بس ایک آنکھ ہی تو ہے
باقی تو سب خیریت ہے نہیں تو ذوالفقار علی بھٹو کے حالاتِ ��ندگی اور اُن کے انجام کا جائزہ لیں تو مملکتِ خداداد میں جب دشمنی کے پیمانے قائم ہو جائیں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ تین ماہ تک پاکستان کے بڑے لیڈر جیل میں کہتے رہے کہ دائیں آنکھ کی بینائی میں فرق پڑ رہا ہے اور اُن کے اس کہنے پر کو��ی خاص توجہ نہ دی گئی۔ آنکھوں کے قطرے ضرور دیے گئے جو کہ چکوال کی ہر فارمیسی پر دستیاب ہوتے ہیں لیکن کسی سپیشلسٹ کو نہ بلایا گیا۔ عمران خان کی خبر اوپر تو جاتی ہی ہوگی لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہاں اوپر بیٹھے ہوئے ایسی باتوں پر کم ہی دھیان دیتے ہیں۔ ہاں کوئی نوازشریف ہو تومرتب کی ہوئی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر اُن کو علاج کی غرض سے لندن بھیجا جاسکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ جس قیدی کا ذکر ہو رہا ہے اُس کا نام نوازشریف نہیں عمران خان ہے۔ اور اُن کے حوالے سے یہی سب سے بڑی قباحت ہے۔
عمران خان نے جو کچھ کیا اور جن کے ساتھ کیا ان کی نظروں میں ان کی خطاکاری ناقابلِ معافی ہے‘ ک��ی نرمی کے مستحق نہیں۔ پہلی بڑی خطا عمران خان کی یہ تھی کہ جو اپنے آپ کو پنجاب کے پکے اور دائمی ٹھیکیدار سمجھتے تھے ان کا سارا سیاسی بھانڈا انہوں نے پھوڑ کے رکھ دیا۔ جنرل مردِ حق کی سرپرستی اور رہنمائی میں ان کی اجارہ داری قائم ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی کی تو کوئی حیثیت نہیں تھی کہ اس اجارہ داری کا مقابلہ کرتی‘ پیپلزپارٹی کے تو خود پتے پنجاب سے فارغ کر دیے گئے تھے اور جسے انگریزی میں اِرریلیونٹ (Irrelevant) کہتے ہیں وہ اس کی پوزیشن پانچ دریاؤں کی سرزمین میں ہوچکی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اجارہ داری اتنی طاقتور تھی کہ لگتا یہی تھا کہ اسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ لیکن کم بخت عمران خان آیا اور اس نے اس اجارہ داری کے ساتھ وہ کیا کہ شریف زادے آج تک نہ سمجھ سکے کہ ان کے ساتھ ہوا کیاہے۔ جن کے ساتھ ایسا ہو وہ اس قسم کے روحانی اور جسمانی زخم کبھی بھول سکتے ہیں؟ زمانے کا کھیل تو دیکھئے کہ جہاں ایک وقت میاں کے نعرے لگتے تھے آج کہیں لندن کے کسی شاپنگ سنٹر میں جائیں تو ڈر رہتا ہے کہ کہیں آوازیں ان پر نہ کَسی جائیں۔
دوسرا جو ناقابلِ معافی جرم عمران خان سے مرتکب ہوا وہ پردہ داروں کے حوالے سے ہے۔ پردوں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کی گئیں کہ عوام محظوظ تو ہوئے لیکن جو نشانۂ گفتگو تھے وہ ان دنوں کا تمسخر کبھی بھول نہیں سکتے۔ اس لیے نرمی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ تو عمران خان کو داتا دربار پر دیگیں چڑھانی چاہئیں کہ دو سال سے زائد قیدِ تنہائی میں شکایت صرف ایک آنکھ کی بینائی کے بارے میں ہے۔ نہیں تو جیسے عرض کیا یہاں تو بہت کچھ ہو جاتا ہے اور پھر پتا بھی نہیں چلتا کہ جو ہوا‘ کیسے ہوا اور کون سے عوامل پیچھے تھے اُس کرنے میں۔ اس بات پر کسی کو کوئی شک ہو تو ار��د شریف کی کہانی یاد کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ہم تو یہی کہیں گے کہ عمران خان اپنے کو خوش قسمت ہی سمجھیں۔
ایک بات غور کرنے والی ہے کہ عمران خان کو جتنا خطرناک یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں جیفری ایپسٹین بھی ایسی ہی رائے کا قائل تھا۔ اس کی ایک ای میل ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ایرانی قیادت سے بھی زیادہ خطرناک یہ شخص ہے۔ یہ تب کی ای امیل ہے جب عمران خان وزیراعظم بن چکے تھے یا بننے جا رہے تھے۔ یہ تو اب عیاں ہو گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین اسرائیلی سیکرٹ سروس موساد کا بہت ہی اہم اثاثہ تھا۔ یہ جنسی تعلقات کی کہانیاں اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیوں کی داستانیں یہ تو ایپسٹین کہانی کا ایک حصہ ہے۔ بنیادی سوال تو یہ ہے کہ ایپسٹین کی دولت کہاں سے آئی؟ انٹرنیٹ ایپسٹین داستان کے بارے میں بھرا پڑا ہے لیکن اس سوال کا خاطر خواہ جواب اب تک نہیں ملا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ایپسٹین کا سارا جنسی تعلقات اور بلیک میلنگ کا نیٹ ورک اسرائیلی سیکرٹ سروس موساد سے ملا ہوا تھ��۔ ایپسٹین کی داشتہ ٔ اول گیلین میکسویل کے باپ رابرٹ میکسویل کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی ایجنٹ تھا اور موساد کے لیے کام کرتا تھا۔ برطانیہ میں اس نے اپنی بہت بڑی حیثیت بنا لی تھی ‘ پارلیمنٹ کا ممبر ہوا اور بھاری بھرکم اخباروں کا مالک تھا لیکن رہا اسرائیلی ایجنٹ۔ اس تناظر میں پھر دیکھیے کہ ایپسٹین عمران خان کے بارے میں کیا کہہ ��ہا ہے کہ صہیونی اور امریکی نقطۂ نظر سے یہ شخص ایران سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایپسٹین کی جو فائلیں نکل رہی ہیں اور اب تک جو نکلی ہیں‘ تیس لاکھ کے برابر ہیں۔ یا وہ لوگوں کو اپنے جزیرے پر بلا رہا ہے‘ اپنے پرائیویٹ جہاز پر سیر کرا رہا ہے یا اُنہیں جنسی تعلقات کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ جن کو لڑکیاں دستیاب کررہا ہے یا پیسے دے رہا ہے اُن کے بارے میں کوئی بری بات نہیں کہتا۔ بری بات کہتا ہے تو ایک شخص کے لیے جس کا نام عمران خان ہے۔
آنکھ کی بینائی کے متاثر ہونے سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ انصاف کے کاروانوں پر بھی بالآخر کچھ اثر پڑا ہے۔ نہیں تو ہم جیسے ناسمجھوں کو یہ گمان ہو رہا تھا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیمات میں کچھ ایسے نیند پرور نسخوں کا اثر پنہاں ہے کہ انصاف کے کاروانوں کو خبرہی نہیں مل رہی کہ دھرتی پر کیا ہو رہاہے۔ مختلف نکات پر جتنی درخواستیں پی ٹی آئی نے مسندِ انصاف کو ارسال کی ہیں اتنی عرشوں پر بھیجی جاتیں تو وہاں اچھا خاصا اثر ہو جاتا۔ یہ تو آنکھ والا معاملہ چھڑا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ بنا کر جیل میں ملاقات کرنے کا راستہ مہیا ہوا۔ اور جو رپورٹ پھر سلمان صفدر نے اعلیٰ مسندِ انصاف کے سامنے پیش کی تب اس آنکھ والے مسئلے کی تفصیلات دنیا کے سامنے آئیں۔ ورنہ ملاقاتوں پر قدغن رہتی اور بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے لیے قطرے ہی مہیا ہوتے۔ رپورٹ مرتب ہوئی اور سپریم کورٹ نے پڑھی تب ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بھونچال آیا اور فکر کی ایک لہر پورے دیس میں دوڑی۔ دوست ہو یا دشمن ایسے حالات بنائے جائیں ہمدردی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ دیکھیے اب سلاطینِ اقتدار کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔ ایک بات سلاطین کے حق میں کہنا پڑے گی کہ عمران خان بیٹھا تو جیل میں تھا‘ خاندان کیا وکلا کی ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد رہی‘ لیکن ایوانانِ اقتدار میں چین نام کی چیز نہ آئی۔ ان دو سے زائد سالوں میں قیدی تو نہ گھبرایا لیکن اس سارے عرصے صیاد گھبرائے گھبرائے لگے۔ الیکشن اُڑا لیے گئے‘ فارم 47کے کرشمات اجاگر ہوئے‘ لیکن چین پھر بھی نہ آیا۔
کیا کیا نہیں ہوا‘ صدر ٹرم�� کی طرف سے تعریفی کلمات آئے‘ تھپکیاں ملیں‘ باامر مجبوری صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس جو کہ غزہ کے بارے میں ہے کا ممبر بننا پڑا۔ مسلمان ریاستوں کا بھی کیا حال ہے‘ نہ صرف پاکستان بلکہ ہم سے کئی گنا زیادہ طاقتور مسلم ممالک کو بورڈ آف پیس کا ممبر بننا پڑ رہا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرکے اقوام عالم میں پاکستان کی عزت بڑھ گئی ہے۔ چین تو پھر آئے۔ لیکن کاغذی مینڈیٹ کے ہوتے ہوئے چین نام کی چیز نصیب نہیں ہورہی۔
Imran Khan served his country, he was the Prime Minister of the country and he cannot be hidden in darkness. This is not a question of politics or what party one belongs to, it is a question of basic human decency. No prisoner should be treated so inhumanely.
برٹش کونسل کے مطابق اس سال او لیول کے امتحان میں ایک لاکھ امیدوار شرکت کریں گے۔ O level میں آٹھ مضامین کی امتحانی فیس 211000 روپے ہیں۔
اس طرح صرف ایک او لیول کے امتحان میں کیمبرج بورڈ 21 ارب روپے پاکستان سے لے جائے گا۔ جبکہ فیڈرل گورنمنٹ کا پورے سال کا ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 6 ارب روپے ہے۔
کہاں صرف ایک امتحان میں ہماری ایلیٹ کلاس 21 ارب خرچ کر دیتی ہے جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی کا یہ سا�� سال کا بجٹ ہے اور اس میں اے لیول ، آئی جی سی ایس ای اور جی سی ایس ای کے طلباء شامل نہیں ہیں
اگر سب ملا لیں تو صرف ایک امتحان کی مد میں کیمبرج یونیورسٹی تیس ارب اکٹھے کر لیتی ہے۔ اور مزید جان لیں کہ او لیول ، اے لیول اور آئی جی ایس ای کے امتحانات سال میں دو بار ہوتے ہیں . یعنی سال کا تقریباً پچاس ارب ��وپیہ پاکستان سے صرف ایک یونیورسٹی نکالتی ہے
امریکن سکولز ، پاک ترک سکولز اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس الگ کمائی کرتے ہیں
اور ہم گھر میں گھس کر مارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں
جبکہ بین الاقوامی تعلیمی ادارے ہمارے نظام کی کمزوریوں سے فایدہ اٹھا کر ہمارے گھر میں گھس کر ہمارا مال بھی لوٹ رہے ہیں
اور ہمارے ذہین بچوں کو بھی باہر کھینچ رہے ہیں . دراصل ہمارا سیاست سے ہی نہیں تعلیم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔
تھوڑا نہیں پورا سوچئے گا 📷
کس کس نظام کو روئیں؟؟؟
The current regime is not realizing that inhumane & disgraceful treatmen of Imran Khan’s family members is tarnishing the image of Pakistani state all over the world. It’s becoming difficult for our diplomats serving in the west to defend at public forums https://t.co/PwSqpcxLIe
Over 150 Pakistani lawyers, academics & civil society members stand united in our opposition to the 27th constitutional amendment - a brazen assault on judicial independence & integrity carried out in a secretive, non-transparent manner. #Scrap27thAmendment
جس ماورائے عدالت قتل کو ہم انصاف سمجھ رہے ہیں اس طرح کے انصاف کی نہ ہمارے دین، نہ ہی قانون یا مہذب معاشرے میں کوئی گنجائ�� ہے۔۔
ملزمان کو اپنی عدالت لگا کر قتل کیا جائےگا تو پتہ کیسے چلےگا کہ مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک کتنے ملزم مجرم تھے، کتنے بے قصور۔۔
“I want to dedicate this award today to Anas Al-Sharif and Hossam Shabat and Mariam Abu Daqqa and Roshdi Sarraj and Bilal Jadullah. All of those brave Palestinian journalists murdered by Israel."
From my remarks today, accepting the @ArabCenterWDC's Journalistic Integrity award.
Ahsan Bhoon's victory speech is a blatant attempt to prejudice the ongoing case against the 26th amendment. By suggesting that the retirement age can be increased to 70, he has incentivised SC judges to align with the executive’s position.
لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور بار ایسو سی ایشنز نے 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف قرارداد منظور کر لی اور اس ترمیم کے حق میں کسی بھی ممکنہ عدالتی فیصلے کو ماننے سے انکار کرنے کا اعلان کر دی��۔
It's our country and we'd bleed for it. They're our soldiers and we are proud of them and their sacrifices. But Imran Khan is our leader, and we are equally proud of him; and we stand by him. And that is not the sentiment of mine as an individual. That is the sentiment of this nation.
نہ سندھ میں مسلم لیگ نون کا کوئی ووٹ ہے نہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا اور دونوں ہی پارٹیاں تین سال سے مل کر وفاق میں حکومت کر رہی ہیں۔ ایک پارٹی کا صدر ہے اور دوسری کا وزیراعظم۔ ان کی اپس میں کوئی لڑائی نہیں یہ صرف دکھاوے کا تنازہ یعنی نورا کشتی ہے جس کے تحت مسلم لیگ نون پنجاب میں اپنے ووٹر کو یہ دکھانا چاہ رہی ہے کہ وہ پنجاب کے مفاد کا دفاع کر رہی ہے اور اسی طرح سندھ کے ووٹرز کو پیپلز پارٹی دکھانا چاہ رہی ہے کہ وہ سندھ کے مفاد کا دفاع کر رہی ہے۔ یہ صرف نورا کشتی اس کے علاوہ کچھ نہیں - دونوں پارٹیاں یہ نورا کشتی صرف اپنے مفاد کے لیے کر رہی ہیں ورنہ سندھ میں اب بھی سسٹم رواں دواں ہے اور پنجاب سے بھی اب کرپشن کی بہت بو ا رہی ہے-
امریکہ نے جب سے غزہ کا قتل عام شروع ہوا ہے اسرائیل کو 21.7ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے جس میں تقریبا 20 ارب ڈالر ٹرمپ نے دئیے ۔ مسلمان بچوں عورتوں اور بوڑھوں کے ظالمانہ قتل کے مدد گار ٹرمپ کو نوبل انعام دینا انسانیت کی توہین ہے ۔ پاکستان اپنی حمایت واپس لے ۔