گلگت بلتستان میں سیاسی ارتقاء اور سیاسی جماعتوں کا اثرورسوخ
گلگت بلتستان پاکستان کا ایک اہم اور حساس خطہ ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل اور منفرد ثقافتی شناخت کے باعث ہمیشہ قومی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اس خطے کی سیاسی تاریخ بھی اتنی ہی اہم اور دلچسپ ہے، جو آئینی شناخت، سیاسی حقوق اور عوامی نمائندگی کی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔
قیامِ پاکستان سے قبل گلگت بلتستان مختلف ادوار میں مقامی ریاستوں، ڈوگرا حکومت اور برطانوی انتظام کے زیرِ اثر رہا۔ 1935 میں برطانوی حکومت نے گلگت ایجنسی کا انتظام مہاراجہ کشمیر سے لیز پر حاصل کیا، تاہم 1947 میں برصغیر کی تقسیم سے قبل یہ علاقہ دوبارہ مہاراجہ کشمیر کے سپرد کر دیا گیا۔
یکم نومبر 1947 کو گلگت سکاؤٹس اور مقامی عوام نے ڈوگرا حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے خطے کو آزاد کرایا۔ بعد ازاں یہ علاقہ پاکستان کے انتظامی نظام کا حصہ بن گیا۔ اسی واقعے کو گلگت بلتستان کی جدید سیاسی تاریخ کا نقطۂ آغاز تصور کیا جاتا ہے۔
آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک گلگت بلتستان، جسے اس وقت شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، مکمل آئینی حقوق اور قومی پارلیمان میں نمائندگی سے محروم رہا۔ اس دوران وفاقی حکومت کے ذریعے انتظامی امور چلائے جاتے رہے جبکہ عوام سیاسی اور آئینی حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔
1974 میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے گلگت بلتستان میں اہم اصلاحات متعارف کروائیں۔ جاگیرداری نظام اور ریاستی حکمرانی کے بعض پرانے ڈھانچوں کا خاتمہ کیا گیا، جسے علاقے کی سیاسی اور سماجی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے دور کو گلگت بلتستان میں سیاسی حقوق کے آغاز کا دور قرار دیتی ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی گلگت بلتستان میں بعض سیاسی اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔ لیگل فریم ورک آرڈر 2007 کے ذریعے شمالی علاقہ جات قانون ساز کونسل کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا، مقامی نمائندوں کے کردار کو وسعت دی گئی اور انتظامی و عدالتی ڈھانچے میں بہتری کی کوشش کی گئی۔ تاہم اس دور میں بھی خطے کو مکمل آئینی حیثیت یا قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی حاصل نہ ہو سکی۔
2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر نافذ کیا، جس کے تحت پہلی مرتبہ گلگت بلتستان اسمبلی، وزیراعلیٰ اور گورنر کے عہدوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس اقدام نے مقامی سطح پر سیاسی عمل اور خود حکمرانی کے تصور کو مضبوط کیا اور اسے گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔
2013 سے 2018 کے دوران مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے خطے میں ترقیاتی منصوبوں، شاہراہ قراقرم کی بہتری اور سی پیک منصوبے کے تناظر میں اہم اقدامات کیے۔ 2018 میں گلگت بلتستان آرڈر متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے مقامی حکومت اور اسمبلی کے بعض اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ حکومت نے اسے خود اختیاری کی جانب پیش رفت قرار دیا جبکہ ناقدین کے مطابق حتمی اختیارات بدستور وفاق کے پاس رہے۔
بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے دور میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کی تجاویز سامنے آئیں اور اس حوالے سے قومی سطح پر بحث کو مزید تقویت ملی۔ تاہم تاحال گلگت بلتستان کی حتمی آئینی حیثیت کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔
اگر مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو گلگت بلتستان کے سیاسی ارتقاء میں مختلف حکومتوں نے مختلف ادوار میں کردار ادا کیا۔ پیپلز پارٹی کے دور کو بنیادی سیاسی اصلاحات اور خود حکمرانی کے نظام کی بنیاد رکھنے کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور کو سیاسی ڈھانچے میں ابتدائی وسعت اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور کو ترقیاتی منصوبوں، سی پیک اور گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی وجہ سے نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف نے صوبائی حیثیت اور آئینی شناخت کے مباحثے کو مزید آگے بڑھایا۔
آج گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی خواہش آئینی شناخت، مکمل سیاسی حقوق، قومی پارلیمان میں مؤثر نمائندگی اور اپنے وسائل پر زیادہ اختیار ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ خطہ مسلسل سیاسی ارتقاء کے سفر سے گزر رہا ہے اور مستقبل میں ہونے والے فیصلے اس کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔
تحریر : عمر حیات خان
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا معاملہ
یقین دہانی کے باوجود وفاقی حکومت نے ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود اور یونین کونسلز کی تعداد کے نوٹیفکیشنز اور نقشہ جات فراہم نہیں کیے
الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت سے مذکورہ دستاویزات تین روز میں طلب کر لیں
الیکشن کمیشن کا وفاقی سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر کو مراسلہ
13 مئی کو چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں اجلاس کے دوران وفاقی حکومت سے نوٹیفکیشنز اور نقشہ جات 10 روز میں طلب کیے گئے تھے۔ مراسلہ
کمیشن کی ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود اور یونین کونسلز کی تعداد کے نوٹیفکیشنز تین روز میں فراہم کرنے کی ہدایت
بریکنگ نیوز!
