Imran Khan has become “a symbol of democratisation in a country that has been pillaged for decades by a military junta.”
Why is Khan still behind bars – and what happens next? Read the full column from @DanielJHannan 👇
https://t.co/4JsmtgMLEO
🇵🇰 IMRAN KHAN'S DEATH RUMOURS EXPLODE: SISTERS DENIED ACCESS, JAIL SAYS "HE'S FINE," BUT NOBODY'S SEEN HIM IN WEEKS
The last 48 hours in Pakistan have been straight-up chaotic over Imran Khan.
Wild rumours hit social media yesterday claiming the former PM had been killed in Adiala Jail, some accounts even said his body had been secretly moved out.
PTI supporters lost it, thousands rushed the jail gates, his 3 sisters camped outside getting manhandled by cops, full-on riots vibe.
PTI says the last family/lawyer meeting was November 4, that's 3 weeks of total blackout, even though courts ordered bi-weekly visits.
Health-wise: Official line is he's fine.
Unofficial chatter from PTI circles is that he's lost serious weight, has vision issues, and there's growing paranoia over slow poisoning.
No independent doctor has seen him in ages, no photos, no video proof since forever, so the rumours keep cooking.
What this means for Pakistan's "democracy" is brutal: it's basically dead.
Imran still pulls 70-80% approval in every leaked poll.
Pakistan hasn't had a PM finish a full term in decades, and right now it's not even pretending to be a democracy anymore.
It's a straight military hybrid regime using courts, media, and everything it can to crush the one guy the masses actually want.
And until he's out and elections are free, Imran Khan's supporters don't believe they have a functioning "democracy," they see it as a military dictatorship wearing a cheap civilian mask.
Source: Reuters, Hindustan Times, Economic Times, Arab News, @PTIofficial, @ImranKhanPTI
الحمدللہ میں نے اپنا نیا یوٹیوب isar rana special شروع کر دیا ہے پہلا چینل ریکور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے مجھے امید ہے کہ اپ حسب سابق مجھ سے محبت جاری رکھیں گے
https://t.co/oMdI1sUiDs
Words fail me now. How is it that we are forced to watch mass starvation of our children and be made to watch helplessly. That is how the New world order wants us to feel.
These SATANISTS maiming killing and starving innocent children in Gaza will pay one day...
Until then.. raise your voices for the children of Gaza. Its the least we can do. And yes. BOYCOTT FOR LIFE
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
Please watch & share this interview my boys Sulaiman & Kasim did about their father, Imran Khan, who has been held in solitary confinement for almost 2 years despite the UN ruling that his detention is arbitrary & unlawful. Proud Amma.
Imran Khan’s National Assembly speech in 2019 where he correctly predicted Modi’s next moves.
Pakistan Needs Imran Khan.
#ReleaseImranKhan#عمران_خان_کو_رہا_کرو
I extend my warmest greetings to the people of the UAE, and Arab and Islamic Nations, as we welcome the blessed month of Ramadan.
May it bring peace, unity, and strength to us all.
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“سب کو نیا سال مبارک ! 2025 حقیقی آزادی کا سال ہے، جس میں گھٹنوں پر آئے اس جعلی اور فسطائی نظام کو شکست ہو گی، انشاء اللہ!
