ایک بار ایف سی کالج لاہور میں سائنس میلہ منعقد ہوا اس میں ایک صاحب تشریف لائے جو کہ Physics, PHD تھے انہوں نے ایک سولر گیزر تیار کیا تھا جو کہ بہت سستا تھا
اس کے ساتھ ہی وہ لیکچر بھی دیتے تھے جس کے انہیں 300 روپے ملتے تھے اسی دور میں ابرالحق کا گانا بڑا مشہور ہوا تھا
1👈
یہ تینوں اس بزرگ کی بیٹیاں ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہی کہ بوڑھے والدین کی خدمت کرنا غلط ہے۔
لیکن اس طرح ویڈیو بنا کر پوری دنیا کو دکھانا، یہ کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔
یہ خدمت نہیں بلکہ والدین کے ساتھ زیادتی ہے
سندھ یونیورسٹی کے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ایک گلی سے پیور بلاکس شائد لیب ٹیسٹ کیلئے اٹھا رہے ہیں کہ اس میں سیمنٹ اور بجری کی مقدار چیک کی جا سکے۔
ملک اور ریاست سے وفاداری غیر مشروط نہیں ہوتی بلکہ انسانی و اخلاقی اصولوں کے تابع ہوتی ہے جبکہ ہمارے کدّو مرشدوں کے ایک آدھ نیم مردہ نیورون کے مطابق اگر آپ محض اتفاق سے اسرائیل میں پیدا ہوگئے ہیں تو شیر خوار بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں پر بھی آپ نے بھنگڑے ڈالنے اور نعرے لگانے ہیں۔
@successconci0us@WhoAhmadRajput وہ دو بالغ رہائش، کھانے پینے، خرچے کے لیے اگر ان لوگوں کے محتاج نہیں ہیں تو پھر تو آپ کی بات ٹھیک ہے۔ اگر وہ ان کے رحم و کرم پر ہیں یا رشتوں کی حرمت کا پاس رکھتے ہیں تو پھر نکاح کریں ورنہ چھپ کر ملنا جائز نہیں۔ باقی اتنا مارنا بھی جائز نہیں، یہ بات معقول ہے۔
کچھ تبلیغی بھائی ایک ہندو کی دکان پر تبلیغ کے واسطے گئے اور جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ لے کر پوچھا:
"مال کے بارے میں جھوٹ بولتے ہو؟"
ہندو نے شرمندہ ہوکر کہا: "بولنا پڑتا ھے دکانداری میں۔"
پوچھا : "منافع خوری؟"
بنیٔے کی شرمندگی برقرار رہی اور کہا: "بس جی! کیا کریں' بھگوان شما کرے' لالچ میں آ کر کرلیتا ہوں۔”
پوچھا "ملاوٹ؟"
بنیا آنکھیں نیچی رکھتے ہوئے بولا: "یہ برائی بھی کی ھے۔"
تبلیغی امیر غصہ ہوکر بولا: "ارے بدبخت !جب ساری باتیں مسلمانوں والی کرتے ہو تو کلمہ پڑھتے ہوئے موت پڑتی ھے؟"
#رہے_نام_اللہ_کا
@mujhyhurthorha Are they available now? Where?
میں نے یوٹیوب یا پھر Vimeo یا ڈیلی موشن پر بانو قدسیہ کا دھوپ جلی ڈرامہ دیکھا تھا۔ تباہی ہے تباہی۔ دوبارہ دیکھنا ہے لیکن اب کہیں نہیں مل رہا۔
I'm also looking for old collection of ptv dramas.
"میں سوال پوچھتا رہوں گا!"
