"اگر نصیحت کا حق صرف اُسی کو ہوتا، جو لغزشوں سے معصوم ہو؛ تو رسول اللہﷺ کے بعد کوئی بھی لوگوں کو نصیحت نہ کرتا!"
امام ابن رجب رحمه الله
(لطائف المعارف : 19)
یا اسفی علی یوسف۔۔۔۔😢
آج سنن ابو داؤد کاپیپر ہے۔
جن استاد محترم سے پڑھی تھی تین دن پہلےرحمہ اللہ ہوکر اس دعا کا مصداق ہو گئے،
توفنی مسلما والحقنی بالصالحین
وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَـىِّ الَّذِىۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ ؕ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرَا۞
ترجمہ:
آپ اس پر توکل کیجیے جو زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لئے کافی ہے .
بات بڑی عجیب اور سوچنے والی ہے کہ جس دن شریعت نے بھی خوشی منانے کا حکم دیا ہے ہم اس دن کے بارے میں بڑے مزے سے کہہ رہے ہوتے ہیں “ سو کر گزری ہے ہماری عید “ کیا یہ ناشکری نہیں!؟
خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔
صحیح بخاری :۳۷۹۶