آپ کو ضیاء الحق سے لاکھ اختلاف ہو مگر آپ اگر منصف مزاج ہیں تو آپ کو ماننا پڑیگا کہ اسکا روس کے مقابل کھڑا ہونے کا فیصلہ دل گردے کا فیصلہ تھا۔اسی طرح اس کا انڈیا سے رویہ مسلسل دھمکا کر رکھنے کا رہا۔اس کے بعد ہمیں ایسے سربجیب حکیم میسر آئے جو پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے۔تاہم اب حافظ صاحب کو دیکھیے ایسی جارحانہ پالیسیاں ہیں کہ حماقت کی حدوں کو چھوتی محسوس ہوتی ہیں۔ایک طرف مشرق وسطیٰ میں جارحانہ انٹری ہے تو دوسری طرف افریقہ تک گستاخانہ نگاہیں دوڑتی دکھائی دیتی ہیں تو تیسری طرف ایران امریکہ پھڈے میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے اور چوتھی طرف انڈیا اور افغانستان پر شیر والی نگاہ گاڑھ رکھی ہے۔اس سب کے ساتھ ساتھ اندرون ملک بھی اکھاڑ بچھاڑ زوروں پر ہے اور سیاسی بھونچال بھی در و دیوار لرزا رہا ہے۔ان میں سے کسی بات میں کوئی مبالغہ نہیں مگر یہ حقیقت بیان کرنے سے بھی نامعلوم کتنے ہیں کہ جن کی دموں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔۔۔۔موتوا بغیضکم۔۔۔
اصول یہ ہے کہ "ہے جرم ضیعیفی کی سزا مرگ مفاجات".اس اصول کے تحت اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں فوج سے زیادہ طاقتور نہیں ہیں۔فوج کی طاقت اسلحہ ہے جبکہ سیاسی جماعت کی طاقت عوام ہیں۔جب وہ باشعور ہوں منظم ہوں، غیرت مند ہوں اور اقتدار میں شریک ہوں مگر ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں خاندانوں کی لمیٹڈ کمپنیاں ہیں۔کوئی عوامی پارٹی ہے نہ اس نے عوام کو شعور یا اقتدار میں حصہ دینے کا کبھی سوچا ہی ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ بے دست و پا لمیٹڈ کمپنیوں کا مقابلہ اسلحہ سے لیس گروپ آف کمپنیز کے ساتھ ہے اور قانون کی بالادستی کسی کا ہدف نہیں ہے۔دوسری طرف پوری دنیا اتھل پتھل کا شکار ہے اور ہمارا خطہ تو جیسے آتش فشاں بن چکا ہے۔ایسے میں جب مسئلہ بقاء کا لاحق ہو تو ائیڈیلز کی تلاش سے زیادہ اہم موجود وسائل اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔یہ وقت ایسے جھگڑے نمٹانے کا نہیں کہ ہماری دگرگوں حالت کا زیادہ قصور وار کون ہے بلکہ تمام تر دستیاب وسائل کے ساتھ بقاء کو یقینی بنانے کا ہے اور ہر خطرہ خواہ اندرونی ہو یا بیرونی بے رحمی کے ساتھ اس کے قلع قمع کرنے کو اولین ترجیح بنانے کا ہے۔اس "نازک صورتحال" سے اگر بچ نکلے تو پھر اصلاح احوال کیلئے ضرور قانونی و دستوری طریقوں کی طرف مراجعت کرنا ہو گی کیونکہ استحکام کا واحد ذریعہ نظریہ اور آئیڈیالوجی ہی ہوتی ہے۔طویل سمع خراشی پر دلی معذرت عرض ہے
اور ناظرین عمران خان کا ہر حامی سیرٹیفائیڈ ٹیریان وائٹیا کیوں ہے اس کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں گیلے تیتر کے فین اکاؤنٹ سے ویتنام کی ایک ویڈیو کو پشاور منتقل کیا گیا ہے اور ہزاروں ریٹوئٹس کے ساتھ یہ جھوٹ فیس بُک ٹک ٹاک پر ریکارڈ توڑ رہا ہے