ایک بچہ اگر بار بار فیل ہو رہا ہو تو اسکی نشونما کیلئے اس کے 100 میں سے 20 نمبر آنے پر بھی اسکی کوشش کی تعریف ضروری ہے۔
برائے مہربانی درج ذیل نقاط پڑھیں اور میری رہنمائی فرمائیں کہ حکمرانوں، اشرافیہ، بیوروکریسی کی کون سی نشونما باقی ہے؟ یہ ذہنی گروتھ کے کون سے فیز میں ہیں؟ اس کیلئے مزید کتنی اور کتنی دیر حوصلہ افزائی درکار ہے؟
1. ہمارا ملک ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 164 نمبر پر ہے۔ زیمبیا، کانگو، کمبوڈیا، انگولا ہم سے بہتر ہیں۔
2. ہمارے پانچ سال سے کم عمر 45 فیصد بچے سٹنٹڈ گروتھ کا شکار ہیں۔ ہماری 5 کروڑ آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ دنیا کے 170 ممالک کی تعداد پانچ کروڑ سے کم ہے۔ یاد رہے ابھی ہم ایک زرعی ملک ہیں۔
3. ہمارے ہزار میں سے 60 بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے مر جاتے ہیں۔ دنیا میں ہماری رینکنگ 179 ہے۔ برونڈی، کانگو، روانڈا جیسے ممالک ہم سے بہتر ہیں۔
4. ہمارے پونے تین کروڑ بچے جو 40٪ بنتے ہیں، سکول سے باہر ہیں۔
5. آمدنی میں ہمارا نمبر 161 ہے۔ ایتھوپیا، زیمبیا، کیمرون ہم سے بہتر ہیں۔
6. دوسری طرف حالت یہ ہے کہ 12 سالوں میں پورے ملک میں کوئی ایک صحافی نہیں جس نے پاکستان کے سب سے زیادہ جوان اور پڑھے لکھے ادارے PITB کو انکی مایوس کن کارکردگی پر جوابدہ ٹھہرایا ہو۔ (میں اس ادارے کا بار بار ذکر اس لیے کرتا ہوں کہ ہمارا مستقبل ہے ہی ٹکنالوجی سے وابستہ)
ہمارے ہاں تقریباً تمام سیاستدانوں، صحافیوں، اور انفلوئینسرز کے کسی نہ کسی سے ذاتی تعلقات یا مفادات ہیں جو وہ خراب ہونے کے اندیشے کے پیش نظر پورا سچ بولنے سے قاصر رہتے ہیں۔ میں خود کہیں نہ کہیں اس مصلحت کا شکار ہو جاتا ہوں۔
لیکن اگر ہم مکمل سچ بول نہیں سکتے تو میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ رنگ بازیوں سے دل بہلانا شروع کر دیں؟
آپٹکس سیاسی جماعتوں کی لائف لائین ضرور ہوتی ہے، لیکن کیا ہمیں احساس ہے کہ ملک صرف آپٹکس سے دھیلا ترقی نہیں کرتا؟
سسٹم کی بہتری کیبجائے ہر وقت افسران و سیاستدانوں کا دو چار ضرورت مندوں کے انفرادی فائدے پر قیمتی ترین وقت لگانا، اسے قومی خدمت بنا کر پیش کرنا اور ہمارا اپنی ذات کی تسکین کی خاطر تعریفوں کے پل باندھ دینا کوئی قابل تعریف عمل نہیں، محض بربادی ہے۔
اسی وجہ سے میں سرکاری افسران کے سوشل میڈیا کے استعمال کا بھی شدید مخالف ہوں۔ دو کلو کوڑا اٹھانے کی تصویر سے، دو سو ٹن پڑے کوڑے کو بھلا کر، دو لاکھ فالوورز بن جائیں تو کوڑا دو دو کلو ہی اٹھے گا۔
ہر ماہ تنخواہ لینے والے، ہر دفعہ نئے حکمران کے حکم کا انتظار کریں گے تو دائروں کا سفر نسلوں پر محیط ہو جائے گا۔
مجھے علم ہے کہ میری پوسٹس میں تنقید کا عنصر زیادہ ہو چکا ہے۔ چند ایک بہت اچھے خیر خواہوں نے بھی اس کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن میری رہنمائی فرمائیں کہ ہماری ہر نسل تعریفوں سے دل بہلاتی آئی ہے تو حالات بہتر کیوں نہیں ہوئے؟
اگر میری تنقید میں ذاتیات کا پہلو ہے تو برائے مہربانی ضرور رہنمائی کریں۔ اگر تنقید میں ذاتی بغض کا گمان ہوتا ہے تو وہ بھی بتائیے۔ لیکن صرف یہ کہنا کہ تنقید بہت زیادہ ہو گئی ہے مجھے منظور نہیں۔
ہمیں غلام حسین، حسن نثار، ارشاد بھٹی جیسے تھرڈ کلاس تنقید کرنے والوں اور مثبت تنقید کرنے والوں میں فرق سمجھنا ہے۔
بلا سوچے سمجھے پراپیگنڈے اور عرق ریزی سے سوچ سمجھ کر اٹھائے گئے سوالات میں فرق سمجھنا ہے۔
ذاتیات اور گالم گلوچ سے نکل کر غلط اور برے کاموں پر تنقید کرنا سیکھنا ہے، اور اس تنقید سے نکلنے والے سوالات کی جواب دہی کرنا سیکھنا ہے۔
رہ گئی بات سسٹم میں بہتری لانے والے اچھے کاموں کی تعریف کی تو PEEF ہو یا موٹر ویز میں یہ کام پہلے بھی کرتا آیا ہوں، اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ لیکن ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کہ ہمارا مسئلہ کرپشن سے بڑھ کر، آپٹکس کے پیچھے چھپی نالائقی اور نااہلی ہے اور اسکی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والے شریک جرم ہیں۔
A woman is raped inside Ghaziabad police station in Lahore. The response? “Women should not remain in Lahore police stations after Maghrib” Let that sink in. The police station failed. The institution failed. The system failed. Yet somehow, once again the burden falls on women. Every time women are failed, the answer seems to be another restriction on women instead of fixing the institution that failed them. Women don’t need fewer places to seek help. They need to know that when they walk into a police station, they will be protected, not endangered. Where else should they go? If this is the solution, we’ve learnt absolutely nothing. Gut wrenching.
