I used to admire you n follow you but from tday onwards i take you as RAHBER .. you are beyond being a leader or PM.. you are one who holds the LANTERN.. who holds your hand n show you the path.. so Proud @ImranKhanPTI#Budget2019#PMIKAddress
Alhamdullilah
Alhamdullilah
Alhamdullilah
Rab ka jitna b shukr ada ho kam hai.. Allah ne @ImranRiazKhan bhai ko khair se ghar pohnchaya Alhamdullilah 🤲🤲🤲
Waiting for our leader to be home as well @ImranKhanPTI In Shaaa Allah soon♥️🤲
#ImranRiazKhan
اہم خبر
زمان پارک کی طرف ہزاروں کارکن گھروں سے نکل کر روانہ
پولیس کی تعداد بڑھ رہی ھے سب زمان پارک پہنچ جائیں
اس میسج کو ریٹویٹ کر کے آگے پہنچا دیں۔
#زمان_پارک_پہنچو
چنانچہ اب لندن پلان تو کھل کر سامنے آچکا ہے۔ میں قید میں تھا تو تشدد کی آڑ میں یہ خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن بیٹھے ہیں! منصوبہ اب یہ ہے کہ بشریٰ بیگم کو زندان میں ڈال کر مجھے اذیّت پہنچائیں اور بغاوت کے کسی قانون کی آڑ لیکر مجھےآئندہ دس برس کیلئےقیدکر دیں۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی بچی کھُچی قیادت اور کارکنان کو بھی پوری طرح جکڑ لیں گے۔ اور آخر میں پاکستان کی سب سے بڑی اور وفاقی جماعت پر پابندی لگا دیں گے۔(جیسے انہوں نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ پر لگائی)-
یہ یقینی بنانے کیلئے کہ عوام کی جانب سے کوئی ردّعمل نہ آئے، انہوں نے دو کام کئے ہیں؛
اوّل: محض تحریک انصاف کے کارکنان ہی کو خوفزدہ نہیں کیا جارہا بلکہ عام شہریوں کے دلوں میں بھی خوف بٹھایا جارہا ہے۔
دوم: میڈیا پر پوری طرح قابو پایا جا چکا ہے اور بزورِ جبر اس کی آواز دبائی جاچکی ہے۔
کل پھر یہ انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں گے اور سوشل میڈیا، جو پہلے ہی جزوی طور پر چل رہا ہے, کو پوری طرح بند کردیں گے۔
اس دوران،جبکہ میں آپ سے مخاطب ہوں،گھروں کی حرمت پامال کی جارہی ہے اور پولیس نہایت بے شرمی سے گھر کی چار دیواری میں موجود خواتین سے بدتمیزی وبدسلوکی میں مصروف ہے۔ آج سے پہلے اس ملک میں چادر و چاردیواری کا تقدس کبھی یوں پامال نہ ہوا جیسا کہ یہ مجرم کر رہے ہیں۔ یہ لوگوں کے دلوں میں اتنا خوف بٹھانا چاہتے ہیں کہ جب یہ مجھے گرفتار کرنے آئیں تو لوگ باہر نہ نکلیں۔
سپریم کورٹ کے باہر فضل الرحمٰن والے تماشے کا واحد مقصد بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو مرعوب کرنا ہے تاکہ وہ آئینِ پاکستان کےمطابق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے باز رہیں۔
پاکستان پہلے ہی 1997 میں نون لیگی غنڈوں کو نہایت ڈھٹائی سے سپریم کورٹ پر عملاً حملہ آور ہوتے دیکھ چکا ہے جس کے نتیجے میں ایک نہایت محترم چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹایا گیا۔
عوامِ پاکستان کو میرا پیغام ہے کہ؛
میں اپنے خون کے آخری قطرے تک حقیقی آزادی کیلئے لڑوں گا کیونکہ مجرموں کے اس گروہ کی غلامی سے موت میرے لئے مقدّم ہے۔ میں اپنے لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے کلمہ لَاِ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی صورت میں یہ عہد باندھ رکھا ہے کہ ہم ربّ ذوالجلال کے علاوہ ہرگز کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
اگر آج ہم خوف کے بت کے آگے سجدہ ریز ہوگئے تو ذلت اور شکست و ریخت ہماری آئندہ نسلوں کا مقدّر ٹھہرے گی۔
وہ ملک جہاں ناانصافی اور جنگل کے قانون کا دَور دَورہ ہو وہ زیادہ دیر تک صفحۂ ہستی پر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتے!
