آج سے 40 سال پہلے جب آیت اللہ خامنہ ای سے پوچھا گیا: جنابِ صدر، آپ کا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟
آیت اللہ خامنہ ای نے جواب دیا
امریکہ اور پھر یہی مرد مجاہد سچا ثابت ہوا 💔
🚨🚨 بریکنگ نیوز
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ بازی پلٹ گئے
بلوچستان میں تحریک انصاف کی چرائی ہوئی سیٹ واپس دلوا دی سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری ہے
انشاءاللہ تمام 185 سیٹیں واپس ہوں گی
2019میں کاروباری سلسلے میں پاکستان گیا،عمران وزیراعظم تھے میں ، شین واٹسن اور ویوین رچررڈ عمران کو ملنے وزیراعظم آفس گئے۔ پندرہ منٹ کی ملاقات کو عمران 45 منٹ سے اوپر لے گئے وہ ہم سے مذاق کر رہے تھے باتیں شئیر کر رہے تھےوہ ہمیں مل کر خوش تھے۔ اس دوران ان کا چیف سٹاف آفیسر چلاتا رہا سر امریکی اور سعودی حکام ملاقات کے لئے منتظر ہیں لیکن عمران خان بھول کر ہم سے باتیں کرتے رہے۔ سابق آسٹریلن کرکٹ لیجنڈ گریگ چیپل
معید پیزادہ کا الارمنگ تجزیہ⚠️
رات گئے پندرہ کالے رنگ کی شیشوں والی گاڑیوں کا قافلہ عمران خان کو پمز ہوسپٹل لے کر گیا۔جیمنگ استعمال کی گئی۔
اس سے پتہ چلتا ہے گزشتہ ڈھائی برس سے انکے ایسٹس نے یہ کھپ ڈالی کہ عمران خان بہت ضدی ہے وہ کسی ڈیل پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے کہ پاکستان آج تک آگے اس لیے نہیں بڑھ سکا کیونکہ اسکی تمام تر زمہ داری عمران خان پر ہے اسکے اندر Arrogance ہے۔
اس اسٹیج پر عمران خان کی آنکھ نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ اس موقع پر کوئی سیاسی ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں تھی اگر ان لوگوں کی مستقبل میں کوئی سیاسی ڈائریکشن ہوتی تو یہ خود کہتے ہم یہاں سیاست نہیں کرسکتے عمران خان سابق وزیراعظم ہیں کروڑوں لوگوں انکے ساتھ ہیں وہ سیاست کا اہم جز ہیں اس لیے انکی صحت اور انسانی ہمدردی کے تقاضے پر یہ زمہ دار ریاست کے طور پر خود فیصلہ کرتے کہ جب تک عمران خان کا مکمل علاج نہیں ہو جاتا ہم انکو انٹرنشنل شفاء ہوسپٹل میں شفٹ کر رہے ہیں !
