار ہوتی ہے، مگر سچ بولنے کے لیے کبھی کبھی صرف ایک بے خوف بچہ کافی ہوتا ہے جو پکار اٹھتا ہے: THE EMPEROR IS STRIPPED NAKED
ہمارے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ 20 سال سے آپریشن کررہے ہیں لیکن مرض بڑھ رہا ہے، اس کا مطلب ہے کہ تمہاری پالیسیاں ناکام ہیں۔ تم اپنی حکمت عملی میں بدنیت ہو اور کہتے ہو ریاست ماں ہے لیکن ماں تو اولاد کو جوڑتی ہے لیکن ہمیں ایسی ماں ملی ہے جو انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پر لعنت ہے، مولانا فضل الرحمٰن
ابھی چند روز پہلے جو قانون سازی ہوئی وہ آئین کے خلاف ہے۔ آئین کا آرٹیکل 243 کہتا ہے کہ تینوں مسلح افواد کا سپریم کمانڈر صدر ہو گا اور ان تینوں افواج کے سربراہان کا تقرر صدر مملکت کے مشورے سے وزیر اعظم کرے گا اور ہم نے تقرر کا اختیار ایک ادارے کے سربراہ کو دے دیا ہے یعنی کے وفاق کا اختیار بھی ایک ادارے کے سربراہ کو دے دیا گیا، مولانا فضل الرحمٰن
ہم اپنے اس دوست (عمران خان) کی مدد کرنا چاہتے ہیں جس کے ساتھ ہم نے کرکٹ کھیلی۔ ہمیں پاکستان کے قوانین کا علم نہیں، لیکن انسانیت کے ناطے کسی بھی قیدی کو بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں۔ عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم اور دنیا کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک رہے ہیں، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں بہترین علاج اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں مانگ رہے، کپل دیو
عمران خان ہسپتال منتقلی، پہلے ڈاکٹر عظمی خان کی درخواست پر اعتراض لگے، وکلا نے اعتراض دور کر دوبارہ درخواست دائر کی، اب رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے توہین عدالت درخواست کو نمبر الاٹ کردیا، ڈاکٹر عظمی خان کی توہین عدالت درخواست کو 8/2026 نمبر لگایا گیا !
اگر جلدی نہیں سننا تھا تو پھر سپریم کورٹ کے بنچ نے 18 اگست کے آرڈر میں یہ لکھا ہی کیوں تھا کہ خلاف ورزی یا عدم عمل درآمد پر فریقین درخواست دائر کر سکیں گے