Cricket has seen many batters who amassed lot of runs but there are few who'll be remembered for the way they scored these runs more than the actual numbers...
Let's talk about a genius who fall in same category:
SAEED ANWAR
Genghis Khan, a figure of immense historical significance, successfully unified the Mongols, forging an expansive empire that extended from China to Europe. Despite this legacy, the whereabouts of his tomb continue to elude discovery, as he specified a burial devoid of any markers or signs.
Legend holds that, on his deathbed, Genghis Khan expressed a final wish to be interred near his birthplace along the Onon River in Mongolia. In accordance with this desire, upon his death on August 25, 1227, at the age of 65, soldiers carefully transported his body to the chosen tomb for his eternal rest.
In a dramatic twist, Genghis Khan purportedly issued orders himself that mandated the brutal murder of anyone who bore witness to his burial. This drastic measure was intended to safeguard the secrecy surrounding the location of his tomb. Consequently, the final resting place of Genghis Khan stands as one of Asia's enduring enigmas, a mystery that persists through the ages.
اردو پڑھانے سے دل ہی اٹھ گیا😂😂😂😂
.. میں کل سے " دھاڑیں مار مار" کر ہنس رہا ہوں اور " زارو قطار" قہقہے لگارہا ہوں۔
میں ایک ادارے میں ٹیچر ہوں اور میٹرک/ انٹر کی اردو کی کلاس پڑھاتاہوں ‘ میں نے اپنے سٹوڈنٹس کا ٹیسٹ لینے کے لیے انہیں کچھ اشعار تشریح کرنے کے لیے دیے۔ جواب میں جو سامنے آیا وہ اپنی جگہ ایک ماسٹر پیس ہے۔ املاء سے تشریح تک سٹوڈنٹس نے ایک نئی زبان کی بنیاد رکھ دی ہے۔
میں نے اپنے سٹوڈنٹس کی اجازت سے اِن پیپرز میں سے نقل "ماری " ہے‘ اسے پڑھئے اور دیکھئے کہ پاکستان میں کیسا کیسا ٹیلنٹ بھرا ہوا ہے۔
سوالنامہ میں اس شعر کی تشریح کرنے کے لیے کہا گیا تھا
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب ۔۔۔۔ تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
ایک ذہین طالبعلم نے لکھا کہ
’’اِس شعر میں مستنصر حسین تارڑ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے انہوں نے ایک دن سوچا کہ کیوں نہ فقیر بن کے پیسہ کمایا جائے‘ لہٰذا وہ کشکول پکڑ کر "چونک" میں کھڑے ہوگئے ‘ اُسی "چونک " میں ایک مداری اہل کرم کا تماشا کر رہا تھا ‘ شاعر کو وہ تماشا اتنا پسند آیا کہ وہ بھیک مانگنے کی "باجائے" وہ تماشا دیکھنے لگ گیا اور یوں کچھ بھی نہ کما سکا۔۔۔!!!‘‘
اگلا شعر تھا ,
رنجش ہی سہی ‘ دل ہی دُکھانے کے لیے آ
۔۔آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ ..
مستقبل کے ایک معمار نے اس کی تشریح کچھ یوں کی کہ
’’یہ شعر نہیں بلکہ گانا ہے اور اس میں "مہندی حسن" نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اے میرے محبوب تم میرا دل دُکھانے کے لیے آجاؤ لیکن جلدی جلدی مجھے چھوڑ کے چلے جانا کیونکہ مجھے ایک فنکشن میں جانا ہے اور میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔‘‘
تیسرا شعر تھا۔۔۔!!!
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا ۔۔۔
میں تو دریاہوں سمندر میں اتر جاؤں گا .
ایک لائق فائق طالبہ نے اس کی تشریح کا حق ادا کر دیا۔۔۔پورے یقین کے ساتھ لکھا کہ
’’یہ شعر ثابت کرتا ہے کہ شاعر ایک کافر اور گنہگار شخص ہے جو موت اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا اور خو�� کو دریا کہتا پھرتاہے ‘ اس شعر میں بھی یہ شاعر یہی دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ دریا ہے لہذا مرنے کے بعد بحرِ اوقیانوس میں شامل ہوجائے گا اور یوں منکر نکیر کی پوچھ گچھ سے بچ جائے گا‘ لیکن ایسا ہوگا نہیں کیونکہ آخرت برحق ہے اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اللہ اسے ہدایت دے۔ آمین۔۔۔!!!
