سعودی عرب نے ہم سے بار بار پوچھا کہ سرمایا کاری چاہئیے یا امداد؟
ہم نے کہا ہم فقیر ہیں مانگنے کی عادت ہے،ہمیں سرمایا کاری نہیں چاہئیے ہمیں امداد چاہیئے سرمایا کاری سے عوام خوشحال ہونگے اور امداد سے اشرافیہ عیاشیاں کرے گی
شاہ زیب خانزادہ صاحب کو بھارتی لوگوں کے حالات بتانے اور دکھانے کا وقت مل گیا لیکن پاکستان کے لوگوں پر لوڈشیڈنگ کا جو عذاب مسلط کیا گیا ہے،اس پر اپنے پروگرام میں ایک لفظ نہیں بولے
غربت تاریخ کی بد ترین سطح پر مہنگائی کا سونامی ! پیٹرول سو فیصد مہنگا بجلی بارہ گھنٹے غائیب قانون ملک میں ختم ہو چکا ہزاروں ارب ملک منی لانڈر ہو گئے ، عمران خان نا حق قید ، عوام میں حکومت کے خلاف شدید غصہ موجود ہے اور ایسی حکومت کو تحریک انصاف احتجاج نا کر کے کندھا دے رہی ہے
فی الحال مذاکرات نتیجہ یہی نکلا ہے کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے آنے والے پاکستان کے تیل کے ٹینک بھی تباہ کرنے کا اعلان کردیا ہے ٹرمپ نے واضع کیا ہے کہ یا سب جہاز گزریں گے یا ایک بھی نہیں
جب ثالث کی اوقات یہ ہو کہ مزاکرات کی ٹیبل پر بیٹھے ایک فریق کو I Want To Salute you کہتا ہو اور دوسرے کے حملوں کی اقوام متحدہ میں مزمت کرتا ہو جو دنیا میں beggars can’t be Choosers کے نام سے جانا جاتا ہو ،وہ اپنی ٹیبل رینٹ پر تو دے سکتا ہے ٹیبل پر رائے نہیں دے سکتا ! رینٹ پر دی گئی ٹیبل اور ثالثی کی میز میں فرق ہوتا ہے ثالث آپشن دیتا ہے ، مستقبل کا خدشہ بتاتا ہے ، دباو ڈالتا ہے ، کیا اردلیوں کی یہ پوزیشن تھی ؟ 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد وینس خالی ہاتھ واپس چلا گیا اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ موجودہ حکومت اب بھی اسے “تاریخی سفارتی کوشش” قرار دے کر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے، مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔یہ پیشرفت شروع سے ہی بدلتے علاقائی اور عالمی حالات کا نتیجہ تھی، نہ کہ موجودہ رجیم کی کوئی غیر معمولی حکمت عملی۔جب دونوں بڑی طاقتیں بات چیت پر آمادہ ہوئیں تو پاکستان کو صرف میزبان بننے کا موقع ملا۔ لیکن اصل امتحان یہ تھا کہ موجودہ رجیم صرف میزبان نہیں ثالث بنتی اور یہ تاریخی مزاکرات کامیاب کرواتی ناکامی کی وجہ صرف فریقین کا اختلاف نہیں، بلکہ پاکستان کی طرف سے مؤثر ثالثی کی مکمل عدم موجودگی بھی ہے۔ غیر خودمختار خارجہ پالیسی، ایک طرفہ انحصار، عالمی سطح پر پاکستان کی گرتی ساکھ، اور قیادت پر اعتماد کی شدید کمی نے اسے صرف “رینٹل میزبان” بنا دیا۔ ایسے حساس اور اسٹریٹجک معاملات میں قیادت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ ایک ایسی قیادت جوعوامی مینڈیٹ رکھتی ہو خودمختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو عالمی سطح پر واضح، اصول پسندانہ اور مستقل مؤقف رکھتی ہو اور دونوں فریقین اس پر اعتماد کر سکیں
وہی حقیقی ثالث بن سکتی ہے اور پاکستان کے قومی مفادات کو محفوظ رکھ سکتی ہے عمران خان جیسی قیادت اس موقع پر پاکستان کے لیے بہترین متبادل تھی۔ جو وائیٹ ہاوس میں ٹرمپ کے سامنے پریس کو بتا رہا تھا کہ افغانستان کے مسلے کا حل کیوں ضروری ہے اور کیسے ہو گا اُس کی بات پر ٹرمپ بھی مسلسل اثبات میں سر ہلا رہا تھا ! ان کا “Pakistan First” کا واضح مؤقف، اقوام متحدہ میں کلیر سٹانس ! عالمی سطح پر مستقل ساکھ، اور دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کی پالیسی انہیں ایک قابلِ اعتماد ثالث بنا سکتی تھی۔ ان کی موجودگی میں پاکستان محض فوٹو سیشن، خوشامدی سلیوٹ اور پریس ریلیز کا موضوع نہ بنتا، بلکہ علاقائی سفارتکاری میں ایک باوقار اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا تھا۔
بدقسمتی سے، موجودہ رجیم نے اس موقع کو صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ، فوٹو شوٹ اور کریڈٹ لینے کے لیے استعمال کیا۔ نتیجہ سامنے ہے مذاکرات ناکام، اور پاکستان کی سفارتی ساکھ مزید کمزور۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم حقیقت دیکھیںحقیقی سفارتی کامیابی قیادت سے ملتی ہے — نہ کہ محض حالات کے رخ بدلنے سے، خوشامدی سلیوٹوں سے، یا “beggars can’t be choosers” والی ذہنیت سے۔
ہم امریکہ کے وعدے توڑنے کے تجربے اور اس کی بری نیتوں کو نہیں بھولیں گے، اور ہم صہیونی ریاست کے ساتھ اس کے جرائم کو معاف نہیں کریں گے۔ایرانی وزارتِ خارج
سچ یہ ہے کہ یہ اپنی مرضی کا سچ بھی نہیں بول سکتے ! ملازم نے ٹویٹ کی جو حقیقت پر مبنی تھی اُسے صرف اس خوف سے ڈیلیٹ کر دیا کہ آقا ناراض ہو جائے گا ! لعنت ہے ہر اُس حرام کا غلہ کھانے والے پر جو ہمیں بتاتا ہے کہ ان بزدلوں کی رجیم پاکستان کو عزت دلا رہی ہے ، تُف ہے بزدلوں پر
خواجہ آصف خوش قسمت ہے کہ ٹیوٹیٹ صرف ڈیلیٹ کرنے پر مان گیے ورنہ ٹویٹ پر اب تک کتنے لوگ مسنگ ہیں، کتنے گھر ٹوٹے، کتنے لوگوں کے گھر والوں تک کو اغوا کر لیا گیا ہے۔