🟥18ویں آئینی ترمیم پختونوں کی شناخت اور صوبائی خودمختاری کی ضمانت ہے، میاں افتخار حسین
🟥 19 اپریل 2010ء کو 18ویں ترمیم کے تحت NWFP کا نام تبدیل ہو کر خیبر پختونخوا رکھا گیا
🟥 باچا خان کی جدوجہد کو عوامی نیشنل پارٹی نے عملی سیاست میں ڈھالا،
🟥 اسفندیار ولی خان کی قیادت میں 18ویں ترمیم کی تاریخی کامیابی حاصل ہوئی
🟥 صوبائی خودمختاری، آئینی بالادستی اور پختون حقوق کی جد��جہد ایمل ولی خان کی قیادت میں جاری ہے
🟥 18ویں ترمیم کے ذریعے تعلیم، صحت، ثقافت سمیت اہم اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے
🟥 مشترکہ مفادات کونسل فعال، این ایف سی کے ذریعے وسائل کی منصفانہ تقسی�� یقینی بنائی گئی
🟥 صدارتی اختیارات محدود، پارلیمانی نظام مزید مضبوط کیا گیا
🟥 “پختونخوا” مطالبہ تھا، قومی مفاہمت کے تحت “خیبر” کا اضافہ قبول کیا گیا
🟥 18ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری اور جمہوری استحکام کی روشن مثال ہے
🟥 صوبائی خودمختاری کے تحفظ، وسائل پر حقِ ملکیت، امن و امان کے قیام اور پختونوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #جشن_پختونخوا
21 فروری مادری زبانوں کا عالمی دن/ مرکزی صدر اے این پی ایمل ولی خان کا پیغام
🔴زبانیں صرف ثقافتی ورثہ نہیں بلکہ سیاسی شعور، تاریخی تسلسل اور قومی خودمختاری کی اساس ہوتی ہیں
🔴جو قومیں اپنی زبان پر فخر ��ہیں کرتیں، وہ اپنی فکری آزادی بھی برقرار نہیں رکھ سکتیں
🔴21 فروری ہمیں ڈھاکہ یونیورسٹی کے بہادر طلباء کا اپنی مادری زبان کیلئے بیش بہاء قربانی کی یاد دلاتا ہے
🔴یہ دن اس حقیقت کی علامت ہے کہ زبان پر قدغن دراصل سوچ، شناخت اور انسانی وقار پر قدغن ہے
🔴اے این پی سمجھتی ہے کہ لسانی شناخت کو دبانے کی ہر کوشش انسانی تنوع اور جمہوری اقدار کے خلاف اقدام ہے
🔴پاکستان میں بولے جانے والی ہر زبان کو آئینی، تعلیمی اور انتظامی سطح پر مساوی احترام دینا ناگزیر ہے
🔴مادری زبان میں بنیادی تعلیم تحقیق سے ثابت شدہ مؤثر ذریعہ ہے، جو بچوں کی ذہنی نشوونما، تجزیاتی صلاحیت، تخلیقی س��چ اور خوداعتمادی کو مستحکم کرتی ہے
🔴یہ ریاستی ذمہ داری ہے کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں یقینی بنائے اور اعلیٰ سطح پر علاقائی زبانوں میں تحقیق و اشاعت کی حوصلہ افزائی کی جائے
🔴زبانوں کا تحفظ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یہ سیاسی و سماجی انصاف کا تقاضا ہے اور لسانی حقوق دراصل شہری حقوق کا حصہ ہیں
🔴عوامی نیشنل پارٹی لسانی حقوق، ثقافتی بقا اور فکری خودمختاری کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی
🔴ایک ایسے وفاقی پارلیمانی نظام کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے جہاں ہر زبان کو برابری، احترام اور مواقع میسر ہوں
#ANP #AimalWaliKhan
اے این پی پختونخوا کے زیرِ اہتمام، فخرِ افغان باچا خان کی 38ویں اور قائدِ جمہوریت خان عبدالولی خان کی 20ویں برسی کے موقع پر چارسدہ میں عظیم الشان جلسۂ عام کا انعقاد۔ مرکزی صدر ایمل ولی خان،مرکزیGS��اکٹر سلیم خان,حیدر خان ہوتی ،میاں افتخار سمیت مرکزی و صوبائی قیادت کی شرکت۔
A young student of Quaid azam university was brutally killed in Barakakho #Islamabad.
Our hearts are with the family. Justice is not just hoped for, it is demanded. May Allah grant peace to the departed soul.
#Justice4IrfanMarwat
When you take away our drums, we will dance with our feet, when you silence our feet, we will dance in our hearts.
Oppression cannot destroy identity, culture, or resistance.
#SayNoToExtremism
ہم حکومت میں نہیں ہیں، جس کی بھی حکومت بنے اسے مبارک ہو۔ ہم اقتدار کی دوڑ کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی حکومت کا حصہ بنیں گے اور نہ اسے سپورٹ کریں گے۔
#AimalWaliKhan | #ANP | #MediaTalk
اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ طلال چوہدری کو اپنی نوکریاں پکی کرنے کی فکر چھوڑ کر سچ کو تسلیم کرنا چاہیے۔ طلال چوہدری جیسے سیاسی کردار جمہوریت کے دامن پر بدنما داغ ہوتے ہیں۔
ایمل ولی خان نے محض وہی سوال اٹھایا ہے جو ہر باشعور اور باخبر شہری کے ذہن میں ہے: اگر آرمی چیف امریکہ میں معدنیات پر گفتگو کر رہے ہیں، یا انکی معاہدے کررہے ہیں، تو وہ کس آئینی یا حکومتی حیثیت میں ایسا کر رہے ہیں۔۔۔؟ بلکہ یہ سوال تو آئین کی بالادستی اور قانون کے احترام کا ہے۔اور اس قسم کے سوالات ہر سیاسی لیڈر اور کارکنوں کو اٹھانا چاہئے۔
لیکن ایمل ولی خان کے علاؤہ کسی سیاستدان میں ہمت نہیں، کہ وہ فلور آف دی ھاؤس اس قسم کی سوالات اٹھائے،
اصل المیہ یہ ہے کہ جن کی پوری سیاست چاپلوسی، خوشامد اور جھوٹی وفاداریوں پر کھڑی ہے، وہ ایک آئینی سوال کو بھی بغاوت سمجھ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طلال چوہدری جیسے سیاستدان اداروں کے غیر آئینی کردار پر سوال اٹھانے والوں پر حملہ آور ہو کر دراصل اس ذہنیت کے محافظ بن جاتے ہیں جس نے بارہا پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلا ہے۔
ایمل ولی خان کا واحد “جرم” یہ ہے کہ وہ اپنے بزرگوں خان عبدالغفار خان بابا اور خان عبدالولی خان بابا، کی اُس روایت اور بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں جس میں ہمیشہ کہا گیا کہ فوج کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے اور سیاست کو سیاستدانوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔
ایمل ولی خان اُن رہنماؤں ( باچاخان بابا ، ولی خان بابا ) کا وارث ہیں، جن کا نام دنیا کی نصابی کتابوں میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، انہیں کسی سستی شہرت کی ضرورت نہیں۔
اور دلال چوہدری! آپ کس ڈپلومیسی کی بات کرتے ہیں؟ اگر ملک کی خارجہ پالیسی اور ڈپلومیسی بھی فوج نے ہی طے کرنی ہے تو پھر آپ کی سیاست کا مقصد کیا ہے؟ آپ کی حیثیت ایک درباری سے زیادہ نہیں، اور کڑوا سچ یہ ہے کہ آپ اپنی سیاسی لاش خود اپنے کندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں۔
طلال چوہدری آپ کا مقام یہ نہیں کہ دوسروں کا مائیک پکڑ کر ترجمان بنیں۔ اگر جرات ہے تو اپنی سیاسی آواز بلند کریں۔ یاد رکھیں—عوام آپ جیسے درباریوں سے سوال نہیں کرتیں، بلکہ آپ پر شرمندہ ہوتی ہیں: شرمندہ کہ جو شخص خود کو “سیاسی رہنما” کہتا ہے، وہ دراصل “سیاسی غلامی” پر فخر کرتا ہے۔ آپ جیسے سیاسی غلام اس ملک کے جمہور اور جمہوریت کیلے کینسر ہے۔
It was a beautiful match and I think the better team won the match. It was Harris Rauf who cost us the match, what about someone tell him he should have focused on his game rather than on the aeroplane, a disgrace to the country.
Jai Hindh
Pakistan hamesha zindabad.
عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے طلال چوہدری کے بیان کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمل ولی خان کی سینیٹ تقریر نہ ذاتی تھی اور نہ ہی محض جماعتی، بلکہ یہ پاکستان کے عوام، چھوٹے صوبوں اور محروم طبقات کے آئینی حقوق کے لیے ایک جرات مندانہ اور پرخلوص آواز تھی۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت نے اس تقریر کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے الزام تراشی اور غداری کے فتوے لگائے۔ یہ رویہ کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ آمرانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی رہنما عوامی حقوق کی بات کرتا ہے تو اس پر ملک دشمنی کے الزامات لگا کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایمل ولی خان نے سینیٹ میں جو سوالات اٹھائے وہ ہر باشعور شخص کے دل کی آواز ہیں: چھوٹے صوبوں کو ان کا آئینی اور مالی حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ این ایف سی ایوارڈ کب ہوگا؟ خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع سے کیوں محروم رکھا گیا؟ غیر آئینی ادارہ SIFC کو کس اختیار سے پارلیمان پر مسلط کیا گیا؟ چیف آف آرمی اسٹاف کس آئینی حیثیت میں بیرونی دورے اور معاہدے کر رہے ہیں؟ کیا واقعی ملک کے معدنی وسائل سوٹ کیسوں میں بھر کر باہر لے جائے جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ سوالات نہ غداری ہیں اور نہ ملک دشمنی، بلکہ اصل حب الوطنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ہم آئین اور جمہوریت کے دفاع کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ہمارا کام آئین کی بالادستی اور ملک کی بقا کی جنگ ہے۔ ہم اپنے صوبے کے حقوق مانگتے ہیں اور یہ سب کچھ آئین کے مطابق ہے۔ فوج کا آئینی کردار صرف اور صرف ملک کا دفاع ہے، نہ کہ بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دستخط کرنا۔ اگر عسکری قیادت دفاع کے دائرے سے نکل کر کاروبار، معدنی وسائل کی بندربانٹ اور بیرونی معاہدوں میں مداخلت کرے گی تو یہ آئین شکنی اور جمہوریت کا قتل ہوگا۔ یہ عمل دراصل فیلڈ مارشل ا��م کی واپسی ہے، جسے عوامی نیشنل پارٹی ہر قیمت پر مسترد کرتی ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ طلال چوہدری جیسے لوگ ہمیں غدار کہنے سے پہلے اپنی حیثیت دیکھیں۔ یہی لوگ کل تک "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ لگاتے تھے اور آج "بوٹ کو عزت دو" کے ترانے گا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست خفیہ اشاروں اور درباری رویوں پر کھڑی ہے۔ ایسے افراد کو ایمل ولی خان جیسے نظریاتی اور عوامی رہنما پر انگلی اٹھانے سے پہلے سیاست، آئین اور غیرت کا مطلب سمجھنا چاہیے۔ عوام بخوبی جانتی ہے کہ سیٹیں ووٹ سے نہیں بلکہ اشاروں پر جتوائی جاتی ہیں، اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ یہ اشارے کہاں سے آتے ہیں۔
میاں افت��ار حسین نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی دھمکی، الزام یا پروپیگنڈے سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ہم نے ہمیشہ آئین، جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور عوامی حقوق کی بات کی ہے اور کرتے رہیں گے۔ ہم پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اصل، آئینی اور اجتماعی مفاد کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں غدار کہا جاتا ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ ایسے القابات ہمیشہ سچ بولنے والوں کے لیے استعمال کیے گئے۔
#ANP | #ANPKhyberPakhtunkhwa | #AimalWaliKhanOurPride
اے این پی سوات کے زیر اہتمام امن امان اورمائنز اینڈ منلرز بل کے خلاف کامیاب APC کا اہتمام جس میں PTIکےعلاوہ تمام سیاسی پارٹیوں،وکلاء،استاتذہ،ٹریڈ فیڈریشن اور تمام یونین کے سربراہان کی شرکت
مائنز اینڈ منلرز کر یکسر مسترد اور بھر پور احتجاج کرنے کا عزم
سانحہ کرم سمیت پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی صوبہ بھر میں 25 نومبر 2024 (بروز پیر) کو یوم سیاہ منائے گی۔ تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے ہوں اور شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کی جائے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاج میں خصوصی شرکت کریں گے۔
#ANP | #ANP4Peace | #ANPStandsWithKurram