@Fatima5121272@uroojjawed12 بابر اعظم کو کپتانی قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ دو بار ہٹانے کے بعد پھر قبول کرنا نا مناسب ہے۔ کم از کم اپنے عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔
We are slowly losing Abdullah Shafique, and it’s going to be harder for Pakistan to find a player like him.
He’s a kitabi batter and that’s rare in this setup. Built for Tests ODIs, not the chaos he’s being pushed through.
If we keep mismanaging him, it won’t be his loss.
حکومت سولر انرجی کو اس لیے Discourage کر رہی ہے کیونکہ اس نے آئی پی پیز کو پالنا ہے۔ افسوسناک خبر سامنے آئی ہے کہ وزارتِ توانائی نے سولر سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کے لیے نیپرا سے لائسنس لینا لازمی قرار دے دیا ہے۔ لائسنس لینا ہوگا اور پھر اس پر قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔ یعنی جو سورج سے آپ انرجی بنائیں گے، اس کے لیے بھی آپ کو اجازت لینا پڑے گی۔ اگر سورج سے کوئی بجلی بنا رہا ہے تو آپ کی اجازت کی کیا ضرورت ہے؟ کل کو آپ کہیں گے، سورج سے وٹامن ڈی بھی نہ لو۔ اسد اللہ خان
@AUKhanOfficial1 #pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
پاکستان کرکٹ میں دوہرا معیار اور منافقت اب کھل کر سامنے آ چکی ہے، جو حد سے تجاوز کر چکی ہے، اور جس کی بنیادی وجہ ذاتی مفادات، دوسروں کو خوش کرنا اور اپنا فائدہ حاصل کرنا بن چکی ہے۔
پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے، انٹرنیشنل کرکٹ میں نمایاں ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ رکھنے والے، کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی سنچریاں بنانے والوں میں شامل، اور مجموعی طور پر 32 سنچریاں اور 15 ہزار سے زائد رنز بنانے والے کو مسلسل تنقید اور باقاعدہ پروپیگنڈا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جیسے ساری ناکامیوں کا بوجھ اکیلے انہی پر ڈال دیا گیا ہو۔
دوسری جانب حیران کن طور پر دیگر کھلاڑیوں کے معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان کی انٹرنیشنل اور ورلڈ کپ کارکردگی پر سوال اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے، جیسے وہ کسی تنقید سے بالاتر ہوں۔
اسی طرح پی ایس ایل کے 8 میچوں میں صرف 98 رنز بنانے پر بھی کوئی آواز نہیں اٹھتی، جبکہ کے 8 میچوں میں 128 رنز پر بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ کے 9 میچوں میں 178 رنز ہوں یا بیٹنگ میں مجموعی ناکامی، ان سب پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک سنچری کے علاوہ باقی میچوں میں صرف 100 رنز اور مجموعی طور پر 9 میچوں میں 177 رنز کے باوجود بھی کسی کو مسئلہ نظر نہیں آتا۔
اور بھی بیٹنگ میں مسلسل ناکام رہے، جبکہ بھی کوئی نمای��ں ورلڈ کلاس کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، لیکن اس پر بھی کوئی خاص بات نہیں کی جاتی۔
بابر اعظم پی ایس ایل میں رنز کریں تو تنقید انٹرنیشنل کرکٹ کے اسٹیٹس پر کی جاتی ہے، جبکہ جن کی پی ایس ایل کے مقابلے میں انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی کارکردگی زیادہ ورلڈ کلاس نہیں رہی، اس پر بھی کوئی خاص بات نہیں ہوتی۔
حقیقت یہ ہے کہ بابر اعظم ہوں، فخر زمان ہوں، سلمان علی آغا ہوں یا عثمان خان—سب پاکستان کے کھلاڑی ہیں۔ لیکن تنقید صرف ایک کھلاڑی تک محدود رکھنا کرکٹ ایکسپرٹس اور سوشل میڈیا کے دوہرے معیار کو واضح کرتا ہے۔
یہ رویہ صرف سوالیہ نہیں بلکہ افسوسناک حد تک جانبدارانہ ہے۔ جب تک پاکستان کرکٹ میں یہ سلیکٹو احتساب اور مفادات پر مبنی تنقید جاری رہے گی، بہتری کی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی جیسے بابر اعظم پچھلے ایک دہائی میں سامنے آئے، لیکن جس طرح انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ کارکردگی سے زیادہ ترجیحات اور بیانیے کا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے—یہ ٹینس نہیں جہاں ایک کھلاڑی اکیلا ذمہ دار ہو۔ لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے: ناکامی ��یم کی ہو تو الزام ایک پر، اور باقی سب جیسے جوابدہی سے مستثنیٰ ہوں۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو پاکستان کرکٹ کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔
کرکٹ فینز کو چاہیے کہ ایسے کرکٹ ایکسپرٹس اور سوشل میڈیا پر موجود لوگوں سے سوال کریں کہ وہ صرف بابر اعظم کی کارکردگی پر سوال کیوں اٹھاتے ہیں اور دیگر کھلاڑیوں کے معاملے پر ان کی خاموشی کی وجہ کیا ہے۔
#BabarAzam #PSL2026 #HBLPSL #PakistanCricket
Fast-track these players into the academy to prepare them mentally, physically, and ethically. Develop their skills to make them future stars for #Pakistancricket. Do not push them ahead of better developed, skilled and experienced players at the international level until the work is done and proved in the next domestic season. Protect #TheRealPCB #PakistanCricket
#PSl2026
• Sameer Minhas
• Shamyl Hussain
• Irfat Minhas
• Maaz Sadaqat
• Hunain Shah
• Ali Raza
• Ahmed Daniyal
@SohailRashid8 میر بھی یہی خیال ہے۔ سب کو چاند دیکھنا یا نظر اناضروری نہیں اگر کسی ایک اسلامی ملک میں ��ھی اعلان ہو تو سب کا اک ساتھ زورہ یا عید ہونا چاہیے پرانے زمانے میں زرائع ابلاغ نہیں تھا اس لیے معلوم کرنا مشکل تھا اسلیے سب کو دیکھنا پڑتا تھا۔