رواں مالی سال گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گھوڑوں کی تعداد میں معمولی 0.8 فیصد اضافہ، تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی،خچروں کی تعداد 1.8 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 21 ہزار ہوگئی۔
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس نے بجٹ 2026-27 کے لیے مطالبات پیش کر دیئے،
وزیراعظم، چیئرمین کمیٹی رانا ثناء اللہ اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو بجٹ تجاویز کا مراسلہ ارسال
آگیگا کا ایڈہاک ریلیف الائنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے اور نیا پے سکیل 2026 متعارف کروانے کا مطالبہ،
سرکاری ملازمین کا پنشن ترامیم فوری واپس لے کر پرانا پنشن نظام بحال کرنے کا مطالبہ،
گریڈ 1 سے 22 تک کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کی تجویز،
آئیگا کا گریڈ 1 سے 22 تک کے ملازمین کے کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الائنس میں 200 فیصد اضافے کا مطالبہ،
کم از کم پنشن لینے والے پنشنرز اور تمام فیملی پنشنرز کی پنشن میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ،
مزدور کی کم از کم اجرت بڑھا کر 50 ہزار روپے کرنے کی تجویز،
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے 'رول 17-A' کے تحت بھرتیاں بحال کرنے کا مطالبہ،
صوبائی ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیا جائے، وفاق کی طرز پر مراعات دی جائیں: آگیگا
7 جون کو ہونے والے گلگت بلتستان کے انتخابات میں وفاقی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی جماعت کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے کے سلسلے میں گلگت بلتستان کا دورہ کررہے ہیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج شگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ فارم 45 کا بندوست آپ کریں فارم 47 ان کی ذمہ داری ہے، بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ گاہ آمد کے مناظر
میاں نواز شریف کل سے گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے نواز شریف کو الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے این او سی جاری کردیا نواز شریف مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلائیں گے۔۔
مجھے @akleghari صاحب یہ بتائیں کہ میرے 2760 روپے بجلی کے بل پر 2363 روپے فکس چارجز کس مد میں لگائے گئے ہیں میرا تو فلیٹ ہے جو سارا دن بند رہتا ہے میں صرف رات کو سونے وہاں جاتا ہوں دیگر ٹیکس بھی اس بل میں شامل ہیں اور اضافی فکس چارجز کیا جگا ٹیکس نہیں ہے؟
@KhawajaMAsif مہربانی فرماکر اس پر بھی آواز اٹھائیں
I have heard that after the budget, permission may once again be granted for the export of surplus sugar. A similar situation occurred in the past: whenever sugar exports were allowed, sugar prices in Pakistan increased by Rs. 50 to Rs. 70 per kilogram.
A government lawmaker once told me that sugar is exported to a neighboring country and then re-imported from the same country. According to him, this practice is carried out to benefit Pakistan’s sugar mafia. The country from which the sugar is reportedly re-imported neither produces sugarcane nor has any sugar mills, raising serious questions about the purpose and transparency of the process.
ٹیکس ہدف حاصل کرنے کیلئے عوام پر کھربوں روپے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کے بعد ایف بی آر کا ٹیکس ہدف پورا نہیں ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت عوام کی جیبوں پر ڈاکے مارنا چھوڑ دے آئی ایم ایف کو لاکھوں کی تنخواہوں پر اعتراض نہیں مگر عوام کو ریلیف دینے پر اعتراض ہے۔ آئندہ بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار روپے ارب سے زیادہ اور پٹرولیم لیوی کا ہدف 17 سو 27 ارب کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اگر حکومت نے اضافی چینی برآمد کرنے کی منظوری دی تو ملک کے عوام ایک مرتبہ پھر مہنگے داموں چینی خریدیں گے، شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار کو چینی برآمد کرنے کے حوالے سے خط میں لکھا کہ ہمارے پاس چینی کے وافر ذخائر ہیں۔
1126 ارب روپے کے آئندہ مالی سال کے وفاقی ترقیاتی پلان کی منظوری کیلئے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی 1100 ارب روپے سے کم کرکے 830 ارب روپے پر لایا گیا اب پھر ایک بڑا ہدف مقرر کیا جارہا ہے۔
بریکنگ:حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کے لئے بجلی سبسڈی ختم نہیں کر رہی، وزیرتوانائی اویس لغاری
پروٹیکٹڈ صارفین کی تعدادچارسال میں95 لاکھ سے بڑھ کر2 کروڑ 15 لاکھ ہوچکی ہے اویس لغاری
اس وقت2 کروڑ95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے اویس لغاری
بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اویس لغاری
زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے اویس لغاری
کیو آر کوڈسسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی وزیر توانائِ
سبسڈی صرف اہل صارفین تک پہنچانے کے لیے رجسٹریشن نظام متعارف کرایا گیا ہے وزیر توانائی
بیس لاکھ سے زائد سنگل فیز والے صارفین رجسٹریشن مکمل کرا چکے ہیں وزیر توانائی
سبسڈی ختم کرنے کی خبریں حقائق کے منافی ہیں وزیر توانائی
بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی دعوے درست ہیں، وزیر توانائی
آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی سے 3.5 کھرب روپے کی بچت ہوئی وزیر توانائی
ڈسکوز کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے وزیر توانائی
سال 2024-25 میں سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے وزیر توانائی
جنکوز کی غیر ضروری مشینری کی فروخت سے 47 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے وزیر توانائی
اصلاحات کے باعث بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی، اویس لغاری
توانائی شعبے کی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اویس لغاری
پاور سیکٹر اصلاحات سے صارفین کو براہِ راست ریلیف ملا، وزیر توانائی
بجٹ میں سبسڈی کا حجم کم کرنے سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا وزیر توانائی
صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ کم کیا گیا، وزارتِ توانائی
مارچ 2024 سے مئی 2026 تک تمام کٹگریز کے صارفین کے لیے بجلی سستی ہوئِ اویس لغاری
پروٹیکٹڈ کٹیگری والے صارفین کے بجلی نرخوں میں 31 فیصد کمی آئی ہے اویس لغاری
گھریلو صارفین کے بجلی نرخوں میں 16 فیصد کمی آئی ہے وزیر توانائی
صنعتی صارفین کے نرخوں میں 33 فیصد کمرشل کے لیے بجلی 8 فیصد سستی ہوئی
زرعی صارفین کو بجلی نرخوں میں 14 فیصد ریلیف ملاہے وزیر توانائی
آزاد کشمیر کے صارفین کے بجلی نرخوں میں 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے
بلک صارفین کے لیے بجلی نرخوں میں 13 فیصد کمی ہوئی ہے وزیر توانائی
قومی سطح پر بجلی کے اوسط نرخوں میں 20 فیصد کمی آئی ہے
بجلی کی پیداوار کے لیےمقامی ذرائع پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے
سال 2035 تک کلین انرجی کا شئِر 90 ہوجائے گا جو اس وقت 55 فیصد ہے
اس عرصے میں مقامی وسائل سے پیداوارموجودہ 74 فیصد سے 96 فیصد ہوجائے گی وزیر توانائی
پاکستان کا قابل تجدید توانائی کا شئیر 57 فیصد تک ہے وزیر توانائی
بھارت کا قابل تجدید توانائی کا شئیر 48 فیصد تک ہے
سولر توانائی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی بلکہ نظام کو مزید شفاف بنایا جا رہا ہے وزیر توانائی
قومی توانائی منصوبے میں 8 گیگاواٹ تقسیم شدہ شمسی توانائی شامل ہے
نیٹ بلنگ پالیسی سے 90 فیصد گھریلو صارفین متاثر نہیں ہوں گے وزیر توانائی
سنگل فیز گھریلو صارفین کے لیے سولر نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں، وزیر توانائی
گلگت بلتستان اور گوادر میں سولرائزیشن منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے
پچیس کلوواٹ اور اس سے کم کے سولر منصوبوں کے لیے لائسنسنگ شرط ختم کر دی گئ وزیر توانائی
نیپرا نے پاور ڈویژن کی درخواست پر چھوٹے سولر منصوبوں کے لیے آسانیاں منظورکی ہیں وزیر توانائی
نیٹ بلنگ نظام کو ڈیجیٹل بنا کر شفافیت میں اضافہ کیا گیا، اویس لغاری
نیٹ میٹرنگ مکمل ختم نہیں کی گئی، صرف بلنگ طریقہ کار میں اصلاحات کی گئی ہیں
سولر صارفین کے مفادات کے تحفظ اور تمام صارفین کے درمیان توازن قائم کیا جا رہا ہے
محفوظ صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم نہیں کی جا رہی
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی اہم پریس کانفرنس، پی ٹی آئی رہنماؤں کی علاقہ بدری کی وجوہات سے آگاہ کیا اور پنجاب پولیس کی گلگت بلتستان انتخابات میں تعیناتی کی وجہ بھی بتادی۔