عصمت شاہجہاں کے قلم سے
کئی ہفتے گزر گئے ہیں، مگر ایک درد ہے جو گولے کی طرح سینے میں اٹکا ہوا ہے۔ جب میں ہمارے عزیز ساتھی علی وزیر کی والدہ اور بیوی بچوں سے ملنے ڈی آئی خان گئی تھی، تو اسی دوران علی وزیر کے بیٹے کی دلہن کی رخصتی کی تقریب میں بھی شریک ہوئی۔ وہاں علی وزیر کی والدہ نے مجھے اپنے خاندان کی خواتین اور بچوں سے ملوایا۔ جس کا بھی تعارف کراتیں، اکثر یہی کہتیں: یہ فلاں شہید کی بیوہ ہے، یہ فلاں شہید کی بیٹیاں ہیں، یہ فلاں شہید کی بیوہ ہے، یہ فلاں شہید کے بچے ہیں۔ قطار اندر قطار بیوائیں، قطار اندر قطار یتیم بچے۔ علی خان کے خاندان سے ملاقات میں یوں لگا کہ شادی نہیں، سادہ لباسوں میں ملبوس بیواؤں کا اکٹھ ہے، جہاں پوری سرزمین اپنے شہیدوں کی نشانیاں سینے سے لگائے بیٹھی ہو۔
عارف وزیر کی بیوہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ زخم کے اندر سے استقامت اور استدال سے بول رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے حالات بہت سخت ہیں، مگر ہم یہ جنگ لڑیں گے۔ بچے تیار ہو رہے ہیں۔ یہ جنگ کتنے ہی نسلوں تک پشتون جوانوں، بزرگوں اور بچوں کو کھائے گی، مگر ریاست کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شہیدوں کے گھروں میں صرف ماتم نہیں پلتا، وہاں مزاحمت بھی جوان ہوتی ہے۔
پشتون ٹھیک ہی نعرہ لگاتے ہیں: زخمی وزیر، علی وزیر!
The Punjab police/CCD, accused of killing a nine-year-old girl in Chakwal, will investigate its own personnel.
No independent inquiry announced so far.
Earlier this year, the HRCP called for a judicial inquiry into more than 900 deaths in CCD-led encounters.
Not much became of that.
مریم نواز سینکڑوں چیزیں اچھی کر رہی ہوں گی مگر ایک چیز جو بہت غلط ہو رہی ہے وہ سی سی ڈی کو بے تحاشا اختیار دینا ہے۔ انہیں نہ جانے یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ یہ ایک غیرعوامی، غیر آئینی کام ہے۔ یہ ادارہ کسی بھی سیاسی رہنما کے لیے گلے کا پھندا ہے۔
کل کلاں چھٹہ صاحب اور محسن نقوی نے امریکے چلے جانا ہے۔ لوگوں میں واپس ووٹ کے لیے مریم نواز نے جانا ہو گا۔ تب انہیں سمجھ آئے گی کہ یہ ادارہ ظلم کی ایک داستان تھا۔ اس کے کام مریم نواز کی سیاست پہ سیاہ دھبہ ہیں جو کسی بھی طرح دھل نہیں سکیں گے۔ مریم نواز سی سی ڈی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گی۔
پریس ریلیز
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ
لاہور، 14 جون 2026ء
10 جون کو مسلح ڈکیتی کی واردات کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ شفافیت، محکمانہ احتساب، اور قانون کی بالادستی پر سختی سے کاربند رہنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
10 جون کی رات، تقریباً پونے بارہ (11:45) بجے، سی سی ڈی کے اہلکاروں نے مسلح ڈکیتی کی ایک جاری واردات کے دوران مداخلت کی۔ مسلح ڈاکوؤں نے ایک فیملی کی گاڑی کو روک کر کار سواروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس دوران ہونے والے آمنے سامنے کے مقابلے میں، مشتبہ افراد کی جانب سے کارروائی کرنے والے پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس افراتفری میں، متعلقہ پولیس افسر نے غلط اندازہ لگایا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی بندوق سے فائر کر دیا۔ اس غلط فیصلے کے نتیجے میں 10 سالہ بچی ہانیہ کی المناک موت واقع ہو گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ افسوسناک واقعہ میں ملوث افسر کا یہ طرزِ عمل ہمارے طے شدہ مروجہ طریقہ کار (SOPs) اور طاقت کے استعمال کے قانونی اصولوں سے یکسر انحراف ہے۔ چنانچہ محکمے کی طرف سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
متعلقہ افسر کو اسی دن ملازمت سے معطل کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں اسے باضابطہ طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
متاثرہ بچی کے والد کی درخواست پر فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی۔ فرانزک شواہد، بشمول افسر کا اسلحہ اور استعمال شدہ گولیوں کے خول محفوظ تحویل میں لےکر کارروائی کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ محکمہ متاثرہ خاندان کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے تاکہ انہیں جاری تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جا سکے۔ متاثرہ خاندان نے جاری قانونی عمل کی رفتار اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سی سی ڈی ایک سخت ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے جو تحمل اور طاقت کے متناسب استعمال کا پابند بناتا ہے۔ ہمارا اولین فرض انسانی جان کا تحفظ ہے، جبکہ "کم سے کم طاقت" کے اصول پر عمل کرنے میں کسی بھی قسم کی ناکامی کے خلاف اعلیٰ ترین سطح پر قانونی اور محکمانہ احتساب کیا جاتا ہے۔
ہمیں اس المیہ پر گہرا دکھ ہے۔ اگرچہ ہمارے اہلکار انتہائی پُرخطر صورتحال میں کام کرتے ہیں لیکن ہمارے طے شدہ پروٹوکولز سے انحراف کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ سی سی ڈی عوام کے تحفظ کے اپنے فرض پر قائم ہے اور اپنے اہلکاروں کو پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے اعلیٰ ترین معیار کا پابند بناتا رہے گا۔
سی سی ڈی متاثرہ خاندان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور اس کیس کے تیز رفتار قانونی انجام تک پہنچنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
If Pakistan were a 7-hour flight from DC, this deal gets signed in Islamabad. At 16 hours, even Vance might have asked why don't we meet in the middle?
Geography remains Pakistan's quiet curse. Qasam se!
The Islamabad Memorandum of Understanding has never been closer. Pending its finalization, the media should refrain from entering speculation about its content.
In line with our responsible and transparent approach, all details will be shared with the public in due course.
One of our greatest ever, signing off.
Kane Williamson has announced his retirement from international cricket effective immediately.
Head to https://t.co/Pm8RiU65zt to read more.
اب اگر آپ تحریک انصاف سے کسی ممبر سے کام کاج یا کسی قانون سازی سے متعلق سوال کریں تو وہ برملا کہتے ہیں ہمیں لوگوں نے مینڈیٹ فنڈز اور کاموں کے لیے نہیں دیا، عمران خان کی رہائی کے لئے دیا ہے۔ الیکشن میں ہمارا منشور محض خان کی رہائی تھا۔ عوام کی فلاح اس وقت ہمارا مسئلہ نہیں۔
اکنامک سروے 2026 کے مطابق خیبر پختونخوا کی ایک تہائی 1/3 سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یعنی کہ خیبر پختونخوا کے 1 کروڑ 40 لاکھ شہریوں کی ماہانہ آمدنی صرف اور صرف 8500 روپے یا اس سے بھی کم ہے۔ عمران خان کے ٹائیگرز کو کبھی اس پر سوال کرنے کی توفیق ہوئی؟
Academics write for each other, not for people.
Steven Pinker has spent over four decades doing the opposite, and thinks current academic writing is "enormous wasted effort."
"There's an awful lot of brilliant work, really smart people in academia. Why are they doing it? Just to entertain each other? Taxpayers pay for it. It should be accessible. Why should I have to read a paragraph five or six times?
It gets under my skin when academics devote so much brainpower into the scholarship and then just blow off the essential task of letting the world know what you've done."
@umairjav One of my life's biggest lies being a college student was that when I go to north america for grad studies I would be seeing NBA in same timezone. Never happened.