لڑکی: میں اس ریپ کی گواہ نہیں وہاں پر کوئی اور گواہ موجود تھی اور وہ زور زور سے چلا رہی تھی
تفتیشی مریم نواز: (فوراً مائیک بند کرتے ہوئے) کوئی گواہ تھا ہی نہیں کیونکہ ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں
زینب کیس میں بچی کے والد محترم کا مائیک اس کے چچا نے بند کیا تھا
ایک ایٹمی ملک کے وزیر خارجہ کا یہ حال ہے تو وہاں عام آدمی کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہوگا؟
کونسا رول آف لاء اور کیسے فری اینڈ فیئر الیکشنز ؟
یہ اب سپریم کورٹ کا امتحان ہے۔۔۔
آج حریف لشکر مکمل ہو گئے
ایک طرف اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ ؛ بیوروکریسی، انتظامیہ ؛ میڈیا ، سیاستدانوں کا کاٹھ کباڑ، اور مسلح طاقتیں
دوسری طرف نہتی عوام اور انکا محبوس لیڈر
میدان تو لگ گیا ۔ اب نتیجے کا انتظار ہے
زیادہ خوش فہمیوں میں نہ رہیں یہ عزت بحالی فیصلہ ہے
بندیال یہ فیصلہ محفوظ رکھنے کی بجائے پہلے بھی دے سکتا تھا
بندیال رات عدالت کھول کر چوروں کا ساتھ دے کر سولہ ماہ چوروں کو تحفظ دیتا رہا
پوری گیم کا ماسٹر مائنڈ بندیال ہی تھا
اب آخری دن جاتے جاتے اپنی فیس سیونگ کر گیا ہے
کیا
گارنٹی ہے نواز کا قاضی اپنا بینچ بنا کر فیصلہ نہیں بدلے گا
کیا گارنٹی ہے نیب کا چیرنین کیس صفر کی سپیڈ پر نہیں رکھے گا
یہ سب پی ٹی آئی ورکر کا آسمان کو چھوتا غصہ نیچے لانے کے لیے فیصلہ کہ سکتے ہیں چند دن اسی چکر میں پروگرام ہوتے رہیں گے
لیکن مافیہ چور ججج فوجی سیاست دان سب ایک