آپ سمجھ ہی نہیں رہی ہیں! ایمان اور ہادی کو چائیے تھا کہ کوئی چھوٹا جرم کرتے! کسی پولیس والے کو مار دیتے، ایسی چیزیں تو پاکستانی اشرافیہ کرتی ہی رہتی ہے! مگر انھوں نے تو حد ہی کر دی! ہماری عظیم اور عقلمند ترین فوج کے خلاف ٹویٹ کر دیا - اتنے بڑے جرم کی معافی بھلا کیسے ہو سکتی ہے!
قیدیوں کی شفا ہسپتال میں علاج کی درخواستیں صرف ایک ڈرامہ ہے.... جب نواز شریف بیرون ملک علاج کیلئے گیا تو کتنے قیدیوں نے بیرون ملک علاج کیلئے درخواستیں دی تھیں؟؟؟؟
اس وقت قیدی جس فیصلے کا سہارا لے کر پرائیویٹ ہسپتال منتقلی کی اپیلیں کر ریے اس پر عملدرآمد نہیں ہوا. اگر اپیل کرنی یے تو لندن سے علاج کروانے کی کریں کیونکہ ایک سزا یافتہ مجرم عدالتی حکم کے بعد علاج کروانے لندن گیا تھا اور چار سال بعد واپس آیا. اس فیصلے پر عملدرآمد بھی ہوا تھا
🚨اہم انکشاف
ہم سے ہمارے فون مانگے جا رہے ہیں تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں اور ساتھ ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ" ہم تمھارے ساتھ اور تمھارے گھر والوں کے ساتھ یہ اور وہ کر دیں گے "
طالبہ
عمران خان کو
سیاسی طور پر شکست دینے
کے بجائے اسے توڑنے کی کوشش
کی جا رہی ہے۔
مگر یہ بات شاید اس کے مخالفین
سمجھنے سے قاصر ہیں کہ
ایک حقیقی اسپورٹس مین شکست
سے نہیں ٹوٹتا،
بلکہ ہر ضرب کے بعد مزید مضبوط
ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔
خان کو قید کیا جا سکتا ہے،
تنہا کیا جا سکتا ہے،
اس کی آواز دبانے کی کوشش کی
جا سکتی ہے،
مگر اس کے عزم کو شکست دینا
آسان نہیں۔
تاریخ میں کردار دباؤ سے نہیں،
آزمائش سے پہچانے
جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اللّہ کریم خان کو ثابت قدم رکھّے
آمین یا ربّ العالمین 🤲
ایسی کہانیاں ہم کتابوں میں پڑھا کرتے تھے، مگر ہمیں فخر ہے کہ عمران خان جیسا لیڈر ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ رہے ہیں جس نے بہادری کی ایسی مثالیں قائم کر دی ہیں، جن کے حوالے مستقبل میں تاریخ دیا کرے گی-
#جعلی_حکومت_کی_توہین_عدالت
فوجی وردی پہن کر آ کر یونیورسٹی میں گولیاں چلانا اور گندی گالیاں بکنا، اس کا حق ان کو کس نے دیا؟
اب اس شخص کا احتساب ہونا چاہئے۔ ایسے لوگ اداروں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور خود کو ماوراۓ قانون سمجھتے ہیں۔
اس شخص نے کیا سمجھ کر یہ بدمعاشی کی؟ سوال تو ہو گا۔
اردو ترجمہ
وزیرِ اعظم @andyburnham اور وزیرِ خارجہ @Ed_Miliband، برطانیہ مزید کتنی دیر خاموش رہے گا؟
تین سال سے میرے دو بیٹوں کے والد اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے، فوج کے سربراہ عاصم منیر کی ذاتی دشمنی کے تحت، بے رحمی سے سزا دی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ سلوک تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور اب ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر ممکنہ طور پر جان لیوا اثرات مرتب کر رہا ہے۔
وہ تین سال سے قیدِ تنہائی برداشت کر رہے ہیں۔ تقریباً دس ماہ سے ان کے خاندان کو ان سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں بنیادی انسانی رابطے سے محروم رکھا گیا ہے اور کتابوں، وکلا اور ڈاکٹروں تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول بالکل واضح ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے تحت 15 مسلسل دنوں سے زیادہ قیدِ تنہائی ممنوع ہے اور اسے تشدد کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔
عمران خان نے یہ سلوک 15 دن نہیں بلکہ تین سال تک برداشت کیا ہے۔
اب پاکستان کی اپنی سپریم کورٹ نے بھی مداخلت کرتے ہوئے جامع طبی علاج، ان کے ذاتی ڈاکٹر تک رسائی، خاندان سے باقاعدہ ملاقاتوں اور اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ فون پر بات کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس کے باوجود ان احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ اب محض پاکستان کا سیاسی مسئلہ نہیں رہا۔ یہ انسانی حقوق کا ہنگامی بحران ہے۔