حضرت مہدی کے ظہور کے وقت جو عرب کے حالات ہوں گے انھیں اگر سنی روایات کے بین السطور میں دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ تب سارے عرب علاقے کا حکومتی نظام درہم برہم ہو چکا ہو گا۔جو لوگ اس بات سے واقف ہیں وہ عرب معاشرے میں جاری موجودہ تخریبی عمل پر اس لیے خوش ہو رہے ہیں کہ انکے خیال میں اس تباہی کے نتیجے میں مہدی کا ظہور ہونا ہے۔۔۔۔
اس حوالے سے عرض ہیکہ مذکورہ انداز فکر اپنی بنیاد ہی سے ناپسندیدہ ہے۔یوں سمجھیں کہ ہر کسی نے مرنا تو ہے ہی لیکن اس کے باوجود کسی کو مارنا جائز نہیں ہے۔وہ بیمار جس کی تندرستی سے ڈاکٹر مایوس ہو چکے ہوں اسکی بھی طبعی موت کا انتظار ہی نہیں کیا جاتا بلکہ آخری وقت تک اسکی زندگی بچانے کی کوششیں بھی جاری رکھی جاتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کرنے کے کام اپنے ہاتھ میں نہیں لیے جاتے بلکہ انھیں اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ خود وہ کام کیے جاتے ہیں جو شریعت کے دائرے کے اندر ہوتے ہیں۔مہدی کی آمد کیلئے تیاری کا بہترین عمل یہ ہے کہ خود کو اللہ تعالیٰ کا وفادار اور تابعدار بنایا جائے اور ایسے ہی کردار کے افراد تیار کرنے پر کام کیا جائے جو مہدی کا ساتھ نبھانے کے قابل بن سکیں اور ہر اس کام سے حتیٰ الوسع دور رہا جائے جس سے مسلمانوں میں فتنہ اور فساد پھیلنے کا امکان ہو یا انکے جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وہ اصلاح پسند لوگ ہوں گے جو حضرت مہدی کے قافلے میں شمولیت کے اہل اور انکی صحبت کے مستحق ہوں گے۔انکی زندگی میں مہدی کا ظہور نہ بھی ہوا تب بھی انکے کام کی برکت ضرور جلوہ دکھائے گی جبکہ فسادی اور تخریبی سوچ والے جلد باز لوگوں کی زندگیوں میں اگر حضرت مہدی کا ظہور ہوا بھی تو ایسے لوگ ان پر بھی کوئی نہ کوئی اعتراض جڑ کر انکے خلاف بھی اسی طرح بغاوت برپا کریں گے جیسے آج آمادہ فساد ہیں۔
This is what renowned Islamic scholar Dr. Israr Ahmad said about Pakistani troops deployed to Saudi Arabia to protect the two holy sites.
His words also expose the views of accounts like Sulaiman Ahmad and Daniel, who support Houthi or Iranian control of the holy sites in KSA.
آج تحریکِ انصاف کی یہ دلیل مسلسل سننے کو ملی کہ ’’ہمیں دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی۔ اس جھوٹے دعوے پر میرے تحریک انصاف سے 8 بنیادی سوالات ہیں:
1- گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت رہی، وفاق میں بھی آپ اقتدار میں رہے۔ آپ کو دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟؟ NAP پر عمل سے کون سے پالیسی روک رہی ہے ؟ Apex committe میٹنگز بلانے سے کونسی پالیسی روک رہی.
