“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
Yesterday I spoke to my father. He asked me to relay the following message:
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
My sons Sulaiman & @kasim_khan_1999 applied for visas in January (again… ) to allow them to visit their father @ImranKhanPTI in Pakistan. The Pakistan consulate states that online visa processing normally takes 7–10 working days. It has now been 60 days. This despite the public promise that they could safely travel there to see their father after 4 years, made by both Defence Minister @khawajaMAsif to @mehdirhasan & PM spokesperson @mosharrafzaidi to @SkyYaldaHakim
Meanwhile, they are not allowed to speak to him on the phone, nor send him a letter. They haven’t seen him since 2022 after he was shot in an assassination attempt.
This is an appeal directly to Pakisan’s PM @CMShehbaz to please allow Imran Khan’s two sons to see their father asap, particularly since, by all accounts, his health is in decline.
As my X account has been “throttled” acc to @grok - after a deal was done between @elonmusk & the Pakistani government to lift their x ban, this is a request to UK based Pakistanis an any of those who are able to read this tweet (unlike those in Pakistan) to please RT and help get this message out.
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر کا آضافہ کر دیا جس کے بعد پیٹرل کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس آضافے کے بعد پٹرول اور ڈیزل عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو گئے ہیں واہ ٹرمپ واہ
ایک ضروری اعلان سنئیے۔
اےفارم47کےجعلی حکمرانو..عمران دور میں جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل117 ڈالر فی بیرل تھاتب یہاں پٹرول150روپےفی لیٹرتھاآج عالمی مارکیٹ میں فی بیرل ریٹ105ڈالر ہےتو یہاں پٹرول فی لیٹر321روپےکا کیوں،اب بتاؤ ملک تباہ کرنےکےذمہ دار آپ سب یا عمران خان۔
اعلان ختم ہوا۔
چوہدری صاحب خدارا میرے ٹوئیٹ کا برا مت منائیے گا۔ میرا مقصد تنقید کرنا نہیں۔ ایک فکری اختلاف کر رہا ہوں۔
آپ ایک فیڈرل منسٹر رہے۔ صف اول کی لیڈرشپ میں رہے۔ آپکے دادا نے فاطمہ جناح کے ساتھ سیاست کی۔ ایک اور انکل گورنر رہے۔ ماموں فیڈرل منسٹر رہے۔ جاٹ خاندان سے تعلق۔ پیسشے کے لحاظ سے وکیل۔
اور آپ ایک ریٹائرڈ برگیڈئیر کو SIR کہے رہیں ہیں۔ یہ آپکے شایان شان نہیں ہے۔ آپ MNA رہے فڈرل منسٹر رہے جو پروٹوکول کے حساب سے لیفٹینٹ جنرل سے بھی سینئیر پوزیشن ہے۔ SIR کیونکہ ایک ٹائٹل ہے جو اپنے سے سنئیر کو بولا جاتا ہے۔ جب آپ انہیں سر کہہ رہے ہیں تو آپ اپنے ان عہدوں کو بھی ڈاؤن گریڈ کر رہے ہیں۔
دوسری بات وہ آپکو چوہدری صاحب کہہ رہے ہیں۔ سر نہیں کہہ رہے ۔ آپکو بھی انہیں واپس برگیڈئیر صاحب کہنا چاہئیے۔ نہ انہیں آپکو سر کہنا چاہئیے نہ آپکو۔ ہاں آپ منسٹر ہوتے اور وہ وردی میں تو پھر انکا آپکو سر کہنا بنتا تھا۔
برگیڈئیر اشفاق صاحب آپ سے اور مجھ سے عمر میں بڑے ہیں۔ انکا احترام بنتا ہے۔ آپ ان کا ضرور احترام کریں انہیں بھائی صاحب کہیں۔ برگیڈئیر صاحب کہیں۔ محترم کہیں۔ محترم برگیڈئیر صاحب کہیں۔ لیکن جب ایک سابق فیڈرل منسٹر ایک برگیڈئیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر صاحب کہتا ہے اور پھر ہمارے جیسے کمی کمین انہیں Sir نہیں کہتے تو وہ پھر ہماری شلوار اتار کر ہماری ننگی پھیٹ پر چھتر مار کر ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں انہیں SIR کہنا ہے۔