عمران خان کے برطانیہ کے ساتھ گہرے اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی اور کئی سال انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلی۔ اس ملک کے ساتھ ان کا تعلق نصف صدی سے بھی زیادہ پر محیط ہے۔ ان کی فلاحی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا، جن میں پاکستان کا واحد مفت کینسر اسپتال اور ایک یونیورسٹی قائم کرنا بھی شامل ہے۔
ان کے دونوں بیٹے، میرے دو بچے سلیمان اور قاسم، برطانوی شہری ہیں۔ انہیں ہزاروں میل دور بیٹھ کر اپنے والد کی صحت کو بگڑتے ہوئے دیکھنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے والد سے ملنے سے روکا گیا، ویزے دینے سے انکار کیا گیا، حکومتی عہدیداروں کی جانب سے عوامی طور پر انہیں بھی گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، اور عدالت کے حکم کے باوجود ان سے باقاعدہ فون پر بات کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔
میں نے بارہا برطانوی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ پسِ پردہ سفارتی رابطوں کی مبینہ کوششیں واضح طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ سابق وزیرِ خارجہ @DavidLammy نے مجھے تحریری طور پر بتایا کہ اگر میرے بیٹے، جو برطانوی شہری ہیں، اپنے والد سے ملنے کے لیے پاکستان جاتے ہیں اور انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے تو برطانیہ مداخلت نہیں کرے گا۔
@FCDOGovUK: برطانیہ کو اب کھل کر اور دوٹوک انداز میں آواز اٹھانی چاہیے۔ پاکستان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اپنی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرے، عمران خان کو طبی سہولیات تک رسائی بحال کرے، انہیں اپنے خاندان سے ملنے کا حق دے، طویل قیدِ تنہائی ختم کرے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرے۔
پاکستان دولتِ مشترکہ کا رکن ملک ہے۔ برطانیہ کی ایک طویل اور قابلِ فخر روایت رہی ہے کہ وہ من مانے حراستی اقدامات، غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق سے محرومی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو صرف اپنی سہولت کے مطابق استعمال کریں اور مشکل وقت میں انہیں نظرانداز کر دیں تو ان اصولوں کی اہمیت ہی کیا رہ جاتی ہے؟
یہ نئی برنہم حکومت سے اپیل ہے کہ براہِ کرم اب درست اقدام کریں۔.
اس فوجی افسر نے کونسا کام جرنل باجوہ یا عاصم منیر سے مختلف کیا ہے۔ جو ہوا وہ پچھلے ۴ سال کی چھوٹی سی جھلکی تھی۔ عوام نے بڑے افسر کو اپنی کیفیت بتائی اور بڑے افسر نے پریشر میں بندوق نکال لی، پھر اسی بندوق کے زور پہ الیکشن چوری کیا، ماؤں بہنوں کی حرمت پامال کی رشوتیں لیں،قتل پہ قتل کیا، اُس وقت تو کاروائی نہیں ہوئی، ابھی خوف کے مارے “تادیبی کاروائی“ کے میسجز چل رہے ہیں۔ کچھ نہیں ہونے والا ، اب پھپھوندی لگ چکی۔ ایک افسر کو سزا دینے نہ دینے سے کچھ نہیں ہو گا۔
(نوٹ: ویسےایک افسر کی شہوت کے نظر انہوں نے پورا بلوچستان کر دیا تھا اور کئی افسران کی خاطر بنگال گنوا دیا تھا۔)
پاکستان بچانا ہے تو آئین بچانا پڑے گا اور اس موضوع پر گفتگو کو قومی بیانیے کا حصہ بنانا ہوگا۔ بیرسٹر شہریار ریاض خان اور بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی کے اس چینل کو سبسکرائب کریں اور اس منفرد گفتگو کا حصہ بنیں۔ ہمیں اس طرح کے مزید چینلز کی ضرورت ہے
https://t.co/LdFynVIrSP
موجودہ نظام کی کامیابی، Jointness,اور شہریوں سے گل آہنگیوں کا ایک اور حملی مظاہرہ‼️ طاقت اور لاقانونیت اور تاعمر استعثنی کے نشے میں چور وردی ریاست کی عصمت کو پیروں تلے روندتے ہوے
جس ششٹم کی ناکامی کی نشاندہی نقوی نے اور کل کے ایک کالم میں ویثنری فوج کا ذکر تھا یہ اسکا عملی ثبوت‼️
ان طلبا کو سرخ سلام جو اس ذہنی مریض کے خلاف کھڑے ہوۓ مزاحمت دیکھائ اور فوجی سے ڈنڈا چھینا ۔۔
واحد اور آخری حل ان سے ڈنڈا چھیننا ہی ہے ۔۔
#مزاحمت_ہی_واحد_راستہ_ہے
عوام میں فوج کے لئے نفرت کا لاوا ابل رہا ہے، اور اوپر سے وردی میں تم تنہا جاکر مولا جٹ بننے والے دن گزر گئے، اب لوگ غصے میں بھرے بیٹھے ہیں، بریگیڈیئر صاحب کو محتاط رہنا چاہیے تھا