☝️ 414 Test wickets at 23.62
☝️ 502 ODI wickets at 23.52
🏏 Highest score of 257 not out
🎩 4️⃣ hat-tricks in international cricket
🏆 Player of the final in the 1992 World Cup
⭐ PCB Hall of Famer
Happy birthday to the Sultan of Swing, @wasimakramlive 👑🎂
More than a fan, a symbol of unwavering support for Pakistan cricket 🇵🇰💚
Thank you, Chacha Cricket, for a lifetime of passion, memories and loyalty 👏
#ThankYouChachaCricket
ائیرپورٹ سے اف لوڈ ہونے والے محمد عباس کی کہانی کیسے اپنے حق کیلے عدالت سے قانونی ریلیف لیا ۔۔ اور سینکڑوں اف لوڈ ہونے والوں کی اواز بن گے۔
سیالکوٹ کی ٹھٹھرتی صبح تھی۔ 31 جنوری 2026 کا سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا کہ محمد عباس اپنا سامان اٹھائے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔
اس کے چہرے پر تھکاوٹ نہیں تھی، جوش تھا۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی، امید تھی۔ کیونکہ آج وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا جا رہا تھا جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار چلاتے تھے اور شاید یہی سفر اس کی زندگی کا اصل موڑ ثابت ہوتا ہے ۔
اس کے ہاتھ میں سب کچھ تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ نائجیریا کا جائز ویزا۔ واپسی کا کنفرم ٹکٹ۔ مکمل سفری دستاویزات۔ ایئرلائن کاؤنٹر نے بورڈنگ کارڈ جاری کر دیا۔ امیگریشن افسر نے پاسپورٹ چیک کیا اور روانگی کی مہر ثبت کر دی۔ عباس کے قدم جہاز کی طرف اٹھنے لگے۔
اور پھر اچانک سب تباہ ہو گیا
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج سامنے آیا اور راستہ روک لیا۔ نہ کوئی وارننگ۔ نہ کوئی پہلے سے اطلاع۔ محمد عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھمایا گیا جس پر صرف دو فقرے لکھے تھے۔
ناپائیدار مالی حالات
سفر کا غیر واضح مقصد
بس۔ یہی وجہ تھی۔ یہی فیصلہ تھا۔ یہی انصاف تھا
عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے۔ کفالت کا ذمہ دار ہے۔ اس نے ناصر فاروق کی کاروباری دستاویزات بھی سامنے رکھ دیں۔ لیکن کسی نے ایک لفظ نہیں سنا۔ اسے کروڑوں روپے کے ممکنہ مالی نقصان، ذہنی اذیت اور دیگر مسافروں کے سامنے اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔
ایک شہری کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال کر دیا گیا تھا۔ بغیر کسی قانون کے۔ بغیر کسی وجہ کے۔ بغیر کسی جواب دہی کے۔
جب قانون نے دروازہ کھٹ��ھٹایا
محمد عباس کے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ چپ ہو جائے جیسے اس سے پہلے ہزاروں لوگ ہوئے۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے حق کیلے قانونی جنگ لڑے۔
اس نے دوسرا راستہ چنا
اپنے وکیل کے ذریعے اس نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کی۔ اور اس طرح ایک عام مسافر کا کیس ایک بڑے آئینی سوال میں تبدیل ہو گیا۔
جسٹس راحیل کامران کے سامنے جب یہ مقدمہ کھلا تو دونوں فریق اپنی اپنی طاقت کے ساتھ آئے۔
وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نعمان خالد نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنا امیگریشن حکام کا قانونی حق ہے۔ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔
عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، دس الف اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ محمد عباس کا نام نہ ECL میں تھا نہ PCL میں۔ اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری نہیں تھی۔ تو پھر کس قانون کے تحت ایک آزاد شہری کو روکا گیا۔
عدالت نے سوال پوچھا جس نے FIA کے حکام کو سکوت میں ڈال دیا۔
