نہی بابا جی آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ نا تو ہم کبھی دنیا کی امامت کریں گے اور نہ ہی دنیا کے فیصلے ہماری ہاں اور ناں سے ہونگے۔ نہ ہی یہاں کوئ کالے جھنڈے والے اسلام کی نصرت کے لیے نکلیں گے۔
سب جھوٹ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ ( دس محرم ) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ۔
(ترمذی،۲۴۲۵)
جس کو دستار ملی لائقِ دستار نہ تھا
دوسرا بھی تو مگر شہر میں حق دار نہ تھا
کیسا لگتا ہے اسی پیڑ کا پھل کھا کے تمہیں
وہ جو بیمار تھا, بیکار تھا، پھل دار نہ تھا
غور کرنے پہ کھلی اپنی حقیقت مجھ پر
میں جو بیکار نظر آتا تھا بیکار نہ تھا
جو مجھے چاہیے تھا وہ تو یہاں تھا ہی نہیں
جو میسر تھا یہاں وہ مجھے درکار نہ تھا
رات اترا تھا مرے خواب میں کیسا منظر
کوئی دیوار تھی اور سایۂ دیوار نہ تھا
ہار کا اور سبب ہے مری لا علمی نہیں
مت سمجھ میں تری چالوں سے خبر دار نہ تھا
اس سپاہی کی کہانی بھی نرالی ہے کہ جو
شاملِ جنگ تو تھا ، لڑنے کو تیار نہ تھا
حیثیت جس میں مجھے مرکزی لگتی تھی مری
اس کہانی میں مرا کوئی بھی کردار نہ تھا
میں ہوں راشد کا وہی اندھا کباڑی تیمور
جس کے خوابوں کا یہاں کوئی خریدار نہ تھا
تیمور حسن تیمور
14 centuries ago at Ghadir, under divine command, Prophet Muhammad (SAAW) raised Imam Ali’s (AS) hand and declared his authority. Today, as old orders fracture and false leaders seek legitimacy through power, we renew our pledge that Ali (AS) is our Mawla. Eid Ghadir Mubarak!