اس آمرانہ دور میں شخصی آزادیوں کے خاتمے، بنیادی قانونی حقوق کی پامالیوں اور اداروں کی تباہی نے ملک کے ناصرف سماجی و سیاسی نظام بلکہ قانونی و معاشی نظام کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔جس بھونڈے انداز میں خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا سنائی گئی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں رول آف لا کا خاتمہ ہو چکا ہے اور غیر اعلانیہ بدترین آمریت کا راج ہے۔ مشرف دور میں بھی ہم فوج کی مداخلت پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ہمیں اس قسم کی جبر و فسطائیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وکلاء تحریک سے پہلے بھی ہم فوج کی سیاسی مداخلت کے خلاف بھرپور تنقید کرتے تھے، لیکن تب کوئی ایجنسی اپنے شہریوں کو اس طرح سے نہیں اُٹھاتی تھی۔
آئینی عدالت بنا کر پورے عدالتی نظام کو تباہ کیا گیا اور قاضی فائز عیسی کی باقیات کو عدالتی نظام کا قبضہ دے دیا گیا تاکہ قاضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے عدالتی فیصلے جی ایچ کیو کے زیر اثر کروائے جا سکیں۔
میرے خلاف پچھلے سال بھی چار غیر قانونی فیصلے دئیے گئے تھے۔ سوموار کو القادر کیس کا فیصلہ بھی ویسا ہی توقع کر رہا ہوں۔ ایسے ہی لا قانونیت پر مبنی فیصلے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔
ملٹری کورٹس جیسے فیصلوں سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔ پاکستان میں اب بھی گروتھ ریٹ صفر ہے جب معاشی ترقی ہی نہیں ہو گی تو نہ ہم قرضوں سے نکل پائیں گے اور نہ ہی بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا ۔
پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے اس سے متعلق میرا موقف واضح ہے لیکن جب بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا سے آوازیں اٹھنا فطری عمل ہے ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے اسی لیے ہیں ۔ دنیا کے تمام ذی شعور انسان بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔ ارسطو نے بھی یہی کہا تھا ہر شہری کا فرض ہے انسانی حقوق کی پامالی ہو تو آواز اٹھائے ۔ دو قسم کے لوگ ہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز بلند نہیں کرتے: ایک خودغرض اور دوسرے بزدل۔
ٹرمپ سے یہی توقع ہے کہ وہ نیوٹرل رہیں گے کیونکہ بائیڈن نے جنرل باجوہ کے اکسانے پر ہماری حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر واضح مداخلت کی تھی جو ساری دنیا جانتی ہے ۔
ہماری مذاکراتی کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ہمارے مطالبات جائز ہیں
- 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کا قیام
- سیاسی قیدیوں کی رہائی
ڈی جی ائی ایس پی آر 9 مئی پر صریح غلط بیانی کر رہے ہیں۔ سیدھا اصول یہی ہے کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی اس نے ہی 9 مئی کروایا۔ ملٹری کورٹس سے فیصلے بھی اسی لیے کروائے گئے کہ وہاں کسی نے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگنی ہی نہیں تھی ۔26 نومبر کو سیدھی گولیاں مار کر ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا جب بھی ان دو واقعات کی شفاف تحقیقات ہوں گی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ہم نے حکومت کو 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ مذاکرات اور اسکے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کی منظوری میں سنجیدگی دکھائی تو بائیکاٹ مہم پہ دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
مجھے بالواسطہ طور پہ بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ میرا موقف واضح ہے کہ پہلے میرے اسیر کارکنان اور رہنماؤں کو چھوڑا جائے اسکے بعد میری بات ہو گی۔ اٹک جیل میں بھی مجھے تین سال تک باہر بھیجنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن میرا جینا مرنا پاکستان ہے ۔ میں آخری سانس تک ملک کی آزادی کی جنگ لڑوں گا اور اپنی قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو:
“2025 حقیقی آزادی کا سال ہے- انشااللہ
2024 پاکستان کے لیے ایک مشکل سال تھا، ظاہر ہے آزادی مشکل سے ہی ملتی ہے!