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ریاست کسی بھی اسٹیج پہ عمران خان کے ساتھ کسئ بھی قسم کی کوئی پولیٹکل ڈیل نہیں کرنا چاہتی تھی۔صرف آپٹیکس کے لیے کبھی رانا ثناللہ، شیرافضل مروت علی امین، محسن نقوی ،نجم سیٹھی یہ سب کہتے رہے۔
اب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا ہے۔ سیاہ اور سفید کھل کے سامنے آ گیا ہے۔اب سوال اٹھائیں انہوں نے عمران خان کی صحت کی صورتحال کو ایسے کیوں ٹریٹ کیا۔ انکی عمران خان کی لیے نیت اور ارادے کیا ہیں اس واقعے سے آپکو سمجھ آ جاتاہے ۔اسکا مطلب یہ ہے کہ عاصم منیر اور شریف خاندان نے مائنڈ بنا لیا ہے کہ عمران خان جیل سے کبھی باہر نہیں آئیں گے ہماری حکومت ایسے ہی چلتی رہے گی عمران خان سے کبھی کوئی پولیٹکل بات چیت نہیں ہو گی۔جب تک یہ اقتدار میں ہیں عمران خان کو جیل میں رہنا ہے24جنوری سے یہ بات واضح ہو گئی ہے۔
عمران خان کو پیمز ہسپتال لایا گیا نہ فیملی کے ساتھ رابطہ کیا گیا نہ ڈاکٹر کے ساتھ یہ جعلی حکومت کی ہٹ دھرمی ہے
اس سے ہمارے شک و شبہ بڑھ رہے ہیں وزیر اعلی سہیل خان آفریدی
ایک اور شرمناک دن۔ عمران خان کو چوری چھپے ہسپتال لانا۔ بغیر انکے خاندان کو بتائے اپنی مرضی کا علاج تھوپ دینا۔ یہ سفاکیت ہے۔ یہ علاج نہیں ہو رہ بلکہ جان بوجھ کر عمران خان کو نابینا کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے جس پر عمل ہو رہا ہے۔
اب صحافی کہہ رہے ہیں بیرسٹر گوہر اور محمود خان اچکزئی آن لائین ساتھ تھے۔ اگر یہ درست ہے تو اب یہ تو وہی بتا سکتے ہیں کہ بہنوں کا کیا قصور ہے۔ انکو شامل کیوں نہ کیا گیا۔
عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی کے لئیے دائر درخواست پر جسٹس ارباب طاہر نے 4 نومبر کو حکم دیا کہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں اُنکے وکیل سلمان اکرم راجہ کی ملاقات کرائی جائے مگر آج سماعت کے دوران عدالت نے اس مسئلے پر بحث کی اجازت نہ دی، سلمان اکرم راجہ کی عدم موجودگی میں ایڈوکیٹ علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے 26 جنوری کو سرکار سے رپورٹ طلب کی تھی کہ اس کیس میں وکیل کی اپنے موکل سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی، جسٹس ارباب طاہر نے اس معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ اگلی تاریخ پر اگر عمران خان کے وکیل نے بحث نہ کی تو ہم درخواست گذار کے دلائل سن کر فیصلہ سنا دینگے، ایڈوکیٹ علی بخاری نے کہا کہ اپنے موکل سے ملاقات اور ھدایات کے بغیر یہ مقدمہ کیسے لڑا جائے مگر عدالت نے ایک نہ سنی۔ کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی
رانا ثنا نے تسلیم کر لیا ہے کہ نومئی فالس فلیگ تھا اور 26 نومبر کو پی ٹی آئی کارکنان کا قتل عام کیا گیا ہے ،
رانا ثنا نے کہا اگر 26 نومبر اور نومئی پر کمیشن بناتے ہیں تو ہم خان کی جگہ پر جیل میں ہونگے اور خان ہماری جگہ پر ہوں گے .
اڈیالہ جیل پہنچو 🚨
خان صاحب سے آج بہنوں کی ملاقات کا دن ہے اس لئے لیڈرشپ، عہدے دار اور راولپنڈی اسلام آباد کے لوگ وقت پر اڈیالہ جیل پہنچ جائیں۔
گھروں سے نکلیں اور بہنوں کا ساتھ دیں کیونکہ خان صاحب کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں
پاکستانیوں کو repression نامی ٹول کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے جس کے 4 steps ہوتے ہیں۔ پہلا خوف پیدا کرو، دوسرا معلومات کو کنٹرول کرو، تیسرا لوگوں کو تقسیم کرو اور چوتھا تشدد کو normalise کر دو۔ اب آپ 2022 کے بعد سے دیکھ لیں یہ سب ہو رہا ہے، سید ذیشان
Al-Feroze Residencia, situated in Midway Commercial, Bahria Town, Lahore
A limited inventory remains available for booking with a 20-month payment plan, and possession is attainable within 6 months.
For bookings, please contact 📞 0300 8564055
#RealtorUmerKazmi#bahria#lahore
Grand Ramazan Offer 🌙✨
During this Ramazan, a remarkable opportunity is set to emerge at HS Ideal Tower.
Experience substantial discounts, exceptional downtown living, and an opportunity that should not be overlooked.
#hafizsajjadmotors#foryou#investmentadvisor#RealEstate