So without any investigation into who was responsible for arson on government building or dozens of deaths of unarmed protesters by bullet wounds , around 7000 PTI workers , leadership and our women have been jailed with plans to ban the largest and only federal party in Pak . Meanwhile these goons are being facilitated by our security agencies to take over the SC and subvert the constitution. All citizens be ready for peaceful protests as once constitution and SC destroyed, it is the end of the Pak dream.
چنانچہ اس امر کا سراغ لگائے بغیر کہ سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کرنے یا درجنوں غیرمسلّح مظاہرین کی گولیاں لگنے سے اموات کا ذمہ دار کون تھا اور اس منصوبے کے تحت کہ پاکستان کی سب سے بڑی اور واحد سیاسی جماعت پر پابندی عائد کر دی جائے، تحریک انصاف کے تقریباً 7000 قائدین، کارکنان اور خواتین کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ہے۔ اس دوران سیکورٹی ایجنسیز سپریم کورٹ پر قبضہ جمانے اور دستورِ مملکت کو پیروں تلے روندنے میں ان غنڈوں کی سہولت کاری میں مصروف ہیں۔ تمام شہری پرامن احتجاج کیلئے تیار رہیں کیونکہ اگر عدالتِ عظمٰی اور آئین کو تباہ و تاراج کردیا گیا تو تصوّرِ پاکستان ہی دم توڑ دے گا۔
Our Central Punjab President Dr Yasmin Rashid and my sisters clearly telling the protesters not to harm Jinnah house .
Clearly this was all stage managed by those who wanted to use this as a pretext to further crackdown on PTI , jail our workers and senior leadership along with me so that the assurances given to NS in the London plan could be honoured.
مرکزی پنجاب کی ہماری صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور میری ہمشیرہ واضح طور پر مظاہرین کو جناح ہاؤس کو نقصان نہ پہنچانے کی تلقین کررہی ہیں۔
بلا شک و شبہہ یہ ان لوگوں کیجانب سے ایک جال تھا جو اس لئے پھیلایا گیا کہ اس کی آڑ میں تحریک انصاف پر جاری کریک ڈاؤن میں شدّت لا سکیں اور مجھ سمیت ہمارے سینئر قائدین اور کارکنان کو جیلوں میں بھر کر اپنے اس وعدے کو پورا کر سکیں جو انہوں نے لندن پلان کے تحت نواز شریف سے کر رکھا ہے۔
We have ample amount of evidence to present to any independent inquiry that the arson and in some places shootings were done by agencies men who wanted to cause mayhem and blame it on PTI so the current crackdown would be justified.
ہمارے پاس کسی بھی آزادانہ تحقیق/انکوائری میں پیش کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جلاؤ گھیراؤ اور بعض مقامات پر فائرنگ وغیرہ میں ایجنسیوں کے اہلکار ملوث تھے تاکہ افراتفری پھیلائی جائے جس کا الزام تحریک انصاف پر دھرا جائے اور اس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا جواز تراشا جا سکے۔
I recorded this on the 22nd of March after my attempted assassination in the Islamabad judicial complex on the 18th.
I have consistently told my party workers that whatever the provocation they must only do peaceful protests . InshAllah whenever there is an independent inquiry I will prove that those who had guns and those who committed arson were planted amongst the demonstrators just as they were going to do in the the plan I uncovered here in this video message.