آپ جب انکو SIR کہتے ہیں تو انہیں اس بات کی عادت ڈالتے ہیں کہ وہ superior ہیں۔ آپ کا Sir کہنا ہمیں نسل در نسل کمر جھکانے پر مجبور کرتا ہے۔
میں جب لاہور میں بزدار صاحب کے ساتھ تو isi کے ایک کرنل صاحب نے مجھے بار بار فون کیا۔ میسج کئے کہ ملاقات ہونی چاہئیے۔ مجھے نے جواب نہ دیا۔ انکے باس برگیڈئیر وزیراعلی ہاؤس کی ایک میٹنگ میں مجھے ملے تو گلہ کیا میرا کرنل آپکو فون کرتا رہا آپ نے انسے ملاقات نہیں کی۔
میں نے انہیں کہا شہباز گل زاتی حثیت میں تو ایک ماٹھا سا پروفیسر ہے۔ مجھے تو حوالدار نہ ملے۔ کرنل صاحب میرے مجھے میرے دفتری کام کی وجہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ اور اب کیوں کہ یہ دفتری کام ہے تو میرے خیال میں مجھے دفتری پروٹوکول کا لحاظ رکھنا چاہئیے اور جب میں اس پروٹوکول کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک کرنل صاحب کا مجھے ایسے ڈائریکٹ فون کرنا اور بے تکلف ہونے کی کوشش کرنا میرے عہدے سے بے انصافی ہے۔
برگیڈئیر صاحب نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ درست کہہ رہے ہیں۔ مجھے آپکو خود فون کر کے ملنا چاہیے تھا۔ اس دن کے بعد آج تک مجھے کبھی کسی کرنل صاحب یا میجر صاحب نے فون نہیں کیا۔
ہاں جب مجھے اٹھایا تو چھتر کسی میجر صاحب کی زیر نگرانی ہی پڑے ہوں گے۔ لیکن وہ میری مرضی میری چوائس نہیں۔
اس لئیے میں مطمئن ہوں۔ دوبارہ بھی موقع ملا تو جو میرا عہدہ ہوگا۔ اسی کے مطابق بات ہو گی۔
ایک شاندار زرائع رکھنے والے دوست نے سوشل میڈیا پر افواہ اڑائی کہ شہباز گل isi ٹاؤٹ ہے اور اس کا ہینڈلر isi کا ایک کرنل تھا۔ سوچیں سیاست دانوں نے کیا ماحول پیدا کر دیا کہ یہ بات اب نارمل لگتی ہے کہ سابق وزیراعظم کے ترجمان کا ہینڈلر ایک کرنل ہوگا۔ لیکن کیونکہ یہ رواج عام ہے تو لوگ کہتے یہ عین ممکن ہے۔ بہرحال جب میں نے سنا تو ہنسی نکل گئی۔
نوٹ: ہاں وزیراعظم آفس میں جو برگیڈئیر صاحب یا کرنل صاحب یا میجر صاحب تھے وہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان صاحب کے نیچے سویلین سیٹ ایپ میں کام کرتے تھے۔ انکے ساتھ سارا دن کام کرنا ہوتا تھا۔ وہ ہمیں سر کہہ کر پکاتے تھے اور ہم واپس انکو احترام سے میجر صاحب۔ بر گیڈئیر صاحب یا کرنل صاحب کہہ کر پکارے تھے۔ کیونکہ ہمارا آپکا ہمارا اعظم خان صاحب کا باس وزیراعظم پاکستان عمران خان تھے۔ اور وہی ہمارے سر تھے۔ - میری زاتی حثیت شائید ایک حوالدار صاحب سے بھی ہلکی ہو گی۔ لیکن جب میرا کوئی عہدہ ہے تو پھر اسکا احترام میں نہیں کروں گا یا نہیں کرواؤں گا تو پھر کوئی نہیں کرے گا۔
آپ لوگوں جیسے بے شرم کبھی زندگی میں نہیں دیکھے۔ جھوٹ پر جھوٹ خود بولتے ہو اور صحافیوں کی کردار کشی کرنے کی کوشش کرتے ہو جب آپ لوگوں کی ساری سیاست بوٹ کو عزت دیتے دیتے مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔ اپنی سیاست کا جنازہ نکالو۔ آپ لوگوں کا منہ نہیں ہے مطیع کے بارے میں بات بھی کرنے کا۔
Have been in Islamabad since last night. What I have seen on ground is nothing less than an Inquilaab.
Its the people of Pakistan, the passionate awaam which is leading this movement peacefully.
The resistance shown by them has been unprecedented.
Kaaflas/Convoys from Lahore and other cities of Punjab must head to Islamabad now and join us.