ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
انڈیا کی طرف سے پاکستان پر سو سے زائد ڈرونز پر مشتمل پر ایک اور بڑا حملہ- اس وقت بھرپور محاز کھل چکا ھے-
سیز فائر بھاڑ میں چلا گیا ھے- بسم اللہ پھر سے-
Another major attack by India on Pakistan involving over a hundred drones - a full front has now been opened -
The ceasefire has gone to hell - Bismillah again -
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ
بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو (ظلم کے خاتمے اور حق کی مدد کے لیے) اُس کی راہ میں (یوں) صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔
(الصَّفّ, 61 : 4)
پاکستانیو، اس سے بہتر اعزاز کوئی نہیں کہ جب وطن پر بات آجائے- ڈٹ جاؤ، مظبوط تر ھو جاؤ، جرات مندی اور بہادری سے مقابلہ کرو-
اس وقت ھر پاکستانی صرف وطن کا دفاع کرے گا- اختلافات سائیڈ پر اب، پھر سہی
اب بات صرف ملک کی ھوگی، اتحاد کی ھوگی- اتفاق کی ھوگی اور انڈیا کی ٹھکائی کی ھوگی