2- دہشتگرد کو دہشتگرد کہنا، افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کی مذمت کرنا، پاکستان فوج اور عوام پر حملوں کے خلاف کھل کر افواج کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے آپکو کس پالیسی کی ضرورت ہے؟
3- حالیہ دنوں میں افغانستان کی جانب سے کوہاٹ کے علاقے میں ڈرون حملے کیے گئے۔ آپ کی صوبائی حکومت نے ان حملوں کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟ کونسی پالیسی آپ کو روکتی رہی ؟
4- افغان سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور فوجی جوانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، دراندازی ہوتی ہے اور دہشتگردوں کی براہِ راست یا بالواسطہ معاونت کی جاتی ہے۔ آپ نے آج تک کتنی مرتبہ افغان ریجیم کا نام لے کر ان سرحدی خلاف ورزیوں پر احتجاج یا مذمت کی؟ اس کے لیے کس ’’پالیسی‘‘ کی ضرورت ہے؟
5- آپ کے اپنے صوبے میں دہشتگردی کے لیے معاون غیرقانونی معیشت جیسا کے بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ 13 سال میں آپ نے کون سے عملی اقدامات کیے اور اگر کیے تو وہ بتائیں ؟
6- دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار سیکورٹی فورسز روزانہ کی بنیادوں پر اپنی قربانیاں دے رہی ہیں تم نے ان فورسز سے کتنی دفعہ انکی پوسٹوں پر جا کر ان سے اظہار یکجہتی کیا؟اور تو اور خیبر پختونخوا کے عوام جو خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تم نے کتنی دفعہ جا کر ان یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھا؟
7- دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کے بیانیے کو تم مختلف ہتھکنڈوں اور طریقوں سے کنفیوز کیوں کرتے ہو۔ تم خوارج کو خوارج کیوں نہیں کہتے اور ان خوارج کا نام لے کر انکی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اسکے۔ لئے کونسی پالیسی۔ چاہیے ؟
8- ان تمام باتوں سے صرف ایک اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ 13 سال کی حکمرانی میں ۔
۱- آپ نےکرپشن نے کو بے پناہ فروغ دیا صوبے کے وسائل کو دونوں ھاتھوں سے لوٹا۔ سوشل میڈیا پہ آپکے قومی و صوبائی ممبران ایک دوسرے پہ کھل کر کروڑوں اربوں لوٹنے کے الزام لگاتے ھیں ۔ ایک خاتون MNA کھل کر میڈیا پہ بیرون ملک سے آنے والے کروڑوں پارٹی تنظیم پہ خربرد کرنے کا الزام لگاتی ھیں ۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔۔
حافظ سید عاصم منیر،وزیراعظم شہباز شریف،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سمیت لیڈران کی یہ ویڈیو اس وقت عرب دنیا میں بہت وائرل ہو رہی ہے،
اللہ نے واقعی پاکستان کو اپنے گھر(خانہ کعبہ)اور روضہ رسول اور مسجد نبوی کا محافظ بنا کر بڑے مقام سے نوازا ہے۔
اوریا صاحب نے غضب کی حقیقت بیان کی ہے:جیسے اسلام آباد میں ڈی سی صاحب کی اجازت کے بغیر کسی اجتماع کا انعقاد نہیں ہو سکتا اسی طرح مذکورہ علاقے میں کوئی جماعت دہشت گردوں کی رضامندی کے بغیر یوں آزادانہ سیاسی سرگرمی کا سوچ بھی نہیں سکتی
اگرچہ تمام دھرنیں ہڑتالیں مظاہرے احتجاج صرف عوامی مفاد اور حقوق کے حصول کیلئے کیے جاتے ہیں مگر اس سرگرمی سے اشرافیہ کا کچھ بگڑتا ہے نہ عوام کا بھلا ہوتا ہے بلکہ ایسی صورتحال تیز طراز تاجروں ٹرانسپورٹروں قانون کا نفاذ کرنے والوں کیلئے ہزار سالوں کی برکتیں مختصر وقت میں اکٹھی سمیٹنے کا موقع پیدا کر دیتی ہے اور اس ساری ناجائز سرگرمی کا سارا بوجھ عوام تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے شریف طبقے کو اٹھانا پڑ جاتا ہے۔محض غریب نہیں بلکہ غریبوں میں سے صرف شریف پس جاتا ہے۔
اور ناظرین ایک سیاسی ہسپتال کی فنڈ ریزنگ ان دنوں عروج پر ہے اور پاکستان نے شوبز سے منسلک خواتین کا ٹانگہ بھر کر یورپ پہنچایا گیا ہے جہاں پر عوام سے زکوت صدقات عطیات مانگے جارہے ہیں تاکہ اس رقم سے امریکہ میں لابنگ فرمز ہائر کرکے سیاسی مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاسکے
تصویر میں فنڈ اور ریزنگ واضح دکھائی دے رہی ہیں
کیسا حسین اتفاق ہے کہ جس سیکرامنٹو کیلیفورنیا کی جگہ پر سیتا وائٹ نیازی 33 سال پہلے انصاف مانگ رہی تھی عین اسی جگہ پر ایک سور اسی عمران خان کیلئے انصاف مانگ رہا ہے
یہ ہے مکافات عمل کی چکی جو بہت باریک پیستی ہے
گولڈ اسمتھ خاندان کے تمام منصوبے ناکام ہو گئے؛
پہلا نعرہ ہم کوئی غلام سے شروع ہو کر ٹرمپ سے امیدوں سے ہوتا ہوا پوری دنیا کی صیہونیوں کے ساتھ مل کر دنیا بھر سے اپیل پر ختم ہو گیا۔
2022 میں آرمی چیف کی تعیناتی پر دھرنا دے کر اپنی مرضی کا آرمی چیف لانے میں ناکامی پر ختم ہوا۔
09 مئی 2023 میں ججوں کی مدد سے تختہ الٹنے کی کوشش کی جو ناکام ثابت ہوئی۔
2024 میں پھر تختہ الٹنے کی کوشش ناکام ہوئی۔
گولڈسمتھ عمران خان کو جیل میں لا کر قتل کروانا چاہتے تھے وہ سازش بھی ایجینسیوں نے ناکام بنا دی گئی۔
اب کچھ جرنیلوں کی ریٹائرمنٹ پر امید لگا کر پھر تختہ الٹنے کی کوشش بھی ناکام ہو چکی ہے۔
گولڈ اسمتھ خاندان اس وقت پاگل ہو چکا ہے کہ اگر وقت ہاتھ سے نکل گیا تو وہ اپنے بچوں کو کیسے لانچ کریں گے۔ جنرل عاصم منیر سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جن کے خلاف پوری صیہونی لابی گولڈ اسمتھ خاندان کی سربراہی میں متحرک ہو چکی ہے لیکن ناکامی انکا مقدر ہو گی انشاء اللہ۔
پچھلے دنوں میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ قرآن کو سمجھے بغیر ایک مسلمان مرگیا تو وہ تو بہت گھاٹے میں رہا کیونکہ اسکو علم ہی نہیں کہ اللہ نے اس میں کیا کہا ہے اور اب ڈاکٹر صاحب کی یہ ویڈیو دیکھی ۔۔۔حق بات کی ہے انہوں نے۔ اللہ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاکرے، آمین
@4_xx_xx@khalidmabbasi بھائی پتا آپ ککھ کا بھی نہیں ہے، سنی سنائی کو بغیر تحقیق آگے پھیلانے والا جھوٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ نیٹ پر لکھ کر ہی دیکھ لیا کرو لکھنے سے پہلے۔
Who is the person enjoying life with their own family while playing with the lives of the country's youth?
Who is the one who has taken control of the party?
Who is the one who prevents any party leader from gaining popularity and smears the reputation of every rising leader within the party?
Who is the one who turned a large number of people against their Homeland and it's institutions?
Around whose family do the PTI's social media accounts revolve?
Who is the one constantly vilifying and humiliating Khan's second and third wives, while elevating his ex-wife to the status of a loyal figure and a savior?
@MauriceIsRight@khalidmabbasi So who is talking about them. They surely are left much behind in the race of human evolution in search of knowledge and just system. This shiny world isnt based justice. We are longing for it, so should you.