بلوچستان میں دہشت گردی انڈیا کروا رہا ہے
کیا بلوچستان کا الیکشن بھی انڈیا نے چوری کیا تھا ؟؟
کیا چالیس ہزار ووٹ لینے والے کو جیل میں اور چار ہزار ووٹ لینے والے کو اسمبلی میں مودی نے پہنچایا تھا ؟؟
کیا کروڑوں روپے لے کر بلوچستان کی سیٹیں را نے بیچی تھیں ؟؟
#پاکستان
گوجرانوالہ کے لوگ متوجہ ہوں!
اس لڑکے کا نام اویس ہے اور یہ آفس والی کرسیوں کی مرمت اور پوشش کا کام کرتا ہے۔ آج سٹی ہاؤسنگ میں اس محنتی نوجوان کو شدید آندھی کے دوران کام کر کے پیدل جاتے دیکھا تو دل کیا اسے کسی طرح سپورٹ کیا جائے۔ اگر آپ نے اپنا کرسیوں کا کام کرنا ہو تو اس بھائی کو ضرور ایک موقع دیں۔ اللہ اسے برکتوں والا رزق عطا فرمائے۔ اسکا نمبر 03134715377
Fehmida Leghari is reported to have taken her own life at Muhammadi Medical College Mirpurkhas. Reports from her family reveal that she was harassed by teachers and male students. This is not the first case of its kind. Students and staff are provided no education on harassment and how to stop it neither has anyone been brought to account.
محمد میڈیکل کالج میر پور خاص میں ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی المناک موت نے غم و غصے کو جنم دیا ہے اور تعلیمی اداروں کے اندر احتساب کے مطالبات کی تجدید کی ہے۔
یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے، فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر اساتذہ کی طرف سے ہراساں کیے جانے کے بعد اپنی جان لے لی، یہ ایک انتہائی پریشان کن واقعہ ہے جس نے بہت سے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ایک نوجوان عورت جو کبھی دوسروں کو ٹھیک کرنے کی خواہش رکھتی تھی اس نے اپنی ہی جان لے لی۔
فہمیدہ لغاری محمد میڈیکل کالج کی پوزیشن ہولڈر طالبہ تھیں، جنہیں وہاں کے اساتذہ عابد لغاری اور عبد اللہ مسلسل ہراساں کرتے رہے، ایک پیشہ ور ڈاکٹر طالبہ کے ساتھ تعلیمی ادارے کے اندر ایسا سلوک ہونا حکومتی اور ادارہ جاتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے، تعلیمی اداروں میں بھی ہماری بچیاں محفوظ نہیں ہیں۔
فہمیدہ لغاری کا انتقال صرف ایک کیس نہیں ہے یہ ایک ایسے بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا طلباء کو ہو سکتا ہے جو خاموشی سے شکار ہو رہے ہوں، پوری قوم کو شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
صرف 5 فیصد بچیاں تعلیمی اداروں تک پہنچتی ہیں، جن میں سے بھی کئی بچیاں درندہ صفت لوگوں کا شکار بن جاتی ہیں، کچھ اپنی تعلیم بچانے کے لیے یہ ظلم برداشت کرتی رہتی ہیں، کچھ تعلیم چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں، جبکہ کچھ ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی طرح ہراسگی کا شکار ہو کر اپنی زندگی کا چراغ بجھا دیتی ہیں۔
اداروں کی انتظامیہ اور اسٹوڈنٹ افیئرز اس طرح کے معاملات کو اس لیے دبا دیتے ہیں تاکہ ادارے کی ساکھ برقرار رہے، فہمیدہ لغاری کے لیے انصاف اور طلبا کے لیے محفوظ جگہوں کو یقینی بنانے کا مطالبہ ہے، جہاں عزت، احترام اور تحفظ پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
How Pakistan made the world over 3 trillion dollars richer
On April 7, the world edged toward Trump's 8pm ultimatum that "a whole civilization will die tonight." By mid-afternoon, Polymarket gave less than a 5% chance for a ceasefire. But then in a flurry of last-minute diplomacy led by Pakistan's PM Shehbaz Sharif, ceasefire odds shifted from near-impossibility to 100%, as both U.S. and Iranian leadership publicly acknowledged the important role played by Pakistan.
The sharp shift in probability of ceasefire from near-zero to certainty, allows us to estimate cleanly the market value of Pakistan's successful diplomacy. There was a sharp jump of 2.9% in S&P500 around the ceasefire announcement. The reaction was similar the world over.
Global markets represent about $125T, so a 2.9% jump represents a gain of 3.6 trillion dollars for the world. Pakistan helped create TEN times its own GDP for the world!
For me, the best part is not the trillions of dollar, but seeing Pakistan on the world stage as a peace maker.
I hope Pakistan runs with this new identity by promoting peace not only abroad, but also at home. That means moving away from politics of division and exclusion, and treating every citizen as its own.