ترقی پسند و قوم پرست سیاست دان میر یوسف مستی خان کی رحلت کا بے حد دکھ و افسوس ہوا۔ میر یوسف ایک باوقار، بہادر اور سچے انسان تھے۔ وہ مظلوم و محکوم طبقات اور قومی جمہوری سیاست کے علمبردار تھے۔ اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین
@AsgharSufi@afghans08830462@hinaparvezbutt کاش موٹر وے اورنج لاٸن مےٹرو بس کی جگہ لاکھوں ایکڑ زرخیز کچھی کی زمین کو سیراب کر کہ زرعی اجناس میں خود کفیل ھو جاتے کاش کچھی کینال سمیت دیگر دو کینال کچھی ناڑی بلوچستان میں بناکر بلوچستان کو سیلاب کی تباھی سے بھی محفوظ رکھ سکتے تھے اور زرعی انقلاب بھی ملک میں برپا کر سکتے ۔
@AsgharSufi@afghans08830462@hinaparvezbutt محترم فلاسفر ایم اے صاحب کاش اپکی فلاسفی تھوڑی بلوچستان کہ کام اۓ کاش موٹر وے اور ایٹمی قوت ھمیں بھوک افلاس ے بچا پاتی کاش ھماری خوراک کی ضروریات کو پورا کر پاتی کاش ھمیں دنیا میں ذلت اور رسواٸی سے بچا پاتی کاش تیسری بار سیلاب کی تباھی سے محفوظ رکھ پاتی
متاثرین سیلاب کھلے آسمان تلے بھوک و پیاس میں پڑھے ہیں مہلک و جان لیوا بیماریاں پھل رہی ہیں وفاقی و صوبائی محکمے ریلیف پہنچانے سے قاصر ہیں کوئٹہ سبی شاہراہ ابھی تک ٹرانسپورٹ کے قابل نہیں۔ بین الاقوامی این جی اوز پر پابندی سمجھ سے بالاتر ہے۔
بارڈر ٹریڈ۔ ایران تفتان بارڈر پر مارکیٹس کو جلد از جلد کھولنا اور پنجگور چیدگی کوھگ بارڈر اور پروم بارڈر پر لوگوں کو کاروبار کی اجازت دینا تاکہ روزگار ملے عام لوگوں کو۔ تفصیلی بات چیت۔
آج پرائم منسٹر پاکستان شہباز شریف صاحب سے ڈاکٹر مالک صاحب کی سربراہی میں ملاقات۔ ملاقات میں۔ مِسنگ پرسن کے ایشو پر بات چیت ایک سیاسی گھمبیر مسلۂ ہے اسکو سیاسی اور جامع انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سیلاب متاثرین کی مداد اور تمام متاثرین گھروں کی تعمیر ضروری ہے
@MBalmani82 خدا کہ لیٸے نان ایشو باتوں کو ایشو نا بناٸیں کیونکہ بلوچ اور سندھی ایک دوسرے کی خیرخواہ ھیں اگر کوٸی اپنی قومی شناخت رکھتا ھے اور وہ بتاتا ھے تو اس میں گناہ تو نہیں بات وفا کی ھے بلوچ سندھ دھرتی کا وفا دار ھے اس لیۓ مردم شماری کہ خانے میں اپنی شناخت اور زبان سندھی ھی لکھتا ھے ۔
یہ ھے لالا فہیم جو علم وادب کا تاجر تھا مگر پھر بھی مسنگ پرسن بن گیا کیوں بن گیا یہ بھی نہیں معلوم ھاں اتنا معلوم ھے بلوچ ھے شاید یہ ھی بدقستی ھے اس کی بس دعا ھے کہ خدا اس کی حفاظت کرے اور ریاست کو رحم ا جاۓ ۔
@AmirBaloch77@Muzaffar551 یہ ھے میری ریاست جہاں مجھے کبھی ریاست مارتی ھے تو کبھی ریاست کہ ڈیتھ اسکواڈ ۔کیا کوٸی اور ریاست بھی ھے دنیا میں جہاں ریاست کہ لوگوں کہ ساتھ ایسا ھوتا ھو ۔
@Shepank_Baloch@AhmedNa31995349 ایسے منظر دیکھ کر جی چاھتا ھے کاش خدا اختیار بھی دیتا اور طاقت بھی تو فیصلہ 24 گھنٹوں میں کرتا۔ایسی عبرت ناک سزا دیتا کہ کوٸی بھی غیر انسانی ��رم کرنے سے پہلے سو بار سوچتا مگر بے بس ھوں مجھے تو خود کو انسان کہلوانے پے بھی شرم اتی ھے ھم نا انسان ھیں ناانسانوں کہ معاشرے میں رہتے ھیں
خدا کہ عذاب نا آٸیں تو کیاآۓ۔یہ تشدد کوٸی انسان یاخدا کا نام لینے والے عالم دین نہیں کرتے۔یہ وحشی نا ملا ھے نا اس کو حق ھے کہ یہ وحشیانہ تشدد کرے خواہ بچے کا کتنا بڑا جرم کیوں نا ھو۔ھاں یہ وہ ملا ھو سکتا ھے جس کہ متعلق اسلام میں بتایا گیا ھے کہ جہنم میں پہلے نام کہ عالم جاٸینگے
تشدد کوہی بھی کرے ان کے خلاف آواز اٹھانا بہترین تربیت کی نشانی ہے۔
معاشرے میں ملا اور فاضل کو کوہی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمارے بچوں کو تربیت کے بجائے زہنی مریض بنا کردیں۔
اس چھوٹے آدمی کے خلاف آواز اٹھانا ہم پر فرض ہے۔