قوم کی ہیرو بیٹی۔۔
پمز کی ہیرو نرس رضیہ نورین مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں�� سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وہ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق کی طرح جلتی آگ میں آئیں اور بچے کو بالکل اپنے بچے کی طرح گلے لگا کر لے گئیں۔
پھر دوسری دفعہ واپس آئیں مگر آگ بھڑک چکی تھی اور دھماکے شروع تھے۔۔
وزیراعظم نے انہیں ستارہ خدمت دے کر بہت عمدہ اقدام کیا ہے۔۔ وہ قوم کی ہیرو بیٹی ہیں۔
🚨ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اگر اب بھارت نے حملہ کیا تو ہم اسے اس کی مشرقی سرحد سے جواب دیں گے۔ لیکن بھارت کے مشرقی سمت پر اٹیک کے لیے پاکستان کو بنگلہ دیش کی سرزمین درکار نہیں۔ پاکستان کی لانگ رینج میزائل صلاحیت پورے بھارت کو پاکستان سے ہی کور کرتی ہے۔
اور اگر PNS Hangor-class خلیجِ بنگال سے نمودار ہو گئی تو بھارتی مشرقی ساحل—تامل ناڈو، آندھرا پردیش، اوڈیشہ اور مغربی بنگال—پاکستانی بحری طاقت کی عین دہلیز پر آ جائیں گے۔
یعنی وار کے لیے راستہ نہیں، صلاحیت کافی ہے۔ 🇵🇰⚓🔥
بریکنگ اپڈیٹ کراچی
ڈیفنس کے علاقے چھوٹا بخاری کمرشل ایریا میں خواتین کے درمیان جھگڑے کے دوران زخمی ہونے والی خاتون نور العین کی اہم ویڈیو سامنے آگئی۔
ویڈیو میں نور العین کو زخمی اور خوفزدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ نور العین کا کہنا ہے کہ میری ناک اور منہ سے خون نکل رہا ہے، آنکھ پر بھی زخم ہے، میرے بال نوچ دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ڈیفنس خیابانِ بخاری کے فلیٹ میں خواتین کے جھگڑے ��ے معاملے کی نئی فوٹیج سامنے آگئی، واقعے کو 9 روز گزرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آسکا۔
نئی فوٹیج میں پولیس اہلکار ایک نوجوان کو گھسیٹتے ہوئے لے جاتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ موقع پر ایک سرکاری ویگو بھی موجود نظر آ رہی ہے۔
کراچی کی بااثر خاتون SSP فدا حسین کی رشتہ دار ہے پولیس والوں کو بلا کر تشدد کرواتی ہے اور پھر انہی پر FIR درج کروا دیتی ہے پولیس والے CCTV کیمرے تک توڑتے نظر آ رہے ہیں
محترمہ اتنی بااثر ہے کہ بلڈنگ کی لفٹ تک کسی کو استعمال کرنے نہیں دیتی واہ
دھواں بنا کے فضا میں اُڑا دیا مجھ کو
میں جل رہا تھا کسی نے بُجھا دیا مجھ کو
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
سفید سنگ کی چادر لپیٹ کر مجھ پر
فصیلِ شہر پہ کس نے سجا دیا مجھ کو
#اردو
��حسن نقوی کا بے مثال نعتیہ کلام
ایک بار ضرور پڑھیے ♥️
چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں ہیں
گیسو ہیں کہ ”وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے سایے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا
لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں
قَد ہے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں
باتیں ہیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ہوئی کلیاں
��ہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے امنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے
یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم
یہ ہاتھ، یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل
یہ پاؤں،یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل
یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل!
یہ بندِ قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایۂ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید
یہ دوش پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب
ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و ��ال
ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خد و خال
رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے
وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کہ ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی
وہ علم کہ قرآں تِری عِترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی امیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شبیرؑ تری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمُم ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ♥️
محسن نقوی
ابو مجھے شدید تکلیف ہورہی ہے میرا جسم نیلا پڑ رہا ہے یہ الفاظ اس پیاری سی بچی کے تھے
سرگودھا کی 14 سالہ اریزہ فاطمہ محض پاؤں کے انگوٹھے کے
ناخن کی تکلیف کے باعث بلاک نمبر 18 (گرلز کالج روڈ) پر واقع 'رشید میڈیکل اسٹور' گئیں۔ وہاں موجود عطائی ندیم نے معمولی آپریشن کر کے پٹی باندھ دی۔ اگلے دن جب وہ دوبارہ گئیں، تو ندیم کی جگہ اس کا بھائی نسیم عطائی موجود تھا، جس نے خود کو زیادہ تجربہ کار ظاہر کرتے ہوئے پٹی ت��دیل کی اور اریزہ کو کولہے پر دو انجکشن لگا دیے۔
انجکشن لگتے ہی معصوم اریزہ نے شدید تکلیف کی شکایت کی، جسم نیلا پڑنے لگا اور وہ بے ہوش ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے فوری طور پر ڈی ایچ کیو سرگودھا منتقل کیا گیا، جہاں ڈا��ٹروں نے بتایا کہ غلط انجکشن کی وجہ سے بچی کے جسم میں شدید انفیکشن پھیل چکا ہے۔ تین دن تک وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد، 6 جولائی کی صبح اریزہ فاطمہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
یہ صرف غفلت نہیں، بلکہ ایک معصوم بچی کا قتلِ عمد ہے! ناخن کے معمولی درد کا علاج کروانے والی اریزہ آج منوں مٹی تلے جا سوئی ہے اور اس کے والدین جیتے جی مر چکے ہیں۔
۔ شہر بھر میں پھیلے ان "موت کے سوداگروں" (عطائیوں) کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا جائے تاکہ کل کسی اور کی بیٹی اس ظلم کا شکار نہ ہو۔
😓😓😓😓
یہ واقعہ شیخوپورہ میں ہوا ہے پنجاب پولیس
پولیس والا ایک بزر گ کو کہہ رہا ہے میں تیری پین تے چڑھا
اور بزرگ کہہ رہا ہے زبان سنبھال کے بات کر
اگے سے وہ پھر اس کو مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے
یہ بن گیا پاکستان مگر اس بزرگ کی جرات کو سلام
یہی حقیقت ہے .. نہ کوئی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جیسا تھا .. نہ کوئی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جیسا ہے .. نہ کوئی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جیسا ہوگا !!