اگلا شعر یہ تھا۔۔۔!!!
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں ۔۔۔
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے ..
ایک سقراط نے اس کو یوں لکھا کہ ’’اس شعر میں شاعرکوئے یار سے لمبا سفر کرکے راولپنڈی کے ’فیض آباد‘ چوک تک "پونچا" ہے لیکن اسے یہ مقام پسند نہیں آیا کیونکہ یہاں بہت شور ہے‘ شاع�� یہاں سے نکل کر ٹھنڈے اور پرفضا مقام "دار" پر جانا چاہتا ہے اور کہہ رہاہے کہ بے شک اسے " سُوئے" مارے جائیں‘ وہ ہر حال میں "دار " تک پہنچ کر ہی دم لے گا۔۔۔!!!‘‘
اگلا شعر یہ تھا۔۔۔!!!
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے ۔۔۔
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ..
جواب تھا کہ
’’یہ شعر وصی شاہ کا ہے اور اس میں انہوں نے بڑی "محارت" سے یہ بتایا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو زیادہ سے زیادہ بلند کرلیں‘ اونچی اونچی بلڈنگیں بنائیں تاکہ خدا سے اتنے قریب ہوجائیں کہ خدا آرام سے ہم سے پوچھ لے کہ اے میرے بندے آخر تم اور کتنی " اُنچی" منزلیں بنانا چاہتے ہو۔۔۔؟؟؟‘‘
اگلا شعر پھر بڑا مشکل تھا ۔۔۔!!!
سرہانے میر کے آہستہ بولو ۔۔۔
ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے .
نئی تشریح کے ساتھ اس کا ایک جواب کچھ یوں ملا کہ
’’اس شعر میں "حامد میر " نے اپنی مصروفیات کا رونا رویا ہے‘ وہ دن بھر مصروف رہتے ہیں‘ رات کو ٹی وی پر ٹاک شو کرتے ہیں‘ ان کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی ‘ ہر روز شیو کرتے ہوئے اُنہیں "ٹک" (زخم) بھی لگ جاتاہے اور اتنی زور کا لگتا ہے کہ وہ سارا دن روتے رہتے ہیں اور روتے روتے سو جاتے ہیں لہٰذا وہ اپنی فیملی سے کہہ رہے ہیں کہ میرے سرہانے آہستہ بولو' مجھے " ٹَک " ��گا ھے " ۔😅😅😅
منقول
Kashf Foundation is looking for experienced documentary filmmaking agencies or individual filmmakers to produce a documentary for 8 to 10 minutes centered on the initiatives, achievements, and transformative work of the Kashf Foundation.
TOR's:
https://t.co/AeOQTFCXzP
@KElectricPk@BuckyBucky71 Dear @KElectricPk ... we have done all of that 😀 and hoping that some action is being taken. Would just like to know if any one has any idea of a slight estimate as to when the fault might be restored. A humble request only 😊🙏
@BuckyBucky71 Whenever you face a power outage other than load-shed, you can always reach out to us through the call center, KE Live mobile app, KE WhatsApp or KE social media channels so that we can check and resolve the issue as quickly as possible.
(2/2)
@RoshanehZafar@KashfFoundation Congratulations is a small word. A highly deserved recognition of all the hard work and dedication. A round of applause for you and all the people around you, the Kashf team, who have made this possible. Keep being an inspiration for all.
#PakistanOnBroadPeak
A short while ago, #NailaKiani reached the summit of Broad Peak (8051m), the world's 12th highest peak. By achieving this feat, Naila has become the only #Pakistani woman to have all of the country's #8000ers to her name. Indeed a huge accomplishment. Many congratulations and prayers for your safe descent. 🇵🇰🏔️
Kuch Ankahi's journey has ended!!! In a society where women's voices often remain silenced and ignored, the drama's very title, Kuch Ankahi, exposes the silence that veils prevalent social norms, and hinders us from questioning them.