18 مارچ کو اسلام آباد کے جیوڈیشل کمپلیکس میں بچھائے گئے اپنے قتل کے جال سے ربّ العزت کے کرم سے بحفاظت نکلنے کے بعد میں نے 22 مارچ کو یہ بیان ریکارڈ کروایا۔ میں نے نہایت اصرار سے اپنے کارکنان کو تلقین کی انہیں جتنا مرضی اشتعال دلوایا جائے، انہوں نے مکمل طور پر پرامن رہتے ہوئے ہی احتجاج کرنا ہے۔ انشاءاللہ جب بھی ایک آزادانہ تحقیق ہوگی میں یہ ثابت کروں گا جلاؤ گھیراؤ کرنے والے بندوق برداروں کو بالکل اسی طرح پرامن مظاہرین کی صفوں میں داخل کیا گیا جیسے یہ اس موقع پر کرنے کی منصوبہ بندی کئے ہوئے تھے جس کا پردہ میں نے اس ویڈیو میں چاک کیا۔
I strongly condemn the illegal arrests and abduction of our workers and leaders. Our Vice Chairman Shah Mehmood Qureshi and Secy General Asad Umar have also been incarcerated for more than a week now.
Also, despite court orders journalist Imran Riaz Khan has not been presented in court and there are confirmed reports of torture against him.
I demand immediate release of all our female leaders, workers and the female family members of our leaders and workers.
How could Shehrayar Afridi's wife be jailed?
This is purely to spread terror amongst the people so that they don’t stand up for their constitutional rights.
I am deeply disturbed after hearing of Dr. Shireen Mazari, the former Human Rights Minister's treatment and her daughter being physically assaulted by male police officers.
After the IHC granted bail to Dr Mazari and Senator Falak Chitrali they were abducted from within Adyala Jail and taken to thana secretariat where Dr Mazari's screams were heard.
The video evidence coming forward of the barbaric treatment meted out to our female supporters is reprehensible.
Many of our female MNAs, supporters, and workers are being held in jails across Pakistan under inhumane conditions, vulnerable to police excesses.
These abductions and the treatment being meted out to women by this fascist government are not only grave human rights violations but are strictly against our culture and Islamic teachings.
All these women must be immediately released. Their continued incarceration is unconscionable. I am also raising this with International Human Rights Organizations.
میں اپنے کارکنان اور قائدین کی غیرقانونی گرفتاریوں اور اغواء کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہمارے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری جنرل اسد عمر کو قید میں ڈالے ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔
اسی طرح عدالتی احکامات کے باوجود صحافی عمران ریاض خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا اور ان پر تشدد کی مصدّقہ اطلاعات ہیں۔
میں اپنی خواتین قائدین، کارکنان اور اپنے قائدین اور کارکنان کی اہلِ خانہ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
شہریار آفریدی کی اہلیہ کو کیسے قید کیا جاسکتا تھا؟
واضح طور پر یہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کیلئے کھڑے نہ ہوسکیں۔
انسانی حقوق کی سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے روا رکھے جانے والے سلوک اور انکی صاحبزادی پر مرد پولیس اہلکاروں کے حملے کے بارے میں جان کر میں نہایت دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو ضمانت دیے جانے کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل کے اندر سے اغواء کیا گیا اور تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر شیریں مزاری کے چلّانے کی آوازیں سنائی دیں۔
ہماری خواتین کارکنان سے کئے جانے والے وحشیانہ سلوک، جس کے ویڈیو شواہد بھی مسلسل سامنے آرہے ہیں نہایت قابلِ نفرت و مذمت ہے۔
ہماری بہت سی خواتین اراکینِ قومی اسمبلی، کارکنان اور حمایتیوں کو نہایت غیرانسانی حالات میں ملک بھر کی جیلوں میں ٹھونسا جارہا جہاں وہ پولیس کی زیادتیوں کی زد میں ہیں۔
اس فسطائی حکومت کی جانب سے ان خواتین شہریوں کا اغواء اور ان سے کیا جانے والا بہیمانہ سلوک انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہی نہیں بلکہ ہمارے کلچر اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
ان تمام خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہیں پیہم قید میں رکھنا نِری بےحسّی ہے۔ میں یہ سارا معاملہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے بھی رکھ رہا ہوں۔