British Pakistani.HATE GENERAL BAJWA. PTI runs in my blood so patwaris stay away. poet/ cricket and hockey player/ body builder. Accountant( by education) 🙂
The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
24 گھنٹوں سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، معید پیرزادہ صاحب کے اس ویلاگ کو، معید پیرزادہ نے جو گفتگو کی، اور رات کا جو ڈرامہ رچایا گیا، قوم کو پھدو بنایا گیا، اس ساری صورتحال کو سامنے رکھیے، اور یہ شاندار تجزیہ ملاحظہ کیجیے، غور سے ایک ایک لفظ سنیے، آپ کو سمجھ آجائے گی اصل گیم کیا تھی۔
Well Done Sir @MoeedNj 🫡👏🔥
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
مکمل ستلج فلم ۔🚨🚨مودی نے انڈیا یہ فلم بین کردی گی کیونکہ اس میں پنجاب کے سکھوں کے ساتھ ظلم بربریت جو ہندوں نے کیا وہی دیکھاگیا ہے ۔
فلم دیکھیں اور موج کریں فری میں آپ دیکھ رہے ہو۔
الفيديو حُذف من الفيفا الجبان ‼️
ولكن والله لو حذفوا حسابي، سأفتح غيره في نفس اليوم.
وسأعيد نشر هذا الفيديو، لأن ما يراه الناس لا تمحوه ضغطة زر بالحذف ..
ليبقى شاهدًا في ذاكرة الجماهير العربية على الظلم الذي تعرّض له منتخب مصر 🦅🇪🇬
لداخ کی سرحد پر واقع طورتک گاؤں دسمبر 1971 سے پہلے پاکستان کا حصہ تھا، چار بڑے گاؤں پر محیط 800 مربع کلومیٹر کے اس علاقے پر بھارتی فوج نے بآسانی قبضہ کر لیا کیونکہ پاکستانی فوجی"سرحدوں کی بجائے جسم فروشی کے اڈوں پر موجود تھے"
پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنے کا دعوٰی کرنے والے پاکستانی فوجی جرنیل آج تک پاکستان کے 800 مربع کلومیٹر کے اس علاقے کو بھارتی قبضے سے نہیں چھڑا سکے اور نہ ہی عالمی فورم پر اپنے علاقے واپس لینے کا مطالبہ کر سکے ۔
پاکستان اور پاکستانیوں کی حفاظت فوج کی ترجیحات میں شامل نہیں
@OfficialDGISPR@adgpi
1965 پاک بھارت جنگ کا دھوکہ فریب پڑھتا جا، شرماتا جا
🔴 جنرل ایوب خان، جس نے بنا کوئی جنگ لڑے 1959 میں ہی خود کو فیلڈ مارشل بنا لیا تھا۔
👈 2 جنوری 1965 میں فاطمہ جناح (قائد اعظم کی بہن، مادر ملت) کے خلاف صدارتی الیکشن میں ایوب خان بے شرمی سے دھاندلی کر کے جیت گیا
👈 اور پھر 21 مارچ 1965 نیشنل اسمبلی کے انتخابات میں بھی فوج نے بدترین دھاندلی کی اور بڑی سفاک بےغیرتی سے عوامی مینڈیٹ چوری کر لیا۔
👈 اس وقت پاکستانی عوام میں غم و غصہ پھیل چکا تھا، جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے تھے، پورے ملک میں بغاوت کی فضا بننے لگی اور فوج کے خلاف نفرت کی لہر چل پڑی تھی ۔🔥
👈 طاقت کے نشے اور عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے ایوب خان نے ایک بڑا کھیل کھیلا "بھارت کے ساتھ جنگ"! 🔥
🔴 حقیقت کی ٹائم لائن (جو پاکستان میں کبھی نہیں پڑھائی جاتی)
👈 اپریل 1965 → ران آف کچھ میں پاکستان نے بھارت کو اشتعال دلانے کیلئے پہلے جھڑپیں شروع کیں مگر بھارت نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
👈 5 اگست 1965 → پاکستان نے آپریشن جبرالٹر شروع کیا۔ ہزاروں فوجیوں کو کشمیری لباس پہنا کر بھارتی کشمیر میں بھیجا گیا تاکہ کشمیر میں بغاوت بھڑکے، مگر کشمیریوں نے اس آپریشن کا حصہ بننے سے انکار کیا اور بھارتی فوج کو منصوبے کی اطلاع کر دی، آپریشن جبرالٹر بری طرح ناکام رہا اور سینکڑوں پاکستانی فوجی مارے گئے۔ ( اس وقت یہ خبر بھی عوام سے چھپا لی تھی جیسے کارگل کی جنگ چھپائی گئی)
👈 1 ستمبر 1965 → پاکستانی فوج نے تیسری بار بھارت میں دراندازی کی اور "آپریشن گرینڈ سلیم" کے تحت بڑا حملہ کیا۔
تب بھی بھارت نے اپنا دفاع کیا اور "باقاعدہ جنگ" سے گریز کرتا رہا
👈 5 ستمبر پاکستان نے بھاری توپ خانہ استعمال کیا
👈 6 ستمبر 1965 → بالآخر بھارت نے اپنے ملک کی سلامتی کیلئے جواب میں لاہور اور دیگر سیکٹرز میں حملہ کر دیا۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان نے اشتعال انگیز پہل کی تھی ایوب خان اور اس کی فوج نے الیکشن سے توجہ ہٹانے کیلئے دراندازی شروع کی۔ بھارت نے آخر تک تحمل کیا، مگر جب اس کی اپنی سلامتی خطرے میں پڑی تو جواب دیا۔
🔴 مگر مطالعہ پاکستان اور فوجی تاریخ میں آج بھی جھوٹ پڑھایا جاتا ہے کہ: "بھارت نے رات کے اندھیرے میں اچانک حملہ کیا"
🔴 دراصل ایوب خان الیکشن کی دھاندلی اور عوام کے غصے کو بھارت کے خلاف نفرت میں تبدیل کر کے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتا تھا۔ جعلی فیلڈ مارشل قوم کا ہیرو بننا چاہتا تھا
نتیجہ؟ ہزاروں جوان اور سویلیئن ایک غیر ضروری جنگ میں مارے گئے، ملک کا اربوں ڈالرز کا معاشی نقصان، اور غیر فیصلہ کن جنگ جسے پاکستانی فوج کی پروپیگنڈہ مشین نے خودساختہ فتح کے طور پر پورٹریٹ کیا۔
🔴 یہ دفاع کی جنگ نہیں تھی ایک آمر کی کرسی بچانے کی جنگ تھی، جس میں سادہ لوح عوام اور پورا ملک استعمال ہوا
👈 عاصم منیر کا بھارتی کشمیر میں آپریشن پہلگام، آپریشن بنیان مرصوص بھی جعلی تھے، خودساختہ تھے۔ 9 مئی سے توجہ ہٹانے، عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کے ردعمل سے بچنے، فیلڈ مارشل بننے، اور ایوب خان کی طرح خود کو فاتح قرار دینے کا شرمناک کھیل تھا۔ 🔥
@OfficialDGISPR@adgpi