مجھے پیغام ملا ہے کہ ہم سے ڈیل کریں ہم آپ کی پارٹی کو “سیاسی سپیس” دیں گے لیکن آپ کو ہاؤس اریسٹ کر کے بنی گالہ میں منتقل کر دیں گے-
میں نے جواب دیا ہے کہ پہلے باقی تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو- میں جیل میں رہ لوں گا لیکن کوئی ڈیل قبول نہیں کروں گا- ہاؤس اریسٹ یا خیبرپختونخوا کی کسی جیل میں نہیں جاؤں گا-
اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے، آپ کا کپتان ڈٹا ہوا ہے-
میں اپنے سمندر پار پاکستانیوں سے کہوں گا کہ ترسیلاتِ زر کے بائیکاٹ کی مہم میں شامل ہوں۔ ابھی ہمارے مطالبات کے حوالے سے کمیٹی کمیٹی ہی کھیلا جا رہا ہے۔ تاہم اگر مذاکرات سے مثبت نتائج آئے تو ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی مہم روک دی جائے گی- یہ حقیقی آزادی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے ایک احتجاج ہے۔
اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو ملک میں سرمایہ کاری آتی اور معیشت سنبھل جاتی مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی- سرمایہ دار اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور کارخانے بند ہو رہے ہیں-
ملٹری کورٹ میں نو مئی سے متعلق اپنی مرضی کے ٹرائل کئے گئے ۔ اوپن کورٹ میں ٹرائل چلائے جاتے تو نو مئی کی ویڈیو فوٹیج دینی پڑتی۔ اٹھارہ مارچ 2023 کو میرے اوپر جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں حملے کی ویڈیو کا ریکارڈ دانستہ طور پہ غائب کیا گیا۔ شفاف ٹرائل شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے۔ فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے سے شہریوں کے بنیادی حقوق صلب ہوئے اور بین الاقوامی سطح پہ پاکستان کی شدید سُبکی ہوئی ہے۔
آئینی عدالت اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ قاضی فائز عیسٰی کی طرح ہی ان سے کام لیا جا سکے-
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیں-
افغانستان پر دو دفعہ بمباری کی گئی ہے- پہلے دعوٰی کیا گیا تھا کہ مہاجرین کو زبردستی واپس بھیجنے سے دہشتگردی کم ہو گی مگر اس طریقہ کار سے نفرت مزید بڑھی جو علاقائی امن و امان کے لیے ٹھیک نہیں ہے- بلاول جب وزیر خارجہ بنا تو ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا جو کہ ایک ترجیح ہونا چاہییے تھا- میں نے جنرل باجوہ کو بھی کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد حالات ایسے نہیں کہ ISI چیف جنرل فیض کو فوری تبدیل کیا جائے لیکن وہ سارے فیصلے پاکستان کی بجائے اپنی توسیع کے منصوبے کے لیے کر رہا تھا جس کا پاکستان کو نقصان ہوا اور دہشتگردی میں اضافہ ہوا-“
سی پیک روڈ پر نہ ہوٹل ہیں اورنہ کوئی سٹورز،صبح سے ہمارے ہزاروں کارکنان آنسو گیس کی شیلنگ اورکنٹینرز کا مقابلہ کررہے ہیں۔
اس وقت پینےکاپانی اورخوراک بالکل ختم ہوگیا ہے،تراپ کے قریب ہمارے قافلے ایک دفعہ پھر روکاوٹیں ہٹارہے ہیں،اگرکوئی پینے کاپانی یاخوراک پہنچاسکتا ہے تومہربانی ہوگی
میں پاکستان تحریک انصاف کے تمام ورکرز سے التماس کرتا ہوں کہ اپ افواہ ساز فیکٹریوں سے محتاط رہیں۔ سلمان اکرم راجہ صاحب کے حوالے سے ایک جھوٹا اور جعلی بیان گردش کر رہا ہے ،ہم اپ پہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پنجاب کے تمام شہروں سے ہر ایم این اے اور ایم پی اے کے حلقے سے نکلنے والے قافلوں کی منزل صرف اور صرف اسلام اباد ہوگی یہ یاد رکھیے گا یہی عمران خان صاحب کا حکم ہے۔ یہ افوائیں اپ کو اسلام اباد پہنچنے سے روکنے کیلیۓ پھیلائی جا رہی ہیں