﴿ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ﴾
- سُبحان الله
- الحَمد لله
- لا إله إلا الله
- الله أكبر
- لا حَول و لا قوة إلا بالله
- سُبحان الله و بِحمده
- سُبحان الله العَظيم
- أستغفِرُ الله الْعَلِيُّ الْعَظِيم وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
" دل کا زنگ غفلت اور خواہشات سے ہوتا ہے ، اور اس کی صفائی ذکر ، تو بہ اور استغفار سے ہوتی ہے ۔ "
( الوابل الصيب : 96)
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کے مقابلے میں آپ کی اپنی عقل، رائے یا خواہش کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے، تو پھر "مسلمان" ہونے کے مفہوم پر دوبارہ غور کیجیے۔
"مسلم" کا مطلب ہی ہے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا، اس کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا،
وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ
اور ان پر ذلت اور محتاجی (مسکنت) مسلط کر دی گئی، اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق بن گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے