کیا ہمارے پالیسی سازوں کو کبھی یہ سوچنے کا وقت ملے گا کہ عام آدمی سے ٹیکس، بجلی، پٹرول اور مہنگائی کے ذریعے مسلسل کتنی قیمت وصول کی جا رہی ہے؟
عوام سے وصولی کا منصوبہ تو ہر سال بنتا ہے،
کیا عوام کی خوشحالی کا بھی کوئی طویل مدتی منصوبہ ہے؟
@salmanAraja@KlasraRauf
حکومت نے H1 FY26 میں SOEs کو تقریباً Rs804 ارب کی fiscal support دی، یعنی اوسطاً تقریباً Rs6.6 ارب روزانہ۔
اسی عرصے میں power-sector circular debt میں تقریباً Rs374 ارب کا gross اضافہ ہوا۔
تو power-sector reforms کا اصل measurable target کیا ہونا چاہیے؟
Losses کم کرنا؟
Circular debt کا flow صفر کرنا؟
یا consumer tariffs کو کم کرنا؟
اصلاحات کی کامیابی کا پیمانہ واضح ہونا چاہیے۔
@KlasraRauf
حکومت کہتی ہے مہنگائی کم ہو رہی ہے، مگر کم آمدنی والے گھرانوں کی قیمتوں میں سالانہ اضافہ 12.04%، CPI 9.2% اور پٹرول Rs342 فی لیٹر ہے۔
اعداد نیچے نہیں آئے، عوام کی برداشت نیچے آ گئی ہے
اگر FY27 میں قرضوں کا سود Rs8.5 کھرب اور مالی خسارہ 3.9% GDP تک پہنچتا ہے، تو سوال صرف IMF targets پورے کرنے کا نہیں—سوال یہ ہے کہ حکومت اپنے اخراجات، ٹیکس وصولی اور عوامی ریلیف کا حساب کب دے گی؟
عوام سے قربانی مانگنے سے پہلے حکومت کو کارکردگی دکھانا ہوگی۔
عوام کو معمولی کمی کا جشن نہیں، یہ حساب چاہیے کہ ایندھن اتنا مہنگا کیوں ہے اور ٹیکس کا بوجھ کہاں جا رہا ہے۔
پٹرول میں 58 پیسے کی رعایت، مگر عوام کی جیب پر سینکڑوں روپے کا بوجھ—یہ ریلیف نہیں، صرف سرخی ہے
“پنجاب حکومت نے 2026 میں اعلیٰ افسران کے لیے سرکاری گاڑیوں اور فیول کی مراعات میں اضافہ کیا ہے، لیکن پورے صوبے میں افسران اور محکموں کو سالانہ کتنے لیٹر پٹرول/ڈیزل دیا جاتا ہے، حکومت نے اس کا ایک consolidated public figure جاری نہیں کیا.اگر پیسہ عوام کا ہے تو حساب بھی عوام کو ملنا چاہیے?
4,228 ارب روپے عوام کی جیب سے!صرف پٹرولیم لیوی کے نام پر🔴 2022-23: 580 ارب — 50 روپے/لیٹر تک
🔴 2023-24: 1,019 ارب — 60 روپے/لیٹر تک
🔴 2024-25: 1,161 ارب — 70 روپے/لیٹر تک
🔴 2025-26: 1,468 ارب — 78 روپے+ /لیٹر تک
چار سال = 4,228 ارب روپے
عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال کر اپنی عیاشیاں اور شاہانہ حکومتی اخراجات آخر کب تک پورے کریں گے
جمہوریت، شرافت اور سیاست میں بے داغ کردار کا روشن نوجوان ستارہ حماد اظہر، جو عمران خان کے نظریے اور جمہوری جدوجہد کا ایک مضبوط سپاہی ہے۔حماد اظہر کی گرفتاری صرف ایک سیاسی رہنما کی گرفتاری نہیں، بلکہ جمہوریت، سیاست اور انصاف کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
حماد کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر عمران خان کے نظریے اور حق کی آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں گندم کی کاشت کی لاگت بھارت سے 66٪ زیادہ بتائی جاتی ہے۔ کسان مہنگی کھاد، ڈیزل، بجلی اور بیج کا بوجھ اٹھائے، جبکہ حکمران اشرافیہ بیرونِ ملک مصروف ہو۔ مریم نواز لندن میں اپنی بیٹی کی گریجویشن میں شریک ہوئیں۔ سوال ہے: ترجیح کسان ہے یا شاہی طرزِ حکمرانی؟
Let us evaluate the performance of the current government not through slogans and political claims, but through data and ground realities.
Over the next 8 days, we will review one key sector each day:
1️⃣ Exports
2️⃣ Investment
3️⃣ Energy
4️⃣ Tax Reforms
5️⃣ Agriculture and Farmers
6️⃣ Government Institutions and Governance
7️⃣ Public Welfare
8️⃣ Long-Term Structural Reforms
For each sector, we will examine what the government promised, what was actually achieved, and what the public received.
In the end, the numbers will deliver the verdict:
Is this government merely managing the crisis, or is it truly transforming Pakistan’s economy?
Day 1: Exports — starting tomorrow.
🇵🇰 دن 1/8 — برآمدات
برآمدات میں 7٪ اضافہ،
لیکن تجارتی خسارے میں 18٪ اضافہ!
تو کیا پاکستان واقعی Export-led Growth کی طرف جا رہا ہے؟
جولائی–اگست 2026 کے تازہ PBS اعداد و شمار:
📈 برآمدات: 5.5 ارب ڈالر | +7.0٪
📈 درآمدات: 12.6 ارب ڈالر | +13.0٪
🔻 تجارتی خسارہ: 7.12 ارب ڈالر | +18.1٪
مسئلہ بالکل واضح ہے:
برآمدات بڑھ رہی ہیں، لیکن درآمدی بل تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
IT اور Services Exports یقیناً ایک مثبت پہلو ہیں، لیکن پاکستان اب بھی محدود برآمدی بنیاد پر انحصار کر رہا ہے۔ ہمیں High-Value Manufacturing، Technology اور متنوع عالمی مارکیٹس کی طرف بڑھنا ہوگا۔
اصل امتحان یہ نہیں کہ برآمدات بڑھیں یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا برآمدات اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ پاکستان کا بیرونی معاشی انحصار کم ہو سکے؟
7٪ اضافہ قابلِ ذکر ہے۔
لیکن تجارتی خسارے میں 18٪ اضافہ بتا رہا ہے کہ بنیادی مسئلہ ابھی برقرار ہے۔
8 شعبے، 8 دن۔
ایک ہی پیمانہ — نعرے نہیں، نتائج @UKPTIOfficial@PTIOfficialUSA. i
دن 2/8 — سرمایہ کاری
سرمایہ کار وہاں جاتا ہے جہاں اعتماد، سکیورٹی اور مستقل پالیسی ہو۔
پاکستان میں سوال یہ ہے: کیا حکومت نے یہ تینوں چیزیں پیدا کی ہیں؟
تازہ SBP اعداد و شمار کے مطابق FY2026 میں:
📉 FDI Inflow: $3.57 ارب
گزشتہ سال: $4.28 ارب
یعنی تقریباً 17٪ کمی۔
اور FDI Outflow بڑھ کر تقریباً $1.93 ارب ہو گیا۔
سرمایہ کاری صرف اعلانات سے نہیں آتی۔
سرمایہ کار کو پالیسی کا تسلسل، قانونی تحفظ، سکیورٹی اور اعتماد چاہیے۔
جب سرمایہ کاری کم ہو اور سرمایہ کا اخراج بڑھ جائے تو روزگار، پیداوار اور پائیدار معاشی ترقی کیسے آئے گی؟
اصل سوال:
کیا پاکستان سرمایہ کاری کو واقعی attract کر رہا ہے، یا صرف اس کے دعوے کر رہا ہے؟
پاکستان کی معاشی صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے تباہ کن ہوتی جا رہی ہے۔
8 شعبے، 8 دن۔
ایک ہی پیمانہ — نعرے نہیں، نتائج۔
@UKPTIOfficial@PTIOfficialUSA
دن 3/8 — زراعت اور کسان.
2020 کا کسان زیادہ خوشحال تھا یا 2026 کا؟
جواب نعروں سے نہیں، کسان کی لاگت اور خالص منافع سے ملے گا۔
2020 → 2026:
🔺 یوریا: 1,850 → 4,500 روپے
🔺 DAP: 3,558 → 12,500 روپے
🔺 ڈیزل: 111 → 403 روپے فی لیٹر
دوسری طرف گندم کی قیمت 1,850 → 3,000 روپے فی من ہوئی۔
یعنی فصل کی قیمت بڑھی، مگر کسان کی لاگت اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔
اصل سوال یہی ہے:
کیا کسان کی آمدن بڑھی یا صرف اس کے اخراجات بڑھے؟
نعرے نہیں، کسان کی جیب فیصلہ کرے گی۔
@salmanAraja@PTIofficial
12 دن!
ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا، سابق وفاقی وزیر اور ایک باوقار خاندان کا چشم و چراغ حماد اظہر کہاں ہے؟
اس کا جرم کیا ہے؟
صرف یہ کہ وہ عمران خان کا ساتھی اور سپورٹر ہے؟
اگر اس کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ مگر کسی شہری کو 12 دن تک اہلِ خانہ سے دور رکھنا، ملاقات نہ ہونے دینا اور اس کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہ کرنا کس قانون کے تحت ہے؟
حماد اظہر نے بیرونِ ملک آرام دہ زندگی کے بجائے پاکستان واپس آ کر اپنے ملک کی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ آج اسی پاکستان میں اس کی والدہ اپنے اکلوتے بیٹے کی خیریت جاننے سے بھی محروم ہیں۔
چیف جسٹس صاحب! یہ صرف حماد اظہر کا معاملہ نہیں، یہ قانون کی حکمرانی کا امتحان ہے۔ فوری نوٹس لیں۔ حماد اظہر کے خاندان کو فوری طور پر اس کی خیریت اور مقام سے آگاہ کیا جائے۔
12 دن بہت ہوتے ہیں۔ اب خاموشی نہیں، جواب چاہیے۔
100 روپے کمانے والا غریب، 30 روپے ایسے قرضوں کے سود میں دیتا ہے جن کا اسے مقصد تک معلوم نہیں۔
پچھلی نسل کا قرض، آج کی نسل اپنے خون پسینے سے چکا رہی ہے۔
قرض ہمارا، ٹیکس ہمارا، سود ہمارا—مگر پیسہ کہاں گیا؟
عوام کو حساب کون دے گا؟
@salmanAraja@PTIofficial@UKPTIOfficial