ناپائیدار مالی حالات کا فیصلہ کس ترازو سے ہوا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کوئی رقم مقرر کی ہے؟ اگر نہیں تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟
جج نے واضح کیا کہ صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے جسے جب چاہا گھما دیا۔ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24 الف کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔
جسٹس راحیل کامران نے محمد عباس کے حق میں فیصلہ سنایا۔
FIA کا اقدام مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔ من مانا قرار دیا گیا۔ آئین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
عباس کو دوبارہ سفر کی اجازت ملی اور یہ حق بھی ملا کہ وہ اپنی ذلت اور مالی نقصان کا ہرجانہ دیوانی عدالت سے مانگ سکتا ہے۔
لیکن اس فیصلے کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ جج نے مستقبل کے لیے ایک واضح گائیڈ لائن جاری کی۔ اب کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے۔ ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی۔ اور اس کی کاپی فوری طور پر مسافر کو دینی ہوگی۔
ایک محمد عباس نے اپنی ذلت کو بنیاد بنا کر لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ڈھال بنا دی۔
یہ کہانی صرف ایک آدمی کے سفر کرنے یا نہ کرنے کی نہیں ہے۔ یہ اس سوال کی کہانی ہے کہ پاکستان میں ایک عام شہری کے خواب کتنے محفوظ ہیں۔ اور اس جواب کی کہانی ہے کہ جب ریاست کا ادارہ حد سے تجاوز کرے تو آئین کا قانون اسے واپس اس کی جگہ پر کھڑا کر دیتا ہے۔
Pakistan Women’s Team has arrived in Dublin, Ireland for the Women’s T20I Tri-Series vs West Indies &Ireland
From May 28 to June 4, with Pakistan set to play 4 matches. Their opening game is against West Indies Women on May 29
All matches to be played at Castle Avenue, Dublin.
US police have responded to a shooting at a mosque in California, with officials saying the threat had been ‘neutralised.’
The area around the Islamic Centre of San Diego was locked down, after witnesses said they heard dozens of shots fired.
Presenting you Miss Pinky
Allegedly The Biggest supplier of Cocaine in Pakistan..Check how an officer of Sind police is escorting her after arrest for a court hearing. No handcuffs 🤦🏼♂️
PCB نے خیبر پختونخواہ چیمپئنز لیگ (KCL) کی باضابطہ منظوری دے دی۔ 🏏🇵🇰
لیگ 14 تا 23 اگست پشاور میں کھیلی جائے گی،
6 ٹیمیں ٹائٹل کے لیے مدمقابل ہوں گی۔
گورنر KP فیصل کریم کنڈی پیٹرن اِن چیف مقرر، ایونٹ KP حکومت اور اسپورٹس بورڈ کے تعاون سے منعقد ہوگا۔ #KCL#PCB#PakistanCricke
Dhaka: Pakistan’s Interior Minister and PCB Chairman @MohsinnaqviC42 has arrived in Bangladesh on a two-day visit. He was received at the airport by senior Bangladeshi officials and Pakistan’s High Commissioner.
@TheRealPCBMedia
کراچی کے یونیورسٹی روڈ بی آر ٹی کے سابقہ ٹھیکیدار کی طرف سے سنگین الزامات۔ کہتے ہیں سندھ حکومت کے محکمے بار بار نقشہ تبدیل کروا کر اضافی لاگت اور “فائدے” کی پیشکش کرتے رہے۔ ٹھیکیدار کے مطابق یہ کرپشن کا معاملہ نیب میں جانا چاہیے کیونکہ چند لوگوں کے فائدے کیلئے پورا منصوبہ تباہ کیا گیا۔ کہتے ہیں وزیراعلیٰ اب ہفتے میں دو بار سائٹ جا رہے ہیں، مگر پہلے کبھی مسائل نہ سنے گئے۔
Dhaka 1st Test: Pakistan have won the toss and elected to field against Bangladesh. Abdullah Fazal and Azan Awais are making their Test debuts.
#BANGvPAK#PAKvBANG
میانوالی میں ایک گھر کے اندر 6 سے 7 سال کے دوران بچے موجود ہیں لیکن انسپکٹر نے گھر کو سیل کر دیا
سب سے پہلے تو اس انسپکٹر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے
انسانیت ختم ہو چکی ہے اس معاشرے میں۔
خطرے کی گھنٹی بج گئی ھے
#################
*🌞جو ہم اس وقت محسوس کر رہے ہیں وہ عام گرمی نہیں ہے۔*
*یہ دراصل ‘ایل نینو’ کے خطرے کی آمد ہے، جو خاموشی سے جانیں لے سکتا ہے اور ہمیں اپنے پیاروں سے جدا کر سکتا ہے۔*
*جیسے جیسے مئی قریب آئے گا، یہ صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔*
*😱 ایل نینو کیا ہے؟*
*سادہ الفاظ میں، بحرالکاہل (Pacific Ocean) کا پانی*
*غیر معمولی طور پر ��رم ہو جاتا ہے۔*
*اس سے دنیا بھر میں ہوا کے نظام میں تبدیلی آتی ہے۔*
*جنوب مغربی مانسون، جو ہمیں مئی میں بارش دیتا ہے، اس بار تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے یا کمزور پڑ سکتا ہے۔*
*اس کا مطلب ہے کہ جب بارش ہونی چاہیے، اس وقت شدید گرمی پڑے گی۔*
*🏠🔥 یہ صورتحال نہایت خطرناک ہے*
*یہاں تک کہ صحت مند افراد بھی ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke) کی وجہ سے جان سے جا سکتے ہیں۔*
*اس لیے اپنی حفاظت کے لیے فوراً یہ اقدامات کریں:*
*💧پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں – یہ خطرناک ہے!*
*پیاس اس بات کی علامت ہے کہ جسم پہلے ہی پانی کی کمی (Dehydration) کا شکار ہو چکا ہے۔*
*ہر گھنٹے پانی پئیں۔*
*بچوں اور بزرگوں کو بھی باقاعدگی سے پانیب پلائیں۔*
*ہمیشہ اپنے پاس پانی کی بوتل رکھیں۔*
*☀️🚫 سب سے خطرناک وقت:*
*صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک*
*اس ��قت سورج کی شعاعیں براہِ راست جسم پر پڑتی ہیں۔*
*ممکن ہو تو گھر کے اندر رہیں۔*
*اسکول کے کھیلوں یا سرگرمیوں کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔*
*آپ کے بچے کی جان کسی بھی تمغے سے زیادہ قیمتی ہے۔*
*👕 کالے کپڑوں سے پرہیز کریں*
*یہ زیادہ گرمی جذب کرتے ہیں۔*
*ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں، جیسے سفید یا گلابی۔*
*⚠️ ہیٹ اسٹروک کی علامات:*
*• شدید سر درد*
*• بے ہوشی*
*• قے آنا*
*• خشک جلد (پسینہ نہ آنا)*
*اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوراً:*
*مریض کو سایہ دار جگہ پر لے جائیں،*
*گیلے کپڑے سے جسم ٹھنڈا کریں،*
*اور فوراً اسپتال لے جائیں۔*
*🐾 جانوروں کو نہ بھولیں*
*صرف اپنے پالتو جانو��وں ہی نہیں، بلکہ گلی کے جانوروں کی بھی مدد کریں۔*
*گھر کے باہر یا دیوار کے قریب پانی رکھیں۔*
*سایہ کا بھی انتظام کریں۔*
*🚰📢 آخر میں…*
*یہ معلومات پڑھ کر خاموش نہ رہیں۔*
*اسے اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔*
*ہم سب کو آنے والی ‘ایل نینو’ صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔*
*یاد رکھیں…*
*ہم صرف اسی صورت میں اس خطرے سے بچ سکتے ہیں جب ہم خود محفوظ ہوں۔*
*اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں —*بھلائی کا کام ھے۔*
Golden Ribbon Day during PSL 11 by PCB and Indus Hospital is a highly commendable initiative. More steps should also be taken to help prevent serious diseases like cancer in children.
#GoGold#HBLPSLXI
پی سی بی انڈر19،ایمرجنگ ویمن کرکٹرز ٹرائلزحنیف محمدہائی پرفارمنس سینٹر نینشنل اسٹیڈیم کراچی کی نئی تاریخ5مئی کردی گئی
یکم ستمبر2007یا اس کےبعد پیداہونے والی کھلاڑیوں کے
ٹرائلز سابق ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق اور بتول فاطمہ لیں گی
کھلاڑیوں کونادرا برتھ سرٹیفکیٹ ساتھ لانے کی ہدایت ہے۔