نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ پڑھے
*لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك ، وله الحمد ، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله ، وسبحان الله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، ولا حول ولا قوة إلا بالله*
( ترجمہ ) ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اللہ کی ذات پاک ہے ، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت “ پھر یہ پڑھے «اللهم اغفر لي» ( ترجمہ ) اے اللہ ! میری مغفرت فرما “ ۔ یا ( یہ کہا کہ ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ پھر اگر اس نے وضو کیا ( اور نماز پڑھی ) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے
صحیح بخاری جلد ٢ - ١١٥٤
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
جب بندہ الله سے حُسن ظن رکھتا ہے، اُس کی اُمیدیں مخلص ہوتی ہیں، اور وہ الله پر توکل کرنے میں سچا ہوتا ہے؛ تو الله اُسے اُس کے تمام عزائم کے حصول سے ذرا بھی مایوس نہیں کرتا!
امام ابن القيم رحمه اللہ
( مدارج السالكين : 469/1 )
❝When the morning comes upon you, do not expect to see the evening. And when you see the night, do not expect to see the morning.❞
The Prophet Muhammad ﷺ
اللہ تعالی کی نصرت شامل حال کرنے کا آسان طریقہ
آپ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔
ابوداود، جز ح
When Prophet Musa (AS) received the Tablets, he saw written about a nation that would come after him. He said, “My Lord, I see that there will be a nation where if one of them intends to commit a sin but leaves it out of fear of Allah, You will record it as a good deed. Make me from that nation.” Allah replied, “O Musa, that is the nation of Muhammad ﷺ.” Musa (AS) continued reading its virtues until he finally said, “My Lord, make me from the nation of Muhammad ﷺ.”
What an honor Allah gave this Ummah. A believer may struggle with temptation, desire, and sin, yet the moment he walks away solely for the sake of Allah, that abandoned sin becomes a reward written in his record. Every time you resist what Allah has forbidden, remember that your Lord sees the battle in your heart and rewards you for choosing Him over your desires.
قال النبي صلی اللہ علیہ و الہ وسلم:
إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُوْرَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهٗ مِنَ النُّوْرِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ
جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتا ہے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور روشن کر دیا جاتا ہے۔
{مستدرک حاکم۔۳۳۹۲}
حضرت شاہ غلام علی مجددی ؒ فرماتے ہیں:
دعا کرتے وقت انوار فائض ہوتے ہیں لیکن ان کا فرق کرنا کہ یہ انوارِ دعا ہیں اور یہ اجابتِ دعا مشکل ہے، بعضے کہتے ہیں کہ اگر دونوں ہاتھوں میں ثقالت معلوم ہو تو یہ دعا کے قبول ہونے کی علامت ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر انشراح صدر حاصل ہو تو یہ دعاکی قبولیت کی علامت ہے۔
حضرت شاہ محمد یعقوب مجددی ؒ فرماتے ہیں:
دعا کی قبولیت کے لئے بزرگی شرط نہیں دل شکستگی شرط ہے۔
(صحبتے با اہل دل، ص:۱۵۲)
حضرت شاہ محمد یعقوب مجددی ؒ فرماتے ہیں:
دعاؤں کے جو مضامین اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تلقین فرمائے ان سے پہلے قبولیت کا فیصلہ فرما لیا، جس طرح کوئی حاکم جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو امید وار کو خود ہی عرضی کا مضمون لکھوا دیتا ہے۔ یہ صرف ادعیۂ ماثورہ کی خصوصیت ہے۔ بزرگوں سے جو دعائیں منقول ہیں وہ اس مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتیں۔
(صحبتے با اہل دل، ص:۷۴)