مبارک ہو مبارک ہو نیا سنگ میل عبور ہو گیا🙂
پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک تاریخ ساز قانون سازی کی ہے جس کے بعد آپ کا خون پسینے کی کمائی سے پائی پائی جوڑ کر بنایا گیا گھر اب آپ کی نہیں بلکہ جیز ، ٹیلی نار، یوفون، زونگ، نیا ٹیل ، پی ٹی سی ایل جیسی ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں کی ملکیت ہو گا۔۔ ان کمپنیوں کو شہباز سرکار نے قانونی اختیار دے دیا کہ وہ کمپنیاں جب چاہیں صرف اور صرف دو نوٹس بھیج کر کسی بھی گھر میں ٹاور،یا کیبل لگا سکتی ہیں۔ اگر مالک مکان ن��ٹس کا جواب نہیں دے گا تو اسے اسکی رضامندی سمجھا جائے گا اور رکاوٹ ڈالے گا تو اسے پانچ کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔۔۔ اب کوئی بھی مالک مکان ۔۔کرایہ دار، لیز ہولڈر یا ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو انفراسٹرکچر لگانے سے نہیں روک سکتا🙂
سی سی ڈی نے ایک خاندان کے 3 بیٹے اور 2 داماد سیلف ڈیفنس میں پار لگائے۔۔مقتولین کے والدین در در زلیل ہوئے کہیں شنوائی نہ ہوئی ۔۔۔ ک��ونکہ ان کے پاس صرف کسی اور ملک کی نےشنیلٹی نہیں تھی
لگ بھگ 9000 پاکستانیوں کے بینک اکاوئنٹس میں 7 کھرب 50 ارب روپے نکلے ہیں اور ان میں سے کس نے بھی ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیا ، یعنی سب نان فائلر ہیں - ایوریج نکالی جائے تو 8 کروڑ 33 لاکھ روپے فی اکاوئنٹ بنتی ہے ۔ سب کے اکاوئنٹس میں اتنے نہیں ہوں گے کہیں زیادہ اور کہیں اس سے کم ہوں گے.
یہ اکنامک ٹیم اور یہ حکومت ایک مذاق ہے ! رانا عاطف
آئی ایم ایف تو ان کی تعریفیں کر رہا ہے ! افتخار شیرازی
آئی ایم ایف اس لیے ان کی تعریفیں کرتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ پروگرام انہوں نے لیے ہیں یہ ریگولر کسٹمر ہیں تو آئی ایم ایف نے اپنے ریگولر کسٹمر کی تعریف ہی کرنی ہے! رانا عاطف🤣
چند صحافیوں سے بات کرنے کے بعد یہ پتہ لگا ہے کہ بہن سحرش کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور ان پر کافی پریشر ڈالا گیا ہے - نظام خود پر تنقید بھی برداشت نہیں کر سکتا اور شاہی سٹیٹ کی طرح کام کر رہا ہے - تنقید پر نوکری سے فارغ
پیٹرول مہنگا ہوا تو پچھلے دس ماہ میں 50 ہزار الیکٹرک گاڑیاں امپورٹ ہوئیں اب ان کو پریشانی شروع ہو گئی ہے کہ ہمیں ٹیکس کم ملے گا اب یہ الیکٹرک گاڑیوں پہ ٹیکس لگائیں گے یہ ��یکس پنش سسٹم ہے ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے سہولتیں پیدا کرتی ہے یہ مشکلات پیدا کرتے ہیں ! ثناءاللہ خان
یہ صرف جاہل نہیں بلکہ جاہلیت کے اعلی رتبے پر ہیں - یعنی 8,483 روپے ماہانہ اور روزانہ 282 روپے کمانے والا غریب نہیں ہے؟ اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیئے اور غربت ختم کرنے کا دعوی کرنے کے لیئے ایک بیہودہ ترین فارمولہ لگا ��یا ہے- انہتائی افسوسناک اور شرمناک
عمران خان کی ملک کو ڈیفالٹ کرنے والے حکومت کو جس سال گرایا گیا تھا اس سال پاکستان کی برآمدات زیادہ تھیں یا آج چار سال کے بعد معاشی تجربہ حکومت کے دور میں ؟
سرکاری اعداد و شمار خود کہانی بتا رہے !
رانا عاطف کی بات پہ پروگرام میں قہقہے ۔۔
ان کا ایک وزیر نو پلاننگ ہے میں جب او لیول میں تھا تو اس نے ویژن 2020 دیا تھا جب 2020 آیا تو اس نے ویژن 2035 دے دیا 2035 آئے گا تو وہ ویژن 2047 دے دے گا !
پیٹرول 150 سے 400 تک پہنچا، گورننس کے حالات دیکھیں کہ وزیرتعلیم پنجاب کہہ رہے ہیں کہ 15 ہزار تنخواہ کرا دی، عوام کو تو یہ سب پہلے نظر آ رہا ہے کہ یہ پارٹی اس طرح نہیں چلے گی، اطہر کاظمی
1947 سے لے کر 2022 تک 75 سالوں میں پاکستان کا ٹوٹل ٹیکس کلیکشن 55 ہزار ارب تھا جس میں جنگیں بھی ہوئیں ڈیم بھی بنے جبکہ پچھلے چار سال میں تجربہ کاروں نے 60 ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا 75 سالوں کا ٹیکس ایک طرف اور چار سال کا ٹیکس ایک طرف تو معیشت تو بیٹھنی ہی تھی ! رانا عاطف ۔۔
اب یہ لاجک میری سمجھ سے باہر ہے کہ جب الیکشن فیئر نہیں تھا ، جب طاقتور حلقے انوالو تھے اور بقول منیب فاروق یہ پتھر پر لکیر ہے کہ PTI کو کچھ نہیں دینا تو الیکشن "جیتا" کیسے جا سکتا ہے؟ اسے الیکشن جیتنا نہیں بلکہ الیکشن چُرانا کہا جاتا ہے۔
عجیب حکومت ہے ۔ جن کیساتھ مذاکرات کرتی ہےاور پھر ایک تحریری معاہدہ بھی کرتی ہے کچھ عرصے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دیدیتی ہے ۔ اُن پر پابندی لگا دیتی ہے، حامد میر
آصفہ بغیر تجربے کے بلامقابلہ ایم این اے بن گئیں، مریم بغیر تجربے کے وزیراعلیٰ بن گئیں، بڑے سیاسی خاندانوں کی خواتین بغیر کسی تجربے کے اراکین اسمبلی بن گئیں مگر عام پاکستانی کی بیٹی ماسٹرز کرکے بھی 15 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرے۔
جب میں نے تاجروں کو رجسٹر کرنے کی کوشش کی تو ISI نے مجھے بلا لیا اور کہا پیچھے ہٹ جاؤ- جب حساس ادارے تاجر اور ایف بی آر چیئرمین کے درمیان معاملات طے کر رہے ہوں تو سوچ لیں!شبر زیدی۔
جب آٹا مانگو انصاف مانگو بجلی مانگو تو ہم فوراً انڈیا کے ایجنٹ ہو جاتے ہیں ہماری جیب میں روٹی کھانے کے پیسے نہیں لیکن ہم انڈیا کے ایجنٹ ہیں ہمیں انڈیا پیسے دیتا ہے ! سردار امان کشمیری ۔۔۔
یعنی اب آزاد کشمیر میں "جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی" بھی غدار ہے؟
اگر یہ غدار تھے تو پچھلے سال حکومت نے انکے ساتھ معائدہ کیوں کیا اور جب معائدہ پورا نہیں کر سکے تو وہ غدار ہو گئے ہیں؟ کب تک اس ملک میں "غداری" والی گیم چلا کر عوام کو بیوقوب بنایا جائے گا؟
تُسی محب وطن ، باقی سب غدار
جیسے مرنے والے کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی مال و دولت کون لے گیا، ویسے ہی مردہ قوموں کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کے وسائل اور سرمایہ کون لوٹ رہا ہے۔ مظہر برلاس
#pakistan@mazhar_barlas
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں