We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
#WhereIsImranKhan and #WhatAreTheyHiding?
Why can’t he meet his family & personal doctors?
When there is no court ruling about solitary confinement, why is he kept in solitary confinement?
When court allows meetings with family, lawyers & party members, why is he not allowed?
طاقت کے ایوانوں کو جب عوامی احتساب کا پھندہ اپنی گردن پر تنگ ہوتا محسوس ہوتا ہے تو خبر آتی ہے کہ عمران خان کے لیے عدالتی ریلیف کا اعلان۔ کیا نااہل ٹولے کے من پسند جج ان کے جتنے ہی نااہل ہیں کہ عوام کو انہیں یہ بھی یاد دلانا پڑے کہ عدالتوں کا کام ریلیف نہیں بلکہ انصاف دینا ہے۔ کل ان کا بنی گالہ سے آیا ضرورت کا سامان واپس کر دیا گیا، چھ ماہ سے کسی نے انہیں دیکھا نہیں، بنیادی طبی سہولتیں حاصل نہیں۔
ججوں کو شرم آنی چاہیے، ہر ہفتے عدالتی احکام کی پامالی ہوتی ہے تو راتوں کو لگنے والی عدالتوں کے جج ان پر ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟ ان کے وکالت نامے 25 مئی سے جیلُ حکام کے پاس ہیں جن پر دستخط تک نہیں ہو پائے ہیں۔
عسکری ججوں کے لئیے کیا ایک ڈکٹیٹر کا حکم نامہ اللہ کی اس کتاب سے بڑھکر ہو گیا ہے جس پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا!
#ShameOnJudges
#WhereIsImranKhan
میں آج اڈیالہ جیل صرف اس مقصد کے لیے گیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی سے القادر ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ اپیل کے وکالت ناموں پر دستخط کروائے جا سکیں، مگر جیل انتظامیہ نے ایک بار پھر یہ قانونی عمل مکمل نہیں ہونے دیا۔
وکالت نامے 25 مئی سے جیل حکام کے پاس موجود ہیں، اس کے باوجود تاحال دستخط نہیں کروائے گئے۔ میں یکم جون کو بھی اسی مقصد کے لیے جیل گیا تھا مگر اس وقت بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا۔ یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ دانستہ اور مسلسل عمل ہے جس کے ذریعے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدالتوں تک رسائی اور قانونی حقوق کے استعمال میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ سے رجوع کے لیے وکالت ناموں پر دستخط ایک بنیادی قانونی تقاضا ہے۔ اس عمل کو روکنا انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ کے علاوہ آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، قانونی معاونت اور عدالتوں تک رسائی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
خالد یوسف چوہدری
@KhalidYChaudry
عمران خان پر ہم نے ریڈ لائن لگا دی۔ بلوچستان کا مسئلہ ایک ایس ایچ او کی مار ہے۔ ملکی مسائل کا حل یہ ہے کہ ایک ہزار بندے مار دیں۔ ملک پر مسلط ڈاکو ڈفر الائنس کا یہ دماغی فتور آج پورے ملک کے لیے سیکورٹی رسک بن چکا ہے۔ ملک کی آدھی آبادی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے، کاروبار تباہ اور سرمایہ کاری صفر ہے۔ اگر اقتدار عوام کے حوالے نہ کیا گیا اور عدم سیاسی استحکام یوں ہی چلتا رہا تو حالات مزید بدتر ہونے کا خدشہ ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ کے نام پر عاصم منیر اور اس کے حواریوں کی ذاتی عناد اور طاقت منوانے کا یہ نشہ 25 کروڑ عوام کے اس ملک کے لیے وبال جان بن چکا ہے۔
#ذہنی_مریض
#گولی_کیوں_چلائی
#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو
ہمارے کسی جرنیل نے بھارت سے جنگ میں ایسی تقریر نہیں کی ہوگی جیسی تقریریں آئی جی آزاد کشمیر کر رہا ہے۔ یہ وہی ذہنی مریض ہے جس نے کہا تھا کہ ایک ہزار بندے قتل کر دیں تو ملک میں امن آ جائے گا۔ جن لوگوں کی سول سروسز میں جگہ نہیں بنتی، عاصم منیر نے انہیں بڑے بڑے عہدوں پر بٹھایا ہوا ہے۔ آئی جی کے پاس اگر اتنی جرأت ہے تو ظلم کرنے والوں کے خلاف بولے۔ بھئی یہ آزاد کشمیر کے اپنے لوگ ہیں، انہیں کیوں مارا جا رہا ہے؟
عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan
دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ پاکستان کا جھنڈا اٹھایا اور انڈیا کے خلاف احتجاج کیے، مگر آج پاکستان کی فورسز ہمارے ہی لوگوں کو شہید کر رہی ہیں۔
ہم نے ہمیشہ پاکستان کی سربلندی کے لیے کردار ادا کیا، مگر آج وہ لوگ ہم پر مسلط ہیں جو ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں۔ اگر کوئی پاکستان کے خلاف بات کرتا تو ہم کہتے کہ تمہاری زبان کھینچ لیں گے، مگر آج یہ ظالم ہماری زبان پر تالہ لگانا چاہتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے محب وطن شہریوں پر ہونے والے ریاستی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ۹ جون کو برطانیہ کے شہر پیٹرزبرگ میں یہ پروگرام منعقد کیا گیا۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
”7 ماہ سے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جو سراسر انٹرنیشنل قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی قوم عدالتوں کی طرف انصاف کیلئے دیکھ رہے ہیں مگر عدلیہ نظام کی باندی بنی ہوئی ہے۔ جن وکلاء تنظیموں کو عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کیلئے اٹھنا چاہیئے تھا وہ اپنے ذاتی مفادات کی کشمکش میں ہیں۔“ @QasimKhanSuri
تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو GB میں اپنے مینڈیٹ کو بچانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئیے۔
کے پی حکومت اور لیڈرشپ کو کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جیتی ہو نئی نشستیں چپ چاپ بیٹھ کر کھو دینا عوام اور عمران خان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
عوام نے ووٹ دیا۔ اب لیڈرشپ کا کام ہے توانا آواز اٹھائے
کاش اس وقت ہم سب گلگت بلتستان میں ہوتے۔ نیکسٹ لیول جشن چل رہا ہے۔ پی ٹی آئی ۲۱ سیٹس پر لیڈ کر رہی ہے! یہ ۹۰ فیصد سے زیادہ کی جیت ہے۔
کمال کے لوگ ہیں عمران خان والے، طاقتور بندوق والے کرش کرنے میں لگے ہیں چار سال سے اور پی ٹی آئی کی جیت کی مارجن بڑھتی جارہی ہے!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
#PAKWatch 🇵🇰: PTI workers erupted in celebration for what looks like a win in today's elections in Gilgit-Baltistan, Pakistan.
Even with Imran Khan behind bars, his movement still has fire in Pakistan’s north.
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
Elections in the Pakistani-administered territories of Gilgit-Baltistan and Azad Kashmir - Despite unprecedented violence by the military in Ggit Baltistan, jailed Imran Khan's party led the polls before results were shut down. 2024 being repeated with extra violence.
One of the most horrific scenes in human history has been revealed.
A video shows people trying to rescue an injured person and carry him to the hospital; Israel bombed them all and killed them with a missile.
A video the world must never forget.
عمران خان کا یہ موقف ہمیشہ سے واضح اور سچ ثابت ہوا ہے کہ اقتدار کی خاطر قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے والے عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ چاہے کشمیر کا سودا ہو یا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوششیں، آج کے حالات خان صاحب کے ان خدشات کی مکمل تصدیق کر رہے ہیں۔
#عمران_خان#کشمیر
مریم کے گلے میں کچھ انفیکشن ہوا پورا میڈیا نیک خواہشات کا اظہار کرنا شروع ہو گیا۔
لیکن یہی میڈیا عمران خان کی آنکھ والے معاملے پر منہ میں ۔۔۔پتھر رکھ لیتا ہے،آواز تک نہیں نہیں نکلتی انکی۔
منافق۔
Five children were among 10 Palestinians killed in Israel’s strike on a residential building on Omar Al-Mukhtar Street in Gaza:
• Sarah Sameh Rajab, 9
• Sidra Iyad Azzam, 12
• Nour Ahmad Abu Halima, 12
• Yamen Ahmad Abu Halima, 13
• Israa